رومانوی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رومانوی تحریک کو عموماً سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کا رد عمل قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ سرسید احمد خان کی تحریک ایک اصلاحی تحریک تھی۔ یہ دور تہذیب الاخلاق کا دور تھا اور تہذیب الاخلاق کی نثر عقلیت، منطقیت، استدلال اور معنویت کی حامل تھی۔ مزید برآں تہذیب الاخلاق کا ادب مذہبی، اخلاقی، تہذیبی اور تمدنی قدروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اس جذبے اور احساس کے خلاف رومانی نوعیت کا رد عمل شروع ہوا اور جذبے اور تخیل کی وہ رو جسے علی گڑھ تحریک نے روکنے کی کوشش کی تھی ابھرے بغیر نہ رہ سکی۔ لیکن اس سے قبل کہ رومانیت یا رومانوی تحریک کے بارے میں پڑھیں، ہم یہ دیکھ لیں کہ رومانیت سے کیا مراد ہے۔

رومانیت کا مفہوم[ترمیم]

رومانیت پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبداللہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ جتنا دل خوش کن ہے، تشریح کے لحاظ سے اتنا سہل نہیں ہے۔ لغات اور فرہنگ، اصطلاحات کے انسائیکلوپیڈیا اور تنقید کی کتابیں اس سلسلے میں الگ الگ کہانی سناتی ہیں۔ اس لیے رومانیت کے متعلق کوئی متعین بات کہنا چاہیں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ رومانیت کے معانی رومانیت ہیں۔ بہر حال سید عبد اللہ رومانیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رومانیت کا ایک ڈھیلا سا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسے اسلوب اظہار یا انداز احساس کا اظہار کرتی ہے جس میں فکر کے مقابلے میں تخیل کی گرفت مضبوط ہو۔ رسم و روایت کی تقلید سے آزادی خیالات کو سیلاب کی طرح جدھر ان کا رخ ہو آزادی سے بہنے دیا جائے۔
مختصر یہ کہ رومانی ادیب اپنے جذبے اور وجدان کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتا ہے۔ اسلوب اور خیالات دونوں میں اس کی روش تقلید کے مقابلے میں آزادی اور روایت کی پیروی سے بغاوت اور جدت کا میلان رکھتی ہے۔ رومانی ادیب حال سے زیادہ ماضی یا مستقبل سے دلچسپی رکھتا ہے۔ حقائق واقعی سے زیادہ خوش آئند تخیلات اور خوابوں کی اور عجائبات و طلسمات سے بھری ہوئی فضائوں کی مصوری کرتا ہے۔ دوپہر کی چمک اور ہرچیز کو صاف دکھانے والی روشنی کے مقابلے میں دھندلے افق چاندنی اور اندھیرے کی ملی جلی کیفیت اسے زیادہ خوش آئند معلوم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن رومانیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”رومانیت“ کا لفظ رومانس سے نکلا ہے۔ اور رومانس زبانوں میں اس کا اطلاق اس قسم کی نثری منظوم کہانیوں پر ہوتا ہے جن میں انتہائی آراستہ و پرشکوہ پس منظر کے ساتھ عشق و محبت کی ایسی داستانیں سنائی جاتی تھیں جو عام طور پر دور وسطی کے جنگجو اور خطر پسند نوجوانوں کی مہمات سے متعلق ہوتی تھیں۔ اس طرح اس لفظ کے تین خاص مفہوم ہیں۔

  1. عشق و محبت سے متعلق تمام چیزوں کو رمانی کہا جانے لگا۔
  2. زبان کی بناوٹ، سجاوٹ، آراستگی اور محاکاتی تفصیل پسندی کو رومانی کہا جانے لگا۔
  3. عہد وسطی سے وابستہ تمام چیزوں سے لگاؤ، قدامت پسندی اور ماضی پرستی کو رومانی کا لقب دیا گیا۔

