اسٹیفن ہاکنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسٹیفن ہاکنگ
(انگریزی میں: Stephen Hawking ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Stephen Hawking.StarChild.jpg  اسٹیفن ہاکنک 1974ہ میں  ویکی ڈیٹا پر تصویر (P18) کی خاصیت میں تبدیلی کریں 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Stephen William Hawking ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 8 جنوری 1942[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوکسفرڈ[8]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 مارچ 2018 (76 سال)[5][9][10][7][4][11][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کیمبرج[9]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ویسٹمنسٹر ایبی[12]  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش انگلستان  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ[13]  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب الحاد[14][15]  ویکی ڈیٹا پر مذہب (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی آف آرٹ، امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی[16]، قومی اکادمی برائے سائنس[17][18]، رائل سوسائٹی[19]، امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ جیر وایلڈ ہاکنگ (14 جولا‎ئی 1965–1991)[20]
Elaine Mason (1995–2006)  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد لوسی ہاکنگ، رابرٹ ہاکنگ، ٹم ہاکنگ  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی کالج، اوکسفرڈ (اکتوبر 1959–1962)
ٹرنٹی ہال (اکتوبر 1962–مارچ 1966)[21]  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم طبیعیات  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے،ڈاکٹریٹ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر ڈنیس ولیم سياما  ویکی ڈیٹا پر ڈاکٹورل مشیر (P184) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ ڈنیس ولیم سياما  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری طلبہ ڈان پیج  ویکی ڈیٹا پر ڈاکٹورل شاگرد (P185) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ڈان پیج  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ نظری طبیعیات، ماہر کونیات، ماہر فلکی طبیعیات، ریاضی دان[22][23]، ماہر تعلیم، سائنسی مصنف، استاد جامعہ، مصنف[24][25]، طبیعیات دان[26]، غیر فکشن مصنف، ماہر فلکیات[27]، سائنس دان[28]، ٹیلی ویژن اداکار، محقق، آپ بیتی نگار، سائنس فکشن مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[29]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل عمومی اضافیت، نظری طبیعیات، کونیات  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت گنول اور کائس[30]، شعبۂ ریاضی، جامعہ کیمبرج[30]، پریمیٹر انسٹی ٹیوٹ برائے نظریاتی طبیعیات[31]، جامعہ کیمبرج[32][19]  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں وقت کی مختصر تاریخ[33]، کائنات کا مکمل ترین نظریہ[34]، میری مختصر تاریخ  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر پال ڈیراک، برٹرینڈ رسل، کارل پاپر، آئن سٹائن  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Presidential Medal of Freedom (ribbon).png صدارتی تمغا آزادی (2009)[35]
کاپلی میڈل (2006)[36][37]
تمغا البرٹ (1999)[38]
وولف انعام برائے طبیعیات  (1988)[39]
فرینکلن میڈل (1981)[40]
تمغا البرٹ آئن سٹائن (1979)[41]
ہیگس میڈل (1976)[42]
رائل سوسائٹی فیلو  (1974)
Lint Orde van het Britse Rijk.jpg آرڈر آف دی برٹش ایمپائر  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Hawkingsig.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی)  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اسٹیفن ہاکنگ (برطانوی املا کے مطابق اسٹیون ہوکنگ) (انگریزی: Stephen Hawking، تلفظ: سنیےi/ˈstvən ˈhɔːkɪŋ/؛) بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کے معروف ماہر طبیعیات تھے۔ انھیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات (کونیات) کے میدان میں ہے۔ ان کی ایک کتاب وقت کی مختصر تاریخ یعنی A brief History of Time ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک نہایت اعلیٰ پائے کی کتاب ہے جس سے ایک عام قاری اور اعلیٰ ترین محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ ایک خطرناک بیماری سے دو چار تھے اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے تھے۔ لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی يہ بیماری ان کو تحقيقی عمل سے روک نہ سکی۔

حالات زندگی[ترمیم]

شاید وہ شخص جس نے اپنے آپ کو بلیک ہول اور ٹائم مشین سے متعلق ریاضی کی موٹی موٹی مساوات سے سب سے زیادہ ممتاز کیا ہے وہ ماہر کونیات اسٹیفن ہاکنگ ہے۔ اضافیت کے دوسرے طالبعلموں کی طرح جنہوں نے اکثر اپنے آپ کو ریاضیاتی طبیعیات میں اپنے عہد شباب میں ہی ممتاز منوا لیا تھا، ہاکنگ اپنی جوانی میں کوئی خاص قابل ذکر طالبعلم نہیں تھا۔ بظاہر طور پر وہ انتہائی روشن ہونے کے باوجود اس کے استاد اکثر اس بات کو نوٹ کرتے تھے کہ وہ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس نے کبھی بھی اپنی پوری قابلیت کا استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر ایک 1962ء میں نقطۂ انقلاب آیا۔ اس نے آکسفورڈ سے جب سند حاصل کی اس کے بعد پہلی دفعہ اس نے بغلی دماغ کی خشکی یا لو گیرگ بیماری(Amyotrophic lateral sclerosis, or Lou Gehrig’s Disease) کی علامات کو محسوس کیا۔ اس خبر نے اس پر بجلی گرا دی جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ موٹر نیوران جیسے ناقابل علاج مرض کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ مرض ان عصبانیوں کو تباہ کر دے گا جو اس کے جسم کے تمام حرکت دینے والے افعال کو قابو میں رکھتے ہیں نتیجتاً وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے گا اور جلد ہی دار فانی سے کوچ کر جائے گا۔ شروع میں تو یہ خبر انتہائی دل گرفتہ تھی۔ پی ایچ ڈی کرنے کا کیا فائدہ ہوتا جب اس نے جلد ہی مر جانا تھا؟

