ابو الفضل برقعی قمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آیت اللہ العظمی ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 19 جون ، 1908ء
تاریخ وفات 1993ء
شہریت ایران
مذہب اسلام
فقہ شیعہ علی
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سید ابوالفضل برقعی (مکمل نام: سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی، متولد 1287 - وفات 1370)، مشہور ایرانی مصلحین اور اہل قرآن شیعہ میں سے ہوتا ہے،جو ایک مفسر،محدث،مناظر اور مورخ ہونے کے علاوہ ایک عظیم مجتہد و فقیہ بھی تھے۔[1]

خاندان اور جوانی[ترمیم]

آپ قم کے ایک شیعہ مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے[2]۔ آپ کے والد ایک زاہد اور عبادت گزار شخص تھے۔ آپ کی والدہ سکینہ سلطان تھیں جو شیخ غلام رضا قمی کی بیٹی تھیں۔

تعلیم اور نجف کا سفر[ترمیم]

آپ نے دس سال کی عمر میں مکتب میں قدم رکھا۔[2] تعلیم و قرائت قرآن سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ بعد میں شیخ عبد الکریم حائری جو مشہور شیعہ مجتہد تھے ان سے علم فقہ و اصول فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر آپ نجف چلے گئے اور تین سال وہاں مرجع شیعہ سید ابوالحسن اصفہانی سے کسب علم کیا۔ برقعی نے ایران واپس آنے سے پہلے سید ابوالحسن اصفہانی سے، تصدیق اجتہاد حاصل کی۔ . ایران واپس آکر آپ نے تدریس و تحقیق اور علوم دینی، مسائل سیاسی میں مشغول ہو گئے۔ . آپ نے سید ابوالقاسم کاشانی سے مراسم اور ہم نشینی اختیار کی۔ آپ نے مسجد گزر وزیردفتر میں هطویل عرصے مسلمانوں کو جہل و نادانی سے دور کرنے کیلے وعظ اور دروس کا سلسلہ شروع کیا۔

اولاد[ترمیم]

سید ابوالفضل برقعی کی اولاد میں دو بیٹے اور تین بیٹاں تھیں جیسا کہ ان کی سوانح میں ذکر ہے۔ آپ کی اولاد کے نام یہ ہیں :

  • سید حسن برقعی
  • سید حسین برقعی
  • سیدہ زہراء برقعی
  • سیدہ انیسہ برقعی
  • سیدہ فاطمہ برقعی

شاگرد[ترمیم]

آپ کے کافی شاگرد حوزہ علمیہ قم میں آپ کی 20 سالہ تدریس کے دوران آپ سے مستفید ہوئے۔ چنانچہ برقعی نے اپنی کتاب سوانح ایام میں جن شاگردوں کا تذکرہ کیا ہے،جو بعد از انقلاب اہم عہدوں پر فائز رہے، وہ یہ ہیں

  • شیخ محی الدین انواری
  • شیخ محمدی گیلانی
  • شیخ لاہوتی
  • شیخ محمد رضا مہدی کنہ
  • شیخ عباس محفوظی
  • شیخ سید رضا برقعی

اصلاحی کاموں کی طرف رغبت[ترمیم]

سید اللہ برقعی نے 45 سال کی عمر تک اہل تشیع مذہب کے دفاع میں درجنوں کتابیں لکھیں۔ جن میں عقل ودین "[3]" اور "التفتیش" نامی کتب بھی شامل ہیں۔ بہت جلد آپ کو احساس ہوا کہ اہل تشیع میں بہت سی رسومات و خرافات ہیں جن کا دور رسالت و دور ائمہ معصومین میں ذکر نہیں ملتا۔ چنانچہ آپ نے اصلاح شیعت کیلے اپنی زندگی وقف کرنے کی ٹھانی۔

علم حدیث کی خدمات[ترمیم]

آپ نے شیعہ راویون کے احوال اور ان سے متعلق احکامات پر مشتمل علم رجال کی ایک اعلی کتاب تراجم الرجال "[4]" لکھی،جو دس جلدوں پر مشتمل تھی۔

تفسیری خدمات[ترمیم]

آپ نے سولہ سو صفحات پر مشتمل ایک تفسیر قرآن " تفسیر تابشی از قرآن" لکھی جو فرقہ پرستی سے آزاد اور غیر جانبدار انہ طور سے لکھی۔ اس کے مقدمہ میں یہ باور کرایا کہ قرآن مجید سب کیلے قابل فہم اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔

دیگر کتب[ترمیم]