مغرب میں رومانیت[ترمیم]

یورپ میں یہ تحریک کب اُبھری اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ تاہم یہ بات وثوق سے کہی جاتی ہے کہ یورپ میں اس تحریک کا دور عروج اٹھارویں صدی کے وسط تک محیط ہے۔ اس تحریک کو سب سے زیادہ مقبولیت فرانس، انگلستان اور جرمنی میں حاصل ہوئی۔ ان ممالک میں اس کے پھیلنے کی وجہ حالات کی وہ تبدیلیاں تھیں جن کے زیر اثر لوگوں کے خیالات میں تبدیلیاں رونماہوئیں یہ تبدیلیاں یورپ کے سیاسی اور سماجی انقلابات کی مرہون منت ہیں۔
ادبیات کے سلسلے میں اس لفظ کو سب سے پہلے 1781ءمیں وارٹن اور برڈ نے استعمال کیا۔ اس کے بعد 1820ءمیں گوئٹے اور شلر نے ادبیات کے سلسلے میں رومانیت کا اطلاق کرنا شروع کیا۔ لیکن بطور اصطلاح اسے مادام ڈی سٹائل اور شیگل نے رائج کیا۔ یورپ میں رومانیت کا سب سے بڑا علمبردار روسو کو تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ سب سے پہلے روسونے فردکی آزادی پر زور دیا۔ چنانچہ روسو کی اس بات کو رومانیت کا مطلع کہاجاتا ہے۔
” انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جہاں دیکھو وہ پابہ زنجیر ہے۔“
روسو کے خیال میں انسان کی ناخوشی کا سب سے بڑا سبب تصنع اور بناوٹ ہے اور اس چیز کو وجود میں لانے کا سبب تہذیب و تمدن ہے۔ روسو کے خیالات نے اہل یورپ کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ لیکن روسو کا میدان سیاست اور عمرانیات سے آگے نہیں بڑھا۔ جس کی وجہ سے ادب میں ان جدید رجحانات کی ابتداءبعد کے ادیبوں نے کی اور دھیرے دھیر اصول و ضوابط سے سرتابی کی روایت پیدا کی۔

اردو میں رومانیت[ترمیم]

اردو میں رومانیت کی ابتداءاگرچہ انیسویں صدی کے آخری حصے میں ہو چکی تھی تاہم اسے فروغ بیسویں صدی کی پہلی جنگ عظیم کے بعد حاصل ہوا۔ اردو میں اس کاآغاز سرسید تحریک کے رد عمل کے طور پر ہوا۔ سرسید عقلیت، مادیت اور حقائق نگاری پربہت زیادہ زور دیا اور فرد کی زندگی کی جذباتی اور رومانی پہلوؤں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ کچھ عرصہ تک یہ سکہ چلتا رہا لیکن بالآخر سرسید کے عقلی اور مقصدی ادب کے خلاف رومانوی ادیبوں نے شدید احتجاج کیا اور اس طرح شعر و ادب کی دنیا میں نئی راہوں کی نشان دہی کی۔ اور اُس وقت کے حالات اور مغربی علوم کی آمد نے اس تحریک کو آگے بڑھنے میں مزید مدد دی۔
علی گڑھ تحریک کی عقلیت اور مادیت کے خلاف رد عمل میں سر فہرست محمد حسین آزاد، میر ناصر علی دہلوی اور عبدالحلیم شرر تھے۔ ان لوگوں نے ان اسالیب کو فروغ دینے کی کوشش کی جن میں ادیب کا تخیل جذبے کی جوئے تیز کے ساتھ چلتا رہے۔ لیکن آزاد کی رومانیت کسی رد عمل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ان کی افتاد طبع کی نقیب ہے۔ جبکہ اس کے برعکس میر ناصر علی کا رومانی عمل شعوری نظرآتا ہے۔ میر ناصر علی نے سرسید احمد خان کے علمی و ادبی کارناموں پر نہ صرف تنقیدکی ہے بلکہ انہوں نے سرسید احمد خان کی سنجیدہ نثر کا جامد خول توڑنے کے لیے انشاءپردازی کا شگفتہ اسلوب بھی مروج کرنے کی کوشش کی۔ اور انہوں نے سرسید احمد خان کے مقابلے میں ”فسانہ ایام“، ”صدائے عام جیسے رسالے نکالے۔ عہد سرسید میں شدید جذباتی رویے اور رومانی طرز احساس کی ایک اور مثال عبدالحلیم شرر ہیں۔ عبدالحلیم شرر نے مسلمانوں کے اجتماعی اضمحلال کے خلاف رد عمل پیش کیا اور اس شاندار ماضی میں آسودگی تلاش کی جس میں مسلمانوں کے جاہ و جلال اور ہیبت و جبروت نے مشرق و مغرب کی طنابیں کھینچ رکھی تھیں۔اردو میں جن رومان پسندوں کا نام لیا جاتا ہے وہ یوں ہیں ۔

