سٹیفن ہاکنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سٹیفن ہاکنگ

Stephen Hawking

(انگریزی میں: Stephen William Hawkingخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
سٹیفن ہاکنگ ناسا، 1980کی دہائی میں
سٹیفن ہاکنگ ناسا، 1980کی دہائی میں

معلومات شخصیت
پیدائش 8 جنوری 1942 (75 سال)[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آکسفورڈ[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش برطانیہ
قومیت British
مذہب None Atheist[5]
رکن امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی[6]،رائل سوسائٹی،امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
طبی کیفیت عضلی سو غذائیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
اولاد
  • Robert (پ 1967)
  • Lucy (پ 1970)
  • Timothy (پ 1979)


عملی زندگی
المؤسسات
الأطروحات Properties of Expanding Universes
مادر علمی


تعلیمی اسناد علمائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر Dennis Sciama[9]
استاد Robert Berman [حوالہ درکار]
ڈاکٹری شاگرد
پیشہ نظری طبیعیات،ریاضی دان،ماہر فلکیات،ماہر تعلیم،استاد جامعہ،طبیعیات دان،غیر فکشن مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی[21]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل
آجر گنول اور کائس[22]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ شہرت
اعزازات
کاپلی میڈل (2006)[23]
تمغا البرٹ (1999)[24]
وولف انعام برائے طبیعیات  (1988)[25]
فرینکلن میڈل (1981)[26]
فرینکلن میڈل (1981)[26]
ہیگس میڈل (1976)[27]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Hawkingsig.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ hawking.org.uk
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

سٹیفن ہاکنگ (انگریزی: Stephen Hawking) موجودہ دور کے مایہ ناز سائنسدان ہیں۔ انھیں گذشتہ صدی کا، آئن سٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنسدان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسور یعنی بلیک ہولز، تھیوریٹیکل کاسمولوجی (کونیات) کے میدان میں ہے۔ ان کی ایک کتاب، وقت کی مختصر تاریخ یعنی A brief History of Time ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے ایک انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک نہایت اعلی پائے کی کتاب ہے جس سے ایک عام قاری سے لیکر اعلٰی تریں محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ ایک خطرناک بیماری سے دو چار ہیں اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے، ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے۔ لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند ہیں اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر، کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کی يۂ بیماری ان کو تحقيق کر نے سے نہیں روک سکتی۔

حالات زندگی[ترمیم]

شاید وہ شخص جس نے اپنے آپ کو بلیک ہول اور ٹائم مشین سے متعلق ریاضی کی موٹی موٹی مساوات سے سب سے زیادہ ممتاز کیا ہے وہ ماہر کونیات اسٹیفن ہاکنگ ہے۔ اضافیت کے دوسرے طالبعلموں کی طرح جنہوں نے اکثر اپنے آپ کو ریاضیاتی طبیعیات میں اپنے عہد شباب میں ہی ممتاز منوا لیا تھا ، ہاکنگ اپنی جوانی میں کوئی خاص قابل ذکر طالبعلم نہیں تھا۔ بظاہر طور پر وہ انتہائی روشن ہونے کے باوجود اس کے استاد اکثر اس بات کو نوٹ کرتے تھے کہ وہ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس نے کبھی بھی اپنی پوری قابلیت کا استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر ایک ١٩٦٢ء میں نقطۂ انقلاب آیا ۔ اس نے آکسفورڈ سے جب سند حاصل کی اس کے بعد پہلی دفعہ اس نے بغلی دماغ کی خشکی یا لو گیرگ بیماری(Amyotrophic lateral sclerosis, or Lou Gehrig’s Disease) کی علامات کو محسوس کیا۔ اس خبر نے اس پر بجلی گرا دی جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ موٹر نیوران جیسے ناقابل علاج مرض کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ مرض ان عصبانیوں کو تباہ کر دے گا جو اس کے جسم کے تمام حرکت دینے والے افعال کو قابو میں رکھتے ہیں نتیجتاً وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے گا اور جلد ہی دار فانی سے کوچ کر جائے گا۔ شروع میں تو یہ خبر انتہائی دل گرفتہ تھی۔ پی ایچ ڈی کرنے کا کیا فائدہ ہوتا جب اس نے جلد ہی مر جانا تھا ؟