  • حواشی بر صلواۃ ہمدانی
  • فہرست عقائد شیخیہ از مقابل اسلام
  • عقل و دین
  • مجموعہ ای از اشعار
  • مجموعہ ای از اخلاق
  • تراجم الرجال دس جلدیں
  • اربعین از احادیث معصومین علیہم السلام
  • رسالہ پیش آہنگی و آزتش اسلامی
  • خزینۃ الجواہر کلمات امام باقر علیہ السلام
  • حواشی بر کتب ھدیث
  • جبر و تفویض
  • تراجم النساء تین جلدیں
  • تحفۃ الرضوی
  • فہرستی در مواعظ
  • ترجمہ مختار ثقفی
  • ترجمہ بعضی از ادعیہ
  • اصول عقائد
  • ترجمہ مقداری از وسائل الشیعہ
  • دلیل برائے حکم ریش و سبیل
  • ترجمہ مقداری از توحید صدوق
  • حافظ شکن
  • جداول ارث
  • سرگزشت مرحوم شہید نوری
  • پاسخ بکسروی
  • گلشن قدس یا عقائد منظوم
  • فہرست عقائد حقہ امامیہ
  • شعر و موسیقی و مصالح و مفاسد آں
  • توضیح بعضی از اخبار مشکلہ
  • فوائد در اصول
  • فوائد در فقہ
  • فوائد در اخلاق
  • گنج سخن کلمات امام حسن علیہ السلام
  • عقائد امامیہ اثنا عشریہ
  • عقائد شیخیہ و تضاد آں با اسلام
  • ترجمہ العواصم والقواصم
  • نکاتی در روانشناسی
  • مجموعہ ای از اندرز
  • پند خردمند برائے فرزند دلبند
  • الفیہ در صرف و نحو بہ نظم عربی
  • منظومہ در اسمائے الہی
  • ترجمہ جامع الدروس
  • ترجمہ کتاب شبہات
  • زندگانی سید جمال الدین اسد آبادی
  • جوابی بہ اجمال بہ کتاب بیست و سہ سال
  • تحریم متعہ در اسلام
  • ترجمہ کتاب الفقہ علی المذاہب الخؐمسہ
  • * احکام القرآن
  • بررسی خطبہ غدیریہ
  • نقد المراجعات و الرد علیہا
  • تفسیر تابشی از قرآن چار جلدیں
  • حکومت جمہوری اسلامی
  • مثنوی منطقی
  • دعبل خزاعی و قصیدہ تانیہ او
  • دیوان حافظ شکن
  • بررسی دعا ندبہ
  • اسلام دین کار و کوشش است
  • ترجمہ احکام القرآن شافعی
  • عقیدہ اسلامیہ
  • تعدد زوجات رسول ﷺ و مصلحت آں
  • ترجمہ مسند امام زید علیہ السلام
  • ترجمہ صحیفہ علویہ
  • درسی از ولایت
  • اشکالات بہ کتاب درسی از ولایت و داوری در آں
  • حدیث الثقلین یا نصب الشیخین
  • جوابات اشکالات بر کتاب درسی از ولایت
  • کلمہ طیبہ شیخ نوری تصحیح
  • بحار الانوار تصحیح

برقعی کے متعلق ایک سنی عالم کے اشعار[ترمیم]

برقعی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سید محمد شافی قرشی نے مندرجہ ذیل اشعار کہے :

نورت عين معشر الاسلام، بينت حكم احسن الميزان

دمرت كل بدعة ضلالة، احرقت اصل الشرك والخسران

كسرت ظهر معشر الجهال، اغلقت باب الشر الدكان

جادلت كل من به عناد، لا يقبل الحق من الانسان

اعلنت ان الافتراق شرك، لايحسن لصاحب الايمان

والمسلمون كلہم اخوان ،شقاقہم كان من الشيطان

ايدك الله لهذا الدعوة، يجزيك عنا الله بالاحسان

يحشرك الله مع النبي، واله بحرمة القرأن

(سيد محمد شافي قرشي)

"آپ نے اھل اسلام کی آنکھوں کو روشن کیا،آپ نے قرآن کے احکام بیان کیے،آپ نے ھر بدعت وگمراھی کو مٹا ڈالا،آپ نے شرک اور خسارے کے جڑ کو جلا ڈالا۔ آپ نے اھل جہالت کی کمر توڑ ڈالی۔ شریر(بدعتی) لوگوں کے دکان کے دروازے آپ نے بند کیے .جس نے بھی حق کو قبول کرنے سے عناد ظاھر کیا، آپ نے اس سے جدال کیا،آپ نے برملا کہا کہ فرقے بنانا شرک ہے۔ اور صاحب ایمان کے لائق نہیں کہ فرقہ بندی کرے .تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں جو ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہے وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ آپ کی مدد کرے اس دعوت میں! اللہ احسان کے بدلے احسان کرے .اللہ آپ کو محمد وآل محمد ص کے ساتھ محشور کرے .آمین"

آغا سید محمد شافی قرشی،کتاب تابشی از قرآن مقدمه

سید ابوالفضل برقعی کا خلفائے راشدین کے متعلق نظریہ[ترمیم]

سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی کتاب شاہراہ اتحاد میں فرماتے ہیں :

"حضرت اسداللہ وحیدر کرار کا ارادت مند ہونے کے ناتے اس جگہ میں آپ ع کے چند کلمات/ارشادات کا ذکر کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین محترم اس موضوع پر نئے سرے سے غور کریں .علی ع نے جو خط قیس بن سعد بن عبادہ کے ذریعے اھل مصر کے نام بھیجا،کتاب الغارات ثقفی صفحہ 210 جوایک شیعی کی کتاب ہے اور الدرجات الرفیعہ سیدعلی خان شوستری صفحہ 336 اور تاریخ طبری صفحہ 550 جلد سوم پر آپ ع کے خط کا ذکر ہے جہاں علی ع نے فرمایا: فلما قضی من ذلک ما علیہ،قبضہ اللہ عزوجل صلی اللہ علیہ ورحمتہ وبرکاتہ،ثم ان المسلمین استخلفوا بہ امیرین صالحین عملا بالکتاب والسنۃ احسنا السیرۃ ولم یعدو السنۃ،ثم توفھااللہ عزوجل 'جب رسول اللہ ص نے اپنی ذمہ داری(دین پہنچانا) کو مکمل کیا تواللہ تعالی نے ان کا روح قبض کیا(فوت ھوئے)،اللہ کی رحمت و برکات اور درود ھو آپ پر۔ پھر آپ ص کے بعد دو امیر(حاکم) مسلمانوں کے خلیفہ بنے جو دونوں صالح (نیک)تھے،دونوں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے نیک سیرت تھے۔ان دونوں نے سنت رسول سے تجاوز نہیں کیا،پھر ان دونوں(ابوبکروعمر) کو بھی اللہ نے موت دی ( اللہ کی رحمت ھو ان دونوں پر)

اور نھج البلاغہ خطبہ نمبر 228 میں علی ع نے خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے متعلق تعریف کی اور فرمایا:

فقد قوم الاود وداوی العمد واقام السنۃ وخلف الفتنۃ،ذھب نقی الثوب قلیل العیب اصاب خیرھا وسبق شرھا ادی الی اللہ طاعتہ واتقاہ بحقه '(عمر کی کارکردگیوں کی جزا اللہ دے) انہوں نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا، مرض کا چارہ کیا۔ فتنہ و فساد کو پیچھے چھوڑ گئے۔ سنت کو قائم کیا صاف ستھرے دامن اور کم عیبوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ (دنیا کی) بھلائیوں کو پا لیا اور اُس کی شر انگیزیوں سے آگے بڑھ گئے۔ اللہ کی اطاعت بھی کی اور اس کا پورا پورا خوف بھی کھایا۔ "

آیت اللہ سید ابوالفضل برقعی رضوی جو دفاع انصارو مہاجرین پر ایک کتاب"رھنمود سنت و رد اھل بدعت" لکھ چکے .آپ کتاب شاہراہ اتحاد بررسی نصوص امامت میں فرماتے ہیں :

"امامیہ کی قدیم کتابیں اس بات کی شاھد ہیں کہ علی ع نے خلفاء کی تعریف و تمجید کی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر کے متعلق علی ع نے فرمایا: فتولی ابوبکر ففارق واقتصد 'ابوبکر حاکم بنے اور راہ اعتدال کو اپنا کر فوت ھوئے '(کشف المحجۃ لثمرہ المھجہ،سید ابن طاؤوس ،چاپ نجف 1370 ھ،صفحہ 177)

اور حضرت عمر کے متعلق فرمایا: تولی عمر الامر وکان مرضی السیرۃ میمون النقیہ 'عمر خلیفہ بنے اور آپ پسندیدہ سیرت اور فرخندہ نفس والے شخص تھے '(الغارات، ابو اسحاق ثقفی الجزء الاول صفحہ 308)

اور ان دونوں ابوبکر وعمر کے بارے میں علی ع نے فرمایا: احسنا السیرۃ وعدلا فی الامۃ 'ابوبکر و عمر نیک سیرت والے تھے اور امت میں دونوں نے عدل قائم کیا۔'(وقعۃ الصفین صفحہ 201)

اور کیوں علی ع نے حضرت عمر کو اپنا داماد بنایا؟؟(منتھی الآمال شیخ عباس قمی،صفحہ 186،وسائل الشیعہ جلد 5،کتاب الصلوۃ صفحہ 383)

اور کیوں(بقول آپ لوگوں کے ) غاصبین خلافت کے نام پر اپنے فرزندوں کے نام رکھے(الارشاد شیخ مفید،دارالمفید للطباعۃ والنشر،جلد 1 ص 354، منتھی الآمال صفحہ 88 و 382)"

آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی رضوی مرحوم،متوفی 1993 عیسوی

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

آیت اللہ العظمی ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی کی کتابیں