عبدل رحمان بجنوری

جوش ملسیانی

فراق گورکھپوری

مہدی افادی

مجنو گورکھپوری

صہبائی

عرش ملسیانی

اس کے علاوہ بھی بہت سے رومان پسند ہیں اردو ادب میں لیکن باقاعدہ طور پر مغربی ادب کے سوا ٹھوس کوئی نہیں۔



رسالہ مخزنن[ترمیم]

سرعبدالقادر نے بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی یعنی 1901ء میں لاہور سے ماہنامہ مخزن جاری کیا۔ جسے اردو کی عملی و ادبی رسائل میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس رسالے کی اشاعت سے نہ صرف یہ کہ رومانیت کی تحریک کو تقویت ملی بلکہ بعد میں آنے والی تحریکوں کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ اس رسالے میں اپنے دور کے تمام رومانیت پسندوں نے لکھا اور اس رسالے نے بہت سے ادبیوں کو اردو دان طبقے سے روشناس کرایا۔

ابو الکلام آزاد[ترمیم]

مولانا ابو الکلام آزاد کی رومانی نثر کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں کہ ان کی آواز بلندیوں سے آتی ہے اور ان کی بلند شخصیت کی طرح آسمانوں سے نیچے نہیں اترتی وہ ایک پیغمبرانہ سطوت سکے بولتے ہیں۔ ان کے لہجے میں انفرادیت کی وہ کھنک ہے جو اس دور کے کسی اور نثر نگار کے ہاں نہیں ملتی۔ بقول قاضی عبدالغفار،

اردو ادب میں کوئی دوسرا ادیب ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس شدت کے ساتھ اپنی انفرادیت کے تازیانے عوام کی ذہنیت پر مارے ہوں۔

مولانا ابو الکلام آزاد نے نثر کو نثریت سے آزاد کرایا اور ایک علاحدہ اسلوب کی بنیادرکھی۔ ان معنوں میں آزاد جدید عہد کے پہلے صاحب طرز نثر نگار ہیں جس نے اپنے طرز کے زیر اثر حکومت و فلسفہ کے دبستانوں کو اپنے نغمہ رنگ کے آگے بے کیف کر دیا۔ ان کی نثر حکیمانہ ہونے سے زیادہ کچھ اور بھی ہے۔ انہوں نے ہمارے ایشیائی ذہنوں پر انفرادیت کے تازیانے مارے پستی اور محرودمی ،ذلت اور کم ہمتی کا احساس دلایا ہے جو تبدیلی کی شدید خواہش اور حال سے بے پناہ نفرت کی شکل میں ظہور پزیر ہوا۔ ان کی نثر نے اردو ادب کو ایک نیا اعتماد بخشا۔ البتہ ان کی نثر کی ایک خامی ہے کہ اس پر ابوالکلام آزاد کے مطالعے کا بوجھ لدا ہوا ہے اور قاری اس سے متاثر ہونے کی بجائے فوراً مرعوب ہو جاتا ہے۔ اور نثر کا تانا بانا خاصا الجھا ہوا ہے اور اس کی تقلید آسان نہیں۔