ایک دفعہ جب اسے یہ جھٹکا مل گیا تو پھر اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی توجہ کو ایک جگہ مرتکز کرلیا ، اس نے اضافیت کے انتہائی مشکل سوالات سے نمٹنا شروع کردیا۔١٩٧٠ء کی دہائی کے شروع میں ہی اس نے اپنے امتیازی مقالوں کے سلسلے کو شایع کروانا شروع کیا جس میں اس نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آئن سٹائن کے نظریہ میں "وحدانیت "(جہاں ثقلی قوّت لامتناہی بن جاتی ہے ، جیسے کہ کسی بلیک ہول کے مرکز میں اور بگ بینگ کی ساعت کے وقت ہوا تھا ) اضافیت کا ایک ناگزیر حصّہ ہے اور اس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (جیسا کہ آئن سٹائن سمجھتا تھا)۔١٩٧٤ء میں ہاکنگ نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ بلیک ہول مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں ، وہ بتدریج شعاعوں کا اخراج کر رہے ہیں جس کو اب ہاکنگ کی اشعاع کہتے ہیں کیونکہ اشعاع بلیک ہول کے ثقلی میدان سے بھی گزر کر نکل سکتی ہیں۔ اس مقالے نے پہلی دفعہ کوانٹم نظریہ کے عملی اظہار کو نظریہ اضافیت پر برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا اور یہ ابھی تک اس کا سب سے شاندار کام ہے۔

جیسا کہ امید تھی ویسا ہی ہوا ۔ اس کی بیماری نے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ ، پیر اور زبان کو مفلوج کر دیا۔ لیکن بیماری کے اثر کی شرح اس سے کہیں سست رفتار تھی جتنی کہ ڈاکٹروں کو شروع میں امید تھی۔ اس کے نتیجے میں اس نے کئی حیرت انگیز سنگ میل عبور کر لئے جو عام لوگ عام زندگی میں حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہ تین بچوں کا باپ بن گیا۔ (اب تو وہ دادا بھی بن گیا ہے۔ ) اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس نے چار سال بعد اس شخص کی بیوی سے شادی کر لی جس نے اس کے لیے آواز کو پیدا کرنے والا آلہ بنایا تھا۔ بہرحال اپنی اس بیوی کو بھی اس نے ٢٠٠٦ء میں طلاق دینے کے لئے دستاویز کو جمع کروا دیا ہے۔ ٢٠٠٧ء میں اس نے اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی جب وہ غیر ملک ایک جیٹ طیارے میں گیا جس نے اس کو بے وزنی کی حالت میں فضاء میں بلند کیا اور یوں اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی۔ اب اس کا اگلا مقصد خلاء میں جانا ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا اگلا مقصد خلاء میں جانا ہے۔

آج تو وہ مکمل طور پر اپنی ویل چیئر پر مفلوج ہے اور دنیا سے اس کا رابطہ صرف آنکھوں کے اشاروں سے رہتا ہے۔ اس مار دینے والی بیماری کے باوجود وہ اب بھی مذاق کرتا ہے ، مقالات لکھتا ہے ، لیکچروں کو دیتا ہے اور مختلف قسم کے تنازعات میں الجھا رہتا ہے۔ وہ اپنے آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ ان سائنس دانوں کی ٹیم کی بہ نسبت جن کو اپنے اوپر پورا قابو ہے کہیں زیادہ کام کا ہے ۔ (اس کے کیمبرج یونیورسٹی کے رفیق سر مارٹن ریس ہیں جن کو ملکہ نے شاہی فلکیات دان نامزد کیا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہاکنگ کی بیماری اس کو تھکا دینے والے اعداد شمار کے حساب کتاب سے دور رکھتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اس کھیل میں اپنے آپ کو سر فہرست نہیں رکھ سکا لہٰذا اب وہ نئے اور تازہ خیالات کو تخلیق کرنے میں اپنی ساری توجہ صرف کیے ہوئے ہے جبکہ مشکل اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں اس کے طالبعلم ہی اس کی مدد کرتے ہیں۔)

