ابان ابن ابی عیاش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابان ابن ابی عیاش
معلومات شخصیت
پیدائشی نام ابان بن ابی عیاش
رہائش بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو اسماعیل
لقب البصرى العبدى
عملی زندگی
طبقہ تابعین
ابن حجر کی رائے مختلف فیہ
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابان ابن ابی عیاش ابو اسماعیل کنیت تھی۔ اواخر تابعین میں سے ہیں۔ فارسی النسل تھے۔ ان کے والد کا نام فیروز تھا۔دینار بھی ان کا نام کہا گیا ہے۔ وہ عبد قیس کے غلام تھے۔ کئی شیعہ ائمہ یعنی امام سجاد، امام باقر، امام جعفر صادق اور امام موسی کاظم کے اصحاب میں سے تھے۔ بہت اچھی قرائت قرآن فرماتے تھے۔ مالک بن دینار نے انہیں قرآء کا مور (طاووس) کہا ہے۔[1] انہوں نے متعدد احادیث روایت کی ہیں مگر اکثر سنی علما حدیث ان کو متروک مانتے ہیں ان میں شمس الدین الذہبی اور احمد شامل ہیں۔[2] ان کی وفات تقریباً 140ھ میں ہوئی۔[3]

کچھ سُنی اورکچھ شیعہ رجال شناسوں نے ابن ابی عیاش کی توثیق نہیں کی[4] البتہ کچھ شیعہ رجال شناسوں مثلاً میرزا حسین نوری[5] اور عبد اللہ مامقانی[6] نے اسے موثق قرار دیا ہے۔ لیکن ان کے دلائل اس بارے میں موثر نہیں اور محدثین اہل سنت نے اسے ناقابل اعتماد لوگوں میں شمار کیا ہے۔[7]

حالات زندگی[ترمیم]

15 سال کی عمر میں ابان کی ملاقات سلیم بن قیس سے ہوئی جنہوں نے ان کو شیعہ ائمہ کے بارے میں بتایا۔ اور ان کو سلیم کی کتاب کی ذمہ داری سوپنی۔

واقعہ کربلا کے وقت وہ اپنی عمر کی جوان بہاریں دیکھ رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد وہ شیراز گئے اور پھر بصرہ کا رخ کیا جہاں ان کی ملاقات حسن بصری سے ہوئی جن سے انہوں نے کتاب سے توثیق کے بارے میں پوچھا۔ حسن بصری نے جواب دیا “یہ مکمل سچ ہے“۔ اس کے بعد ابان مکہ گئے اور بہت سے صحابی اور تابعین کے ملاقات کی اور ان تمام نے کتاب میں بیان کردہ تمام واقعات کی توثیق کی۔ وہ اس وقت بھی کتاب کے واقعات کے بارے میں تردد کا شکار تھے لہذا وہ امام زین العابدین کے پاس گئے جو ان دنوں مکہ میں ہی مقیم تھے۔

ابان، دو معزز صحابی اور دو شیعہ امام محمد باقر اور جعفر صادق کو امام زین العابدین کے پاس لیکر آئے۔ اب امام زین العابدین کے پاس دو بزرگ صحابہ: ابو طفیل اور عمر بن ابی سلمه موجود تھے۔ امام نے ایک صحابی سے اس کتاب کو پڑھنے کو کہا اور وہ تین دنوں تک کتاب پڑھتے رہے۔ جب کتاب مکمل ہوئی تو امام نے فرمایا کہ یہ کتاب برحق ہے۔ یوں اس کے کی توثیق مکمل ہوئی۔

روایت حدیث کے معاملے ابان پر بھروسا نہیں کیا جاتا ہے۔ اہلسنت محدثین ان کی احادیث قبول نہیں کرتے ہیں۔ ان پر رافضی ہونے کا الزام لگایاہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب پر بارے روایات نقل کی ہیں جن میں کہا گیا کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب کے گھر پر حملہ کیا تھا اور دروازہ کو جلایا اور توڑا جس کے گرنے سے حضرت فاطمہ زہرا زخمی ہوئیں اور ان کا حمل وضع ہو گیا۔ اور محسن بن علی شہید ہو گئے۔

علما علم اسماء الرجال ان کے بارے میں[ترمیم]