رومانوی شاعری[ترمیم]

رومانوی فکر شاعروں پر بھی کافی حد تک اثر انداز ہوا۔ اور اُس دور کے بہت سے شعراءنے اس اثر کو اپنا یا۔ جن میں زیادہ تر شعراءآہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقت پسندی کی طرف گئے۔ اُس دور کے رومانی طرز فکر رکھنے والے شعراءمندرجہ ذیل ہیں۔

علامہ اقبال[ترمیم]

رسالہ مخزن میں لکھنے والوں میں سر فہرست شاعر مشرق علامہ اقبال کا م ہے۔ علامہ محمد اقبال کے اکثر ناقدین کا کہنا ہے کہ اقبال کی شاعری میں رومانوی اثرات نمایاں نظرآتے ہیں۔ ان کے ہاں جذبات اور وجدان کی افراط اور غلبہ اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ان کو رومانوی شاعر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ علامہ اقبال نے عقل و عشق کے لفظوں سے نیا جہاں بسایا اور اس جہان کی تعمیر میں جذبہ اور وجدان کی اہمیت بنیادی ہے۔ لیکن اقبال روسو کی طرح خودی کو بے پناہ جذبے کی شدت پرعقل کے ذریعے نہیں بلکہ عشق یعنی ایک شدید جذبے کی مد د سے قابو حاصل کرنے کامشورہ دیا۔اقبالنے اپنے کلام میں جگہ جگہ جذبے اور وجدان کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مثلاً

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق​عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل​لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اقبال کی رومانیت کا ذکر کرتے ہوئے انور سدید لکھتے ہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی اقبال کے رومانی شعراءمیں متعارف ہوئے اس شاعری کو پسند کرنے لگے بلکہ رومانیت نے ان کے قلب و ذہن پر قبضہ جما لیا۔ نقادوں نے اقبال کے ہاں رومانوی زاویوں کی نشادہی کی وہ تین ہیں۔ جن میں پہلا حسن از ل کی طلب و جستجو، ماضی کی عظمتوں کو اجاگر کرنا اور رومانی کرداروں کی تخلیق شامل ہے۔

اختر شیرانی[ترمیم]

اردو رمانی شعراءمیں ایک اہم نام اختر شیرانی کا ہے۔ اختر شیرانی کی شاعری میں ایک مخصوص رومانی نقطہ نظر ملتا ہے۔ اُن کے یہاں حال سے گریز اور فرار کا رجحان نمایاں ہے۔ اختر شیرانی زندگی کے ٹھوس حقائق کا سامنا کرنے کی بجائے تخیلی زندگی میں پناہ لیتے ہیں۔
اختر شیرانی کی شاعری میں عورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے انھوں نے اردو ادب کی تاریخ میں پہلی بار اپنی محبوباؤں کے نام کے کھلم کھلا اور بے دھڑک پر جوش جذبات محبت ادا کیے او ر اپنی محبت کو اصل حیات قرار دیا۔ اختر شیرانی نے متوسط طبقے کی دوشیزہ کو معشوقہ بنا کر اس کا نام لے کر شعرکہنے کی روایت ڈالی۔ چنانچہ وہ کبھی سلمیٰ کے رومان حسین کے تذکرے کرتے ہیں اور کبھی عذرا، ناہید، پروین اور کبھی شمسہ کے زہر آلود ہونٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ماورائی لطافت اور سرمستی کی جس طرح پرستش کی ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی خا ص محبوبہ کے غمزوں کا شکار ہونے سے زیادہ سرمستی و عشق پر عاشق ہے۔ اختر کی گوشت پوست کی عورت میں بھی تخیل کا شبہ ہوتا ہے۔
اختر شیرانی کی بعض نظموں میں وطن پرستی کے جذبات بھی ادا ہوئے ہیں۔ تاہم وطن کا یہ روپ بھی نسائیت کا حامل ہے۔ لیکن وطن ایک ایسی محبوبہ ہے جسے اختر نے ٹوٹ کر پیار کیا اوراس کی جدائی اس کے دل کو غموں اور دکھوں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ مختصر یہ کہ اختر شیرانی متنوع جہات شاعر نہیں۔ ان کی شاعری کی سطحی جذباتیت نے انہیں صرف نوجوانوں کا شاعر بنا دیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اختر رومانیت کی ایک توانا آوازہیں۔