کارہائے نمایاں[ترمیم]

١٩٩٠ء میں ہاکنگ نے جب اپنے رفقائے کاروں کے مقالات کا مطالعہ کیا جس میں ٹائم مشین کو بنانے کا ذکر تھا تو وہ فوری طور پر اس بارے میں متشکک ہو گیا۔ اس کے وجدان نے اس کو بتایا کہ وقت میں سفر کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ مستقبل سے آیا ہوا کوئی بھی مسافر موجود نہیں ہے۔ اگر وقت کا سفر کرنا اتنا آسان ہوتا کہ جیسے کسی سیر و تفریح پر جانا تو مستقبل سے آئے ہوئے سیاح اپنے کیمروں کے ساتھ ہمیں تنگ کرنے کے لئے یہاں موجود ہوتے اور ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی درخواست کر رہے ہوتے۔

ہاکنگ نے ایک چیلنج دنیائے طبیعیات کو بھی دیا۔ ایک ایسا قانون ہونا چاہئے جو وقت کے سفر کو ناممکن بنا دے۔ اس نے وقت کے سفر سے روکنے کے لئے قوانین طبیعیات کی طرف سے ایک "نظریہ تحفظ تقویم" (Chronology Protection Conjecture) پیش کیا ہے تاکہ "تاریخ کو مورخوں کی دخل اندازی سے بچایا جا سکے "۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