ایک دفعہ جب اسے یہ جھٹکا مل گیا تو پھر اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی توجہ کو ایک جگہ مرتکز کر لیا، اس نے اضافیت کے انتہائی مشکل سوالات سے نمٹنا شروع کر دیا۔ 1970ءکی دہائی کے شروع میں ہی اس نے اپنے امتیازی مقالوں کے سلسلے کو شایع کروانا شروع کیا جس میں اس نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آئن سٹائن کے نظریہ میں "وحدانیت "(جہاں ثقلی قوّت لامتناہی بن جاتی ہے، جیسے کہ کسی بلیک ہول کے مرکز میں اور بگ بینگ کی ساعت کے وقت ہوا تھا ) اضافیت کا ایک ناگزیر حصّہ ہے اور اس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (جیسا کہ آئن سٹائن سمجھتا تھا)۔1974ء میں ہاکنگ نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ بلیک ہول مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں، وہ بتدریج شعاعوں کا اخراج کر رہے ہیں جس کو اب ہاکنگ کی اشعاع کہتے ہیں کیونکہ اشعاع بلیک ہول کے ثقلی میدان سے بھی گزر کر نکل سکتی ہیں۔ اس مقالے نے پہلی دفعہ کوانٹم نظریہ کے عملی اظہار کو نظریہ اضافیت پر برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اور یہ ابھی تک اس کا سب سے شاندار کام ہے۔

جیسا کہ امید تھی ویسا ہی ہوا۔ اس کی بیماری نے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ، پیر اور زبان کو مفلوج کر دیا۔ لیکن بیماری کے اثر کی شرح اس سے کہیں سست رفتار تھی جتنی کہ ڈاکٹروں کو شروع میں امید تھی۔ اس کے نتیجے میں اس نے کئی حیرت انگیز سنگ میل عبور کر لیے جو عام لوگ عام زندگی میں حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہ تین بچوں کا باپ بن گیا۔ (اب تو وہ دادا بھی بن گیا ہے۔ ) اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس نے چار سال بعد اس شخص کی بیوی سے شادی کر لی جس نے اس کے لیے آواز کو پیدا کرنے والا آلہ بنایا تھا۔ بہرحال اپنی اس بیوی کو بھی اس نے 2006ء میں طلاق دینے کے لیے دستاویز کو جمع کروا دیا ہے۔ 2007ء میں اس نے اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی جب وہ غیر ملک ایک جیٹ طیارے میں گیا جس نے اس کو بے وزنی کی حالت میں فضاء میں بلند کیا اور یوں اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی۔ اب اس کا اگلا مقصد خلا میں جانا ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا اگلا مقصد خلا میں جانا ہے۔

آج تو وہ مکمل طور پر اپنی ویل چیئر پر مفلوج ہے اور دنیا سے اس کا رابطہ صرف آنکھوں کے اشاروں سے رہتا ہے۔ اس مار دینے والی بیماری کے باوجود وہ اب بھی مذاق کرتا ہے، مقالات لکھتا ہے، لیکچروں کو دیتا ہے اور مختلف قسم کے تنازعات میں الجھا رہتا ہے۔ وہ اپنے آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ ان سائنس دانوں کی ٹیم کی بہ نسبت جن کو اپنے اوپر پورا قابو ہے کہیں زیادہ کام کا ہے۔ (اس کے کیمبرج یونیورسٹی کے رفیق سر مارٹن ریس ہیں جن کو ملکہ نے شاہی فلکیات دان نامزد کیا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہاکنگ کی بیماری اس کو تھکا دینے والے اعداد شمار کے حساب کتاب سے دور رکھتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اس کھیل میں اپنے آپ کو سر فہرست نہیں رکھ سکا لہٰذا اب وہ نئے اور تازہ خیالات کو تخلیق کرنے میں اپنی ساری توجہ صرف کیے ہوئے ہے جبکہ مشکل اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں اس کے طالبعلم ہی اس کی مدد کرتے ہیں۔ )

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

1990ء میں ہاکنگ نے جب اپنے رفقائے کاروں کے مقالات کا مطالعہ کیا جس میں ٹائم مشین کو بنانے کا ذکر تھا تو وہ فوری طور پر اس بارے میں متشکک ہو گیا۔ اس کے وجدان نے اس کو بتایا کہ وقت میں سفر کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ مستقبل سے آیا ہوا کوئی بھی مسافر موجود نہیں ہے۔ اگر وقت کا سفر کرنا اتنا آسان ہوتا کہ جیسے کسی سیر و تفریح پر جانا تو مستقبل سے آئے ہوئے سیاح اپنے کیمروں کے ساتھ ہمیں تنگ کرنے کے لیے یہاں موجود ہوتے اور ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی درخواست کر رہے ہوتے۔