ان کے بارے علماء میں اختلاف ہے۔

  • تہذیب الکمال میں مزی عمروبن علی کا قول نقل کرتے ہیں: ابان بن عیاش (ابان بن فیروز) انس اور عبد قیس کے غلام ہیں، متروک الحدیث ہیں، نیک آدمی ہیں، ان کی کنیت ابو اسماعیل ہے۔
  • ایک جگہ لکھتے ہیں: یحی اور عبد الرحمن ان سے روایت نہیں کرتے تھے۔
  • امام محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: وہ شیعہ ہیں اور ان کے بارے میں اچھی آرا نہیں ہیں۔
  • احمد بن شعیب النسائی نے کہا: وہ متروک الحدیث ہیں۔
  • ابو حاتم الرازی نے کہا: متروک الحدیث ہے، حالانکہ نیک آدمی تھا مگر اس کا حافظہ ضعیف تھا۔

ابن المدینی نے کہا: وہ ضعیف ہے۔

  • حاکم ابو احمد نے کہا: وہ منکر حدیث ہے۔ یحیی، ابو عوانہ اور عبد الرحمن نے اس سے احادیث ترک کی ہیں۔[2][3][8]

اساتذہ[ترمیم]

ابان بن ابی عباس کے اساتذہ مندرجہ ذیل ہیں۔[2][3][8]:-

  1. ابراہیم بن یزيد النخعی
  2. انس بن مالک
  3. حسن بصری
  4. خلید بن عبد اللہ العصری
  5. الریع بن لوط
  6. رفیع ابی العالیہ الریاحی
  7. سعید بن جبیر
  8. شہر بن حوشب
  9. عطاء بن ابی رباح
  10. مسلم بن یسار
  11. مسلم البطین
  12. مورق العجلی
  13. ابی الصدیق الناجی
  14. ابی نضرہ العبدی

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں۔[2][3][8]:-

  1. ابراہیم بن ابی بكرہ الشامی
  2. ابراہیم بن عبد الحمید بن ذى حمایہ
  3. ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الفزاری
  4. ارطاہ بن المنذر
  5. بكر بن خنیس
  6. الحارث بن نبہان
  7. الحسن بن ابی جعفر
  8. الحسن بن صالح بن حی
  9. حفص بن جمیع
  10. حفص بن عمر الابار ، قاضى حلب
  11. حماد بن سلمہ
  12. حماد بن واقد
  13. خلیل بن مرہ
  14. داود بن الزبرقان
  15. زید بن حبان الرقی
  16. سعید بن بشیر
  17. سعید بن عامر الضبعی
  18. سفیان ثوری
  19. شہاب بن خراش
  20. صالح المری
  21. طعمہ بن عمرو الجعفری
  22. عباد بن عباد المہلبی
  23. عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان
  24. عبد الرحیم بن واقد
  25. عمران القطان
  26. عنبسہ بن عبد الرحمن القرشی
  27. فضیل ابن عیاض
  28. محمد بن جحادہ
  29. محمد بن الفضل بن عطیہ
  30. معمر بن راشد
  31. ابو حینفہ نعمان بن ثابت
  32. یزید بن ہارون
  33. ابو عاصم العبادانی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تہذیب التہذیب۔ ص 99۔
  2. ^ ا ب پ ت كتاب : سير اعلام النبلاء ، المؤلف : شمس الدين ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى : 748هـ)، الناشر : مؤسسة الرسالة ، الطبعة : الثالثة ، 1405 هـ / 1985 م
  3. ^ ا ب پ ت كتاب: تهذيب الكمال في أسماء الرجال، مؤلف: يوسف بن عبد الرحمن بن يوسف، أبو الحجاج، جمال الدين ابن الزكي أبي محمد القضاعي الكلبي المزي (المتوفى: 742هـ)، الناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت ،الطبعة: الأولى، 1400–1980
  4. طوسی، رجال، ص106؛ علامه حلّی، ص99؛ حلّی، ص414
  5. نوری، حسین بن محمدتقی، مستدرک الوسائل، تهران، 1318-1321ق، ج3، ص32
  6. مامقانی، عبداللـه. تنقیح المقال، نجف، 1351ق، ج1، ص3
  7. نسائی، ص47؛ دارقطنی، ص285؛ جوزجانی، ص102؛ ابن حجر، تهذیب التهذیب، ج1، ص98، به نقل از احمدبن حنبل
  8. ^ ا ب پ كتاب: تهذيب التهذيب ،المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) ، الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند ، الطبعة: الطبعة الأولى، 1326هـ