http://www.jahanescience.com/2015/08/Time-Travel.html?spref=fb

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017 — خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6nk63ht — بنام: Stephen Hawking — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  5. "Stephen Hawking Says 'There Is No God,' Confirms He's An Atheist"۔ The Huffington Post۔ 25 September 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 October 2014۔ 
  6. http://www.amphilsoc.org/memhist/search?creator=hawking&title=&subject=&subdiv=&mem=&year=&year-max=&dead=&keyword=&smode=advanced
  7. ^ 7.0 7.1 Hawking، Stephen (1966)۔ Properties of Expanding Universes۔ University of Cambridge۔  OCLC 62793673
  8. ^ 8.0 8.1 HAWKING, Prof. Stephen William۔ Who's Who 2015 (اشاعت online Oxford University Press)۔ A & C Black, an imprint of Bloomsbury Publishing plc۔  (رکنیت درکار)
  9. ^ 9.00 9.01 9.02 9.03 9.04 9.05 9.06 9.07 9.08 9.09 9.10 9.11 ریاضیاتی انساب کے منصوبے پر سٹیفن ہاکنگ
  10. ^ 10.0 10.1 Allen، Bruce (1983)۔ Vacuum energy and general relativity۔ University of Cambridge۔ 
  11. ^ 11.0 11.1 Bousso، Raphael (1997)۔ Pair creation of black holes in cosmology۔ University of Cambridge۔ 
  12. ^ 12.0 12.1 Carr، Bernard John (1976)۔ Primordial black holes۔ University of Cambridge۔ 
  13. ^ 13.0 13.1 Dowker، Helen Fay (1991)۔ Space-time wormholes۔ University of Cambridge۔ 
  14. ^ 14.0 14.1 Galfard، Christophe Georges Gunnar Sven (2006)۔ Black hole information & branes۔ University of Cambridge۔ 
  15. ^ 15.0 15.1 Gibbons، Gary William (1973)۔ Some aspects of gravitational radiation and gravitational collapse۔ University of Cambridge۔ 
  16. ^ 16.0 16.1 Hertog، Thomas (2002)۔ The origin of inflation۔ University of Cambridge۔ 
  17. ^ 17.0 17.1 Laflamme، Raymond (1988)۔ Time and quantum cosmology۔ University of Cambridge۔ 
  18. ^ 18.0 18.1 Page، Don Nelson (1976)۔ Accretion into and emission from black holes۔ California Institute of Technology۔ 
  19. ^ 19.0 19.1 Perry، Malcolm John (1978)۔ Black holes and quantum mechanics۔ University of Cambridge۔ 
  20. ^ 20.0 20.1 Wu، Zhongchao (1984)۔ Cosmological models and the inflationary universe۔ University of Cambridge۔ 
  21. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120395478 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  22. http://www.damtp.cam.ac.uk/people/s.w.hawking/
  23. https://royalsociety.org/awards/copley-medal/
  24. https://web.archive.org/web/20111001064139/http://www.thersa.org/about-us/history-and-archive/medals/albert-medal
  25. http://www.wolffund.org.il/index.php?dir=site&page=winners&cs=341
  26. ^ 26.0 26.1 https://www.fi.edu/laureates/stephen-w-hawking
  27. https://royalsociety.org/awards/hughes-medal/
  28. ^ 28.0 28.1 "Certificate of election: Hawking, Stephen, EC/1974/12"۔ London: The Royal Society۔ اصل سے جمع شدہ 4 February 2014 کو۔ 
  29. "١٢۔ وقت میں سفر :طبیعیات دانوں کے کھیل کا میدان"۔ جہان سائنس۔ اخذ کردہ بتاریخ جمعہ، 28 اگست، 2015۔ 
  30. "Centre for Theoretical Cosmology: Outreach Stephen Hawking"۔ Ctc.cam.ac.uk۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 June 2013۔ 
  31. "About Stephen – Stephen Hawking"۔ Stephen Hawking Official Website۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 June 2013۔ 
  32. Hoare، Geoffrey; Love، Eric (5 January 2007)۔ "Dick TahtaThe Guardian (London)۔ http://www.guardian.co.uk/obituaries/story/0,,1983173,00.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 March 2012۔ 
  33. Donaldson، Gregg J. (May 1999)۔ "The Man Behind the Scientist"۔ Tapping Technology۔ archived from the original on 11 May 2005۔ https://web.archive.org/web/20050511104943/http://www.mdtap.org/TT/1999.05/1-art.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 December 2012۔ 
  34. Hawking، Stephen; Penrose، Roger (1970). "The Singularities of Gravitational Collapse and Cosmology". Proceedings of the Royal Society A 314 (1519): 529–548. doi:10.1098/rspa.1970.0021. Bibcode1970RSPSA.314..529H. 
  35. Ridpath، Ian (4 May 1978)۔ "Black hole explorer"۔ New Scientist۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 January 2013۔ 
  36. R. D. Blandford (30 March 1989)۔ "Astrophysical Black Holes"۔ میں S. W. Hawking and W. Israel۔ Three Hundred Years of Gravitation۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 278۔ آئی ایس بی این 978-0-521-37976-2۔ 