ہاکنگ نے ایک چیلنج دنیائے طبیعیات کو بھی دیا۔ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو وقت کے سفر کو ناممکن بنا دے۔ اس نے وقت کے سفر سے روکنے کے لیے قوانین طبیعیات کی طرف سے ایک "نظریہ تحفظ تقویم" (Chronology Protection Conjecture) پیش کیا ہے تاکہ "تاریخ کو مورخوں کی دخل اندازی سے بچایا جا سکے "۔

وفات[ترمیم]

14 مارچ 2018ء بروز بدھ اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

http://www.jahanescience.com/2015/08/Time-Travel.html?spref=fb

سماجی میڈیا[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6nk63ht — بنام: Stephen Hawking — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?37485 — بنام: Stephen Hawking — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب Stephen Hawking dies aged 76 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 مارچ 2018 — ناشر: بی بی سی — شائع شدہ از: 14 مارچ 2018
  6. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/513542 — بنام: Stephen Hawking — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب NooSFere author ID: https://www.noosfere.org/livres/auteur.asp?numauteur=2147187108 — بنام: Stephen HAWKING — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. اجازت نامہ: CC0
  9. ^ ا ب Stephen Hawking, modern cosmology's brightest star, dies aged 76 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 مارچ 2018 — ناشر: دی گارجین — شائع شدہ از: 14 مارچ 2018
  10. Prajavani
  11. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000019246 — بنام: Stephen William Hawking — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  12. https://www.francetvinfo.fr/monde/royaume-uni/stephen-hawking-sera-enterre-au-cote-de-newton-et-darwin-a-l-abbaye-de-westminster_2666542.html
  13. https://web.archive.org/web/20170324032948/http://jeugdliteratuur.org/auteurs/stephen-hawking
  14. http://www.elmundo.es/ciencia/2014/09/21/541dbc12ca474104078b4577.html
  15. http://time.com/5199149/stephen-hawking-death-god-atheist/
  16. http://www.amphilsoc.org/memhist/search?creator=hawking&title=&subject=&subdiv=&mem=&year=&year-max=&dead=&keyword=&smode=advanced
  17. http://www.nasonline.org/member-directory/members/62159.html
  18. http://www.nasonline.org/member-directory/members/62159.html
  19. ^ ا ب http://www.damtp.cam.ac.uk/people/s.w.hawking/ — اخذ شدہ بتاریخ: 17 مارچ 2018
  20. https://science.howstuffworks.com/dictionary/famous-scientists/physicists/stephen-hawking1.htm
  21. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.repository.cam.ac.uk/handle/1810/251038 — مصنف: اسٹیفن ہاکنگ — عنوان : Properties of expanding universeshttps://dx.doi.org/10.17863/CAM.11283
  22. http://www.theguardian.com/education/2006/sep/06/highereducation.uk1
  23. http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2009/04/20/AR2009042001571.html
  24. http://bleacherreport.com/articles/1241120-nba-rumors-post-draft-updates-for-each-team
  25. http://www.theguardian.com/books/belief/audio/2010/sep/10/booker-shortlist-seamus-heaney-stephen-hawking
  26. http://www.nytimes.com/2009/08/16/weekinreview/16lyall.html
  27. http://www.comicvine.com/stephen-hawking/4005-8290/forums/disabled-speech-bubbles-1472615/
  28. http://www.bbc.co.uk/news/science-environment-16125147
  29. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120395478 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  30. Professor Stephen Hawking — ناشر: جامعہ کیمبرج
  31. Physicist Stephen Hawking accepts post at Waterloo institute — ناشر: ٹورانٹو اسٹار — شائع شدہ از: 27 نومبر 2008
  32. http://news.bbc.co.uk/1/hi/england/cambridgeshire/8282358.stm — اخذ شدہ بتاریخ: 17 مارچ 2018
  33. http://old.elementy.ru/nauchno-populyarnaya_biblioteka/434041/Put_v_nebesa — اخذ شدہ بتاریخ: 23 مئی 2018
  34. https://www.space.com/15923-stephen-hawking.html
  35. http://www.senate.gov/pagelayout/reference/two_column_table/Presidential_Medal_of_Freedom_Recipients.htm
  36. https://royalsociety.org/awards/copley-medal/
  37. Award winners : Copley Medal — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2018 — ناشر: رائل سوسائٹی
  38. https://web.archive.org/web/20111001064139/http://www.thersa.org/about-us/history-and-archive/medals/albert-medal
  39. http://www.wolffund.org.il/index.php?dir=site&page=winners&cs=341
  40. https://www.fi.edu/laureates/stephen-w-hawking
  41. http://www.einstein-bern.ch/index.php?lang=en&show=medaille
  42. https://royalsociety.org/awards/hughes-medal/