القلم آیت 17 تا 33

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سورہ القلم مکی سورۃ ہے لیکن اِس کی آیات 17 تا 33 مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔

Ra bracket.png إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ Aya-17.png La bracket.pngRa bracket.png وَلَا يَسْتَثْنُونَ Aya-18.png La bracket.png Ra bracket.png فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ Aya-19.png La bracket.pngRa bracket.png فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ Aya-20.png La bracket.pngRa bracket.png فَتَنَادَوا مُصْبِحِينَ Aya-21.png La bracket.pngRa bracket.png أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ Aya-22.png La bracket.pngRa bracket.png فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ Aya-23.png La bracket.pngRa bracket.png أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ Aya-24.png La bracket.pngRa bracket.png وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ Aya-25.png La bracket.pngRa bracket.png فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ Aya-26.png La bracket.pngRa bracket.png بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ Aya-27.png La bracket.pngRa bracket.png قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ Aya-28.png La bracket.pngRa bracket.png قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ Aya-29.png La bracket.pngRa bracket.png فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ Aya-30.png La bracket.pngRa bracket.png قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ Aya-31.png La bracket.pngRa bracket.png عَسَى رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ Aya-32.png La bracket.pngRa bracket.png كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ Aya-33.png La bracket.png

ترجمہ[ترمیم]

17: بے شک ہم نے اُنہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ اُنہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اُس باغ کے پھل اُتار لیں گے O 

18: اور اِن شاء اللہ نہ کہا O 

19:  پس اِس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے O 

20:  پس وہ باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی O 

21:  اب صبح ہوتے ہی اُنہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں O  

22:  کہ اگر تمہیں پھل اُتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو O 

23:  پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے O  

24:  کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے O  

25: اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے O

26: جب اُنہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے O  

27:  نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی O  

28:  اُن سب میں جو بہتر تھا، اُس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟ O  

29:  تو سب کہنے لگے : ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالم تھے O 

30:  پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے آپس میں  ملامت کرنے لگے O   

31:  کہنے لگے : ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے O  

32:  کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اِس سے بہتر بدلہ دے دے، ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں O  

33: یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے، کاش انہیں سمجھ ہوتی O

مقام نزول[ترمیم]

تفسیر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]