  37. Hawking، Stephen W. (1974). "Black hole explosions?". Nature 248 (5443): 30–31. doi:10.1038/248030a0. Bibcode1974Natur.248...30H. 
  38. Hawking، Stephen W. (1975). "Particle creation by black holes". Communications in Mathematical Physics 43 (3): 199–220. doi:10.1007/BF02345020. Bibcode1975CMaPh..43..199H. 
  39. Stephen Hawking (1994)۔ Black Holes and Baby Universes and Other Essays۔ Random House۔ صفحہ 20۔ آئی ایس بی این 978-0-553-37411-7۔ 
  40. "Hawking gives up academic title"۔ BBC News۔ 30 September 2009۔ http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/england/cambridgeshire/8282358.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 October 2009۔ 
  41. Leonard Susskind (7 July 2008)۔ The Black Hole War: My Battle with Stephen Hawking to Make the World Safe for Quantum Mechanics۔ Hachette Digital, Inc.۔ صفحات 9, 18۔ آئی ایس بی این 978-0-316-01640-7۔ 
  42. See Guth (1997) for a popular description of the workshop, or The Very Early Universe, ISBN 0-521-31677-4 eds Gibbons, Hawking & Siklos for a detailed report.
  43. Hawking، S.W. (1982). "The development of irregularities in a single bubble inflationary universe". Phys.Lett. B115 (4): 295. doi:10.1016/0370-2693(82)90373-2. Bibcode1982PhLB..115..295H. 
  44. Hartle، J.; Hawking، S. (1983). "Wave function of the Universe". Physical Review D 28 (12): 2960. doi:10.1103/PhysRevD.28.2960. Bibcode1983PhRvD..28.2960H. 
  45. Sample، Ian (15 May 2011)۔ "Stephen Hawking: 'There is no heaven; it's a fairy story'The Guardian۔ http://www.guardian.co.uk/science/2011/may/15/stephen-hawking-interview-there-is-no-heaven۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 May 2011۔ 
  46. Greenemeier، Larry (10 August 2009)۔ "Getting Back the Gift of Gab: Next-Gen Handheld Computers Allow the Mute to Converse"۔ Scientific American۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 September 2012۔ 
  47. "Stephen Hawking says pope told him not to study beginning of universeUSA Today۔ 15 June 2006۔ http://usatoday30.usatoday.com/life/people/2006-06-15-hawking_x.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 December 2012۔ 
  48. Radford، Tim (31 July 2009)۔ "How God propelled Stephen Hawking into the bestsellers listsThe Guardian۔ http://www.guardian.co.uk/science/2009/jul/30/stephen-hawking-brief-history-time۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 March 2012۔ 
  49. "Top 10 People Who Declined Knighthood"۔ Toptenz.net۔ 15 February 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 August 2014۔ 
  50. Highfield، Roger (3 January 2012)۔ "Stephen Hawking: driven by a cosmic force of willThe Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/science/stephen-hawking/8989060/Stephen-Hawking-driven-by-a-cosmic-force-of-will.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 December 2012۔ 
  51. Adams، Tim (4 April 2004)۔ "Brief History of a first wifeThe Observer (London)۔ http://www.guardian.co.uk/theobserver/2004/apr/04/features.review17۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 February 2013۔ 
  52. Hawking، S.W.؛ Thorne، K.S.؛ Preskill (6 February 1997)۔ "Black hole information bet"۔ Pasadena, California۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 April 2013۔ 
  53. Hawking، S.W. (2005). "Information loss in black holes". Physical Review D 72 (8). doi:10.1103/PhysRevD.72.084013. Bibcode2005PhRvD..72h4013H. 
  54. Preskill، John۔ "John Preskill's comments about Stephen Hawking's concession"۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 February 2012۔ 
  55. "Call for global disability campaign"۔ London: BBC۔ 8 September 1999۔ http://news.bbc.co.uk/2/hi/health/441912.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 February 2013۔ 
  56. "Julius Edgar Lilienfeld Prize"۔ American Physical Society۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2008۔ 
  57. "Welcome back to the family, StephenThe Times۔ 6 May 2007۔ archived from the original on 3 December 2008۔ https://web.archive.org/web/20081203111754/http://www.timesonline.co.uk/tol/news/uk/article1751518.ece۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 May 2007۔ 