محبت کے لیے آیا ہوں میں دنیا کی محفل میں​محبت خون بن کر لہلہاتی ہے میرے دل میں
ہر اک شاعر مقدر اپنااپنے ساتھ لایا ہےمحبت کا جنوں تنہا میرے حصے میں آیا

حفیظ جالندھری[ترمیم]

حفیظ جالندھری کا شمار رومانوی شعراءمیں ہوتا ہے ان کے یہاں ماضی پرستی کا رجحان غالب ہے۔ وہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی ایک طویل نظم ”شاہنامہ اسلام“ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔ ماضی پرستی کے علاوہ حفیظ جالندھری کے ہاں فطرت پرستی کا رجحان غالب ہے۔ انہوں نے بہت سی نظمیں لکھیں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان نظموں میں فطرت کو تشبیہ کی مدد سے مسجسم کیا گیا ہے۔ فطرت ایک خاص انداز اور جسمانی پیکر کے ساتھ برآمد ہوتی ہے۔ ”اٹھی حسینہ سحر “ میں یہ عمل کامیاب ہے۔ حفیظ نے ہندی اور سب نرم و نازک الفاظ کا استعمال بھی بڑی خوبی سے کیا ہے۔ ترنم اور موسیقیت کی طرف بھی انہوں نے خصوصی توجہ دی ہے۔ اور بحروں کے انتخاب اور الفاظ کی ترتیب سے آہنگ نغمہ پیدا کیا۔ نظموں کی ظاہری شک و صورت میں بھی انہوں نے انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔

جوش ملیح آبادی[ترمیم]

جیلانی کامران جوش ملیح آبادی کی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جوش بنیادی طور پررومانی شاعر ہیں۔ لیکن ان کی رومانیت پیکر اور اجسام کی خوبصورتی ہی کا ذکر کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن جوش کے متعلق لکھتے ہیں کہ جوش جمالیات اور تلاش حسن سے زیادہ شدت جذبات کے پرستار ہیں۔ ان کی رومانیت کی عام شکل مبہم افسردگی، نسوانیت اور ماورائت نہیں بلکہ گھن گرج، انقلابی آن بان اور پہاڑوں سے ٹکرانا نئے والے ولولے کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔ جوش کی پوری شاعری شبابیات کی شاعر ی ہے۔ وہ جذبے کی بے باک سرکشی کے قائل ہیں۔ اس کی تڑپ کے پرستا ر ہیں اور اسی تڑپ، اس جذباتی احساس کو ادارک کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جوش کے کلام میں فلسفیانہ مضامین بھی ہیں۔ انہوں نے سائنس اور حکیمانہ شعور کی تعریف ہی نہیں کی اسے برتا بھی ہے لیکن ان سب کے باوجود جوش کابنیادی نغمہ رومانوی ہے۔ ان کے فن میں مختلف رجحانات اور ارتقائی منزلیں اور ادوار ملتے ہیں لیکن جذبات و احساسات پر ان کا زور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔

احسان دانش[ترمیم]

