تاریک مادہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سانچہ:Beyond the Standard Model

تاریک مادہ (Dark Matter) کہکشاؤں میں موجود ایسا مادہ ہوتا ہے جو نہ روشنی منعکس کرتا ہے، نہ کسی اور قسم کی توانائی، مگر یہ کہکشاؤں میں موجود ہے تبھی کہکشائیں اپنی موجودہ شکل میں موجود ہیں۔

حال ہی میں ماہرین فلکیات نے ایسے مادّہ کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتےاسکا نام ڈارک میٹر ہے جسے ہم سیاہ مادّہ بھی کہتے ہیں۔کسی بھی مادّہ یا چیز کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز روشنی کا اخراج کرے یا پھر اس روشنی کو جذب کرے۔اگر کوئی چیز روشنی کا اخراج کریگی تو وہ چیز ہمیں رنگین نظر آئیگی یا وہ روشنی کو جذب کریگی تو وہ چیز ہمیں سیاہ نظر آئیگی۔ لیکن ان تمام عوامل میں ڈارک میٹر یعنی کے سیاہ مادہ ایسا کچھ بھی نہیں کرتا ہاں البتہ وہ کشش ثقل کی ایک بڑی مقدار فراہم ضرور کرتا ہے۔یہ مادّہ پوشیدہ ہے۔کشش ثقل فراہم کرنے کی بنیاد پر ڈارک میٹر یعنی کے سیاہ مادّہ مختلف کہکشاؤں کو متواتر رکھے ہوئے ہیں۔

اگر ہم غور کریں تو بہت سے سوالات سامنے آتے ہیں کے یہ تمام ستارے اور سیارے ہماری کہکشاں کو چھوڑتے کیوں نہیں۔ہم جانتے ہیں کائنات دن بدن پھیلتی جارہی اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کے ہماری کائنات بہت ہی وسیع ہے۔لیکن پھر ہمارے سیارے اپنی کہکشاں کو کیوں نہیں چھوڑتے۔اور کیوں تمام ستارے کلسٹر یعنی کے جھنڈ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ کشش ثقل ان تمام چیزوں کو منسلک کیے ہوئے ہیں اور یہ ستارے اور سیارے اپنے جھنڈ سے الگ نہیں ہوپا تے اور ایک کہکشاں کا ستارہ کسی دوسرے کہکشاں میں نہیں چلا جاتا۔ ہماری خلا میں گریوٹی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔اور یہ کسی بھی کہکشاں کے بس کی بات نہیں ہے کے وہ اپنی ہے گریوٹی کی وجہ سے اپنی آپکو stable رکھ سکے یعنی کے یہ گریوٹی اتنی زیادہ ہے کے کوئی بھی کہکشاں اسے خود سے generate نہیں کر سکتی۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ گریوٹی کسی نہ معلوم مادّہ سے حاصل ہو رہی ہے جس میں گریوٹی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔

اس دنیا اور کائنات میں جو چیز بھی ہم دیکھتے ہیں خواہ وہ ایٹم کے ذرّات سے لے کر اس کائنات میں کہکشائیں،سورج،چاند اور ستارے سب ملا کر محض چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔بقایا 71 فیصد ڈارک انرجی اور بیس سے زائد فیصد ڈارک میٹر یعنی کے سیاہ مادّہ پر پھیلا ہوا ہے۔جسے ہم نہیں دیکھ سکتے۔

ڈارک میٹر یعنی کے سیاہ مادہ کا اس وقت پتا چلا جب پروفیسر فرٹز وکی قومہ کلسٹر کہکشاں کا مشاہدہ ک رہے تھے۔مشاہدہ کے دوران انہوں نے یہ پایا کے ان کہکشاؤں کی حرکت بہت زیادہ تھی یعنی کے یہ کہکشائیں اتنی تیز حرکت کررہی تھی کے ان کے بس میں اتنی تیز حرکت کرنا نہ تھا یعنی کے کوئی ایسا مادّہ موجود تھا جو ان کہکشاؤں کو حرکت کرنے میں مدد دے رہا تھا۔لیکن دیکھنے میں کچھ بھی نظر نہ آتا تو سائنس دانوں نے اس میٹر یعنی مادّے کا نام ڈارک میٹر تجویز کیا۔اور اس طرح ڈارک میٹر لیکر پہلا نظریہ سامنے آیا

مزید کچھ عرصے کے بعد اس کی نشاندھی gravitasional lensing کے ذریعے یقینی ہو گئی۔جب ہم کسی ستارے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ستارے سے آنے والی روشنی سیدھی ہماری طرف آرہی ہوتی ہے۔لیکن جب اپنے اور ستارے کے درمیان کوئی بھاری چیز رکھ دیں یعنی کے گلیکسی ( کہکشاں) رکھ دیں تو سیدھی آنے والی روشنی آپکی طرف نہیں آئیگی بلکہ وہ اس کہکشاں کی وجہ سے بینڈ ہوجائیگی۔جو اس بڑی کہکشاں کی کشش ثقل (گریوٹی) کی وجہ سے ہوگا۔یہ بالکل ویسا ہی ہے جس طرح ایک convex lens روشنی کو موڑتا ہے۔اسی عمل کو ہم gravitational lensing کا عمل کہتے ہیں۔اسی gravitational lensing کے مدد سے ہم کسی بھی کہکشاں کی جسامت اور روشنی پر اس کے gravitational pull کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اسی طرح 1989 میں causar سے آنے والی روشنی بینڈ ہورہی تھی سائنسدانوں کے مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ روشنی دو causar سے آرہی ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک تھی لیکن جو چیز لائٹ کو بینڈ کررہی تھی اُسکی موجودگی کا پتہ لگانا لا محال تھا اور یوں ڈارک میٹر کی موجودگی یقینی ہو گئی۔

ہم جانتے ہیں ڈارک میٹر موجود ہے اور اس میں گریوٹی بھی موجود ہے گریوٹی اس وقت ممکن ہے کے جب کسی آبجیکٹ کا mass یقینی ہو بغیر mass کے کسی چیز کی گریوٹی نہیں ہوتی ہے۔ڈارک میٹر کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور ڈارک میٹر بھی ایک راز ہے۔ڈارک میٹر کو تو نہ ہم چھو سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔المختصر ڈارک میٹر کو نہیں دیکھا جا سکتا البتہ اس کی گریوٹی کو detect کیا جا سکتا ہے۔

ڈارک میٹر کی گریوٹی کو detect کیا جاسکتا ہے کیوں کے اس کی گریوٹی کی وجہ سے gravitational lensing ہوتی ہے اور ڈارک میٹر کی ہی وجہ سے کئی کہکشاؤں کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔

ڈارک میٹر ہی وہ واحد میٹر ہے جو آپس میں ٹکراتا نہیں بلکہ ایک دوسرے میں سے پاس کرجاتا ہے۔اور یہی ڈارک میٹر کائنات میں ہر جگہ موجود ہے حتٰی کہ ہمارے آس پاس بھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Dark matter سانچہ:Standard model of physics سانچہ:Cosmology topics