  58. Harrison، David (25 January 2004)۔ "Police plan to ask Stephen Hawking about abuse claimsThe Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/1452516/Police-plan-to-ask-Stephen-Hawking-about-abuse-claims.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 February 2013۔ 
  59. Adams، Tim (4 April 2004)۔ "Tim Adams talks to Jane Hawking about her ex husband StephenThe Observer (London)۔ http://www.guardian.co.uk/theobserver/2004/apr/04/features.review17۔ 
  60. Highfield، Roger (26 June 2008)۔ "Stephen Hawking's explosive new theoryThe Telegraph۔ http://www.telegraph.co.uk/science/science-news/3345641/Stephen-Hawkings-explosive-new-theory.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 April 2012۔ 
  61. Hawking، S.W.; Hertog، T. (2006). "Populating the landscape: A top-down approach". Physical Review D 73 (12). doi:10.1103/PhysRevD.73.123527. Bibcode2006PhRvD..73l3527H. 
  62. Highfield، Roger (3 January 2012)۔ "Stephen Hawking: driven by a cosmic force of will – TelegraphThe Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/science/stephen-hawking/8989060/Stephen-Hawking-driven-by-a-cosmic-force-of-will.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 December 2012۔ 
  63. Sapsted، David (20 October 2006)۔ "Hawking and second wife agree to divorceThe Daily Telegraph۔ http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/1531891/Hawking-and-second-wife-agree-to-divorce.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 March 2007۔ 
  64. "Books"۔ Stephen Hawking Official Website۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 February 2012۔ 
  65. Wollaston، Sam (4 March 2008)۔ "Last night's TV: Stephen Hawking: Master of the UniverseThe Guardian (London)۔ http://www.guardian.co.uk/culture/tvandradioblog/2008/mar/04/lastnightstvstephenhawking۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 February 2013۔ 
  66. "Professor Stephen Hawking films Big Bang Theory cameo"۔ BBC News۔ 12 March 2012۔ http://www.bbc.co.uk/news/entertainment-arts-17337778۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 March 2012۔ 
  67. "Fonseca Prize 2008"۔ University of Santiago de Compostela۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 August 2009۔ 
  68. Hickman، Leo (25 April 2010)۔ "Stephen Hawking takes a hard line on aliensThe Guardian۔ http://www.guardian.co.uk/commentisfree/2010/apr/26/stephen-hawking-issues-warning-on-aliens۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 February 2012۔ 
  69. "Stephen Hawking warns over making contact with aliens"۔ BBC News۔ 25 April 2010۔ http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/8642558.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 May 2010۔ 
  70. Overbye، Dennis (1 March 2007)۔ "Stephen Hawking Plans Prelude to the Ride of His LifeThe New York Times (New York: NYTC)۔ http://www.nytimes.com/2007/03/01/science/01hawking.html?ref=stephenwhawking۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 February 2013۔ 
  71. Highfield، Roger (16 October 2001)۔ "Colonies in space may be only hope, says HawkingThe Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/1359562/Colonies-in-space-may-be-only-hope-says-Hawking.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 August 2007۔ 
  72. "Hawking takes zero-gravity flight"۔ BBC News۔ 27 April 2007۔ http://news.bbc.co.uk/1/hi/sci/tech/6594821.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2012۔ 
  73. "Physicist Hawking experiences zero gravity"۔ CNN۔ 26 April 2007۔ archived from the original on 4 May 2007۔ https://web.archive.org/web/20070504171857/http://www.cnn.com/2007/TECH/space/04/26/hawking.flight.ap/index.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 May 2007۔ 
  74. "Scientist Stephen Hawking decries Iraq warUSA Today۔ 3 November 2004۔ http://usatoday30.usatoday.com/news/world/2004-11-03-hawking-iraq_x.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 February 2013۔ 
  75. "Diplomacy and politics: Stephen Hawking reaffirms support of Israel boycott"۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 October 2014۔ 
  76. Kershner، Isabel (8 May 2013)۔ "Stephen Hawking Joins Boycott Against IsraelThe New York Times۔ http://www.nytimes.com/2013/05/09/world/middleeast/stephen-hawking-joins-boycott-against-israel.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 May 2013۔ 
  77. Harriet Sherwood and Matthew Kalman in Jerusalem (8 May 2013)۔ "Stephen Hawking joins academic boycott of IsraelThe Guardian۔ http://www.guardian.co.uk/world/2013/may/08/stephen-hawking-israel-academic-boycott۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 May 2013۔ 
  78. Lean، Geoffrey (21 January 2007)۔ "Prophet of Doomsday: Stephen Hawking, eco-warrior – Climate Change – EnvironmentThe Independent (London)۔ http://www.independent.co.uk/environment/climate-change/prophet-of-doomsday-stephen-hawking-ecowarrior-433064.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 February 2013۔ 
  79. Andalo، Debbie (24 July 2006)۔ "Hawking urges EU not to stop stem cell fundingThe Guardian (London)۔ http://www.guardian.co.uk/science/2006/jul/24/genetics.europeanunion۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 February 2013۔ 
  80. Haurant، Sandra (3 June 2008)۔ "Savings: Heavyweight celebrities endorse National Savings"۔ http://www.guardian.co.uk/money/2008/jun/03/savings۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 February 2013۔ 
  81. "Could Hawking's parody be sincerest form of flattery?"۔ Telegraph Media Group Limited۔ 13 June 2000۔ http://www.telegraph.co.uk/finance/personalfinance/comment/4454268/Could-Hawkings-parody-be-sincerest-form-of-flattery.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 February 2013۔ 
  82. Usborne، Simon (1 January 2013)۔ "Stephen Hawking, Go Compare and a brief history of selling outThe Independent۔ http://www.independent.co.uk/news/media/advertising/stephen-hawking-go-compare-and-a-brief-history-of-selling-out-8434612.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 February 2013۔ 
  83. Wright، Robert (17 July 2012)۔ "Why Some Physicists Bet Against the Higgs BosonThe Atlantic۔ http://www.theatlantic.com/technology/archive/2012/07/why-some-physicists-bet-against-the-higgs-boson/259977/۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 April 2013۔ 
  84. "Stephen Hawking loses Higgs boson particle bet – VideoThe Guardian (London)۔ 5 July 2012۔ http://www.guardian.co.uk/science/video/2012/jul/05/stephen-hawking-higgs-boson-bet-video۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 April 2013۔ 
  85. "Higgs boson breakthrough should earn physicist behind search Nobel Prize: Stephen HawkingNational Press۔ 4 July 2012۔ http://news.nationalpost.com/2012/07/04/higgs-boson-stephen-hawking۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 April 2013۔ 
  86. de Lange، Catherine (30 December 2011)۔ "The man who saves Stephen Hawking's voiceNew Scientist۔ http://www.newscientist.com/article/dn21323-the-man-who-saves-stephen-hawkings-voice.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 June 2012۔ 
  87. Boyle، Alan (25 June 2012)۔ "How researchers hacked into Stephen Hawking's brain"۔ NBC News۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 September 2012۔ 
  88. "Start-up attempts to convert Prof Hawking's brainwaves into speech"۔ BBC۔ 7 July 2012۔ http://www.bbc.co.uk/news/technology-18749963۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 September 2012۔ 
  89. "Oldest, space-travelled, science prize awarded to Hawking"۔ The Royal Society۔ 24 August 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2008۔ 
  90. MacAskill، Ewen (13 August 2009)۔ "Obama presents presidential medal of freedom to 16 recipientsThe Guardian (London)۔ http://www.guardian.co.uk/world/2009/aug/13/obama-hawking-medal-freedom۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 March 2012۔ 
  91. "2013 Fundamental Physics Prize Awarded to Alexander Polyakov"۔ Fundamental Physics Prize۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 December 2012۔ 
  92. Komar، Oliver; Buechner، Linda (October 2000). "The Stephen W. Hawking Science Museum in San Salvador Central America Honours the Fortitude of a Great Living Scientist". Journal of College Science Teaching XXX (2). http://www.geocities.com/CapeCanaveral/Hall/5046/article.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 September 2008. 
  93. "The Stephen Hawking Building"۔ BBC News۔ 18 April 2007۔ http://www.bbc.co.uk/cambridgeshire/content/articles/2007/04/18/hawking_building_feature.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 February 2012۔ 
  94. "Grand Opening of the Stephen Hawking Centre at Perimeter Institute"۔ Perimeter Institute۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 June 2012۔ 
  95. "Time to unveil Corpus Clock"۔ Cambridgenetwork.co.uk۔ 22 September 2008۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 September 2015۔ 
  96. "Professor Stephen Hawking to stay at Cambridge University beyond 2012The Daily Telegraph (London)۔ 26 March 2010۔ http://www.telegraph.co.uk/education/educationnews/7528596/Professor-Stephen-Hawking-to-stay-at-Cambridge-University-beyond-2012.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 February 2013۔ 
  97. Stewart، Phil (31 October 2008)۔ "Pope sees physicist Hawking at evolution gathering"۔ Reuters۔ http://www.reuters.com/article/2008/10/31/us-pope-hawking-idUSTRE49U6E220081031۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 May 2009۔ 
  98. "Stephen Hawking – There is no God. There is no Fate."۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 July 2013۔ 
  99. "Curiosity: Did God Create the Universe?"۔ Discovery Communications, LLC.۔ 7 August 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 July 2013۔ 
  100. David Edwards (24 September 2014)۔ "Stephen Hawking comes out: ‘I’m an atheist’ because science is ‘more convincing’ than God"۔ Raw Story۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 September 2014۔ 
  101. Warman، Matt (17 May 2011)۔ "Stephen Hawking tells Google 'philosophy is dead'The Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/technology/google/8520033/Stephen-Hawking-tells-Google-philosophy-is-dead.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2012۔ 
  102. "Paralympics: Games opening promises 'journey of discovery'"۔ BBC۔ 29 August 2012۔ http://www.bbc.co.uk/news/uk-19411225۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2012۔ 
  103. DeWitt، David (13 September 2013)۔ "The Brilliance of His UniverseThe New York Times۔ http://movies.nytimes.com/2013/09/13/movies/hawking-a-documentary-on-stephen-hawking.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  104. Duffin، Claire (17 September 2013)۔ "We don't let animals suffer, says Prof Stephen Hawking, as he backs assisted suicideThe Daily Telegraph (London)۔ http://www.telegraph.co.uk/science/10315476/We-dont-let-animals-suffer-says-Prof-Stephen-Hawking-as-he-backs-assisted-suicide.html۔ 
  105. "Celebrities' open letter to Scotland – full text and list of signatories"۔ The Guardian۔ London۔ 7 August 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 August 2014۔ 
  106. Natasha Culzac, Stephen Hawking, MND sufferer, does ice bucket challenge with a twist. The Independent (London), 29 August 2014.
  107. "Black Holes and Baby Universes"۔ Kirkus Reviews۔ 20 March 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 June 2012۔ 
  108. "A Brief History of Time: Synopsis"۔ Errol Morris۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 June 2012۔ 
  109. "Stephen Hawking's Universe"۔ PBS۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 June 2012۔ 
  110. "The Hawking Paradox"۔ BBC۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 February 2012۔ 
  111. Richmond، Ray (3 August 2007)۔ ""Masters of Science Fiction" too artistic for ABC"۔ Reuters۔ http://www.reuters.com/article/reviewsNews/idUSN0242298520070803?rpc=92۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 December 2012۔ 
  112. "Master of the Universe"۔ Channel 4۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 March 2012۔ 
  113. "Into the Universe with Stephen Hawking"۔ Discovery Channel۔ اصل سے جمع شدہ 25 March 2011 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 April 2010۔ 
  114. "Brave New World with Stephen Hawking"۔ Channel 4۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 June 2012۔ 
  115. "Stephen Hawking's Grand Design"۔ Discovery Channel۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 October 2012۔ 
  116. "Stephen Hawking: A Brief History Of Mine"۔ Channel 4۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 January 2014۔ 
  117. Labrecque، Jeff (6 August 2014)۔ "Eddie Redmayne plays Stephen Hawking in 'Theory of Everything' trailerEntertainment Weekly۔ http://www.ew.com/article/2014/08/06/stephen-hawking-theory-of-everything-trailer۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2014۔ 

}}