نوائے کارگر، آتش خاموش، چراغاں، شیرازہ، مقامات، زخم، و مرہم اور فصلِ سلاسل، احسان دانش کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد و سوز و، غم روزگار اور زندگی کے نشیب و فراز کی جھلکیاں پائی جاتی ہیں۔ ان کی رومانیت نے غربت کے داخلی احساس سے جنم لیا ہے۔ ان کی شاعر ی میں مسرت کا لمحہ نایا ب اور زندہ دلی کا شدید فقدان ہے۔ ان کے ہاں آنسوئوں اور آہوں کی کمی نہیں۔ احسان دانش کے آنسو انسانی درمندی کے وفور سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس وقت بہتے ہیں جب تک انسانیت پر زوال آجاتا ہے۔ اور پست و بلند میں امتیاز پیدا کر دیا جاتا ہے۔ احسان دانش کی رومانیت میں ماضی کی یادوں اور فطرت پرستی کو اہمیت حاصل ہے۔ اس رومانیت کے نقوش ان کی نظموں” شام اودھ“، ”بیتے ہوئے دن“ ،” صبح بنارس“ وغیر ہ میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر محمد دین تاثیر[ترمیم]

ڈاکٹر محمد دین تاثیر کی شاعری کا مجموعہ ”آتش کدہ “ رومانی شاعری کا ایک نمونہ ہے۔ وہ بیک وقت رومانوی تحریک سے بھی وابستہ ہیں اور ترقی پسند تحریک سے بھی۔ ان کی نظمیں مثلا، انسان، دہقان کا مستقل ترقی پسندوں جیسا اسلوب بیان لیے ہوئے ہیں۔ رس بھر ہونٹ، دیوداسی، لندن کی ایک شام اور مان بھی جاؤ جیسی نظموں میں وہ رومانی شاعری نظر آتے ہیں۔ ان کی آزاد نظموں پر مغرب کے رومانی شاعروں کا گہرا پرتو ہے۔

ساغر نظامی[ترمیم]

ساغر نظامی کی شاعری میں خود پسندی نے ایک قدر کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ذات میں کائنات کا جلوہ دیکھا اور رومانی کرنیں بکھیرنے کی بجائے انہیں اپنی شخصیت کے نقطے پر مرتکز کرنے کی شعور ی کاش کی۔ ساغر کی رومانیت خود پسندی اور انائے ذات کا زاویہ بھی پیش کرتی ہے۔ اسے نہ صرف اپنے وجود کا احساس ہے۔ بلکہ وہ یہ باور کرانے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ وہ اپنے عصر کی آواز ہے اور تغیر کی قوت اس کی ذات میں موجود ہے۔

الطاف مشہدی[ترمیم]

الطاف مشہدی کی رومانیت میں ستارے، پھول، چاندنی راتیں، بیمار کلیاں، پر خواب فضائیں اور سحر کار ماحول نے بڑی خوبی سے جادو جگایا ہے اور اس فضا میں اس کا رومانی کردار ریحانہ، شمیم و عنبر بکھیر رہا ہے۔ موضوعات کی کمی کے باعث الطاف مشہدی کے ہاں تنوی کا احساس نہیں ہوتا۔ اور اس کی بیشتر نظمیں ایک ہی مسلسل خیال کا بیانیہ نظرا تی ہیں۔ مجموعی طور پر وہ رومانی تحریک کی ایک ایسی آواز ہے جس میں اختر شیرانی کی آواز بھی شامل ہے۔

رومانی افسانہ[ترمیم]

ایک طرح سے ارد و میں افسانے کا آغاز ہی رومانی تحریک سے ہوتا ہے۔ اردو ادب میں افسانے میں زیادہ تر دو رجحانات غالب رہے ایک رومانی رجحان اور دوسرا ترقی پسند تحریک کا رجحان۔ ترقی پسند یا حقیقت پسند رجحان کی طرح رومانی رجحان بھی ایک مضبوط رجحان ہے جس کا اثر ہر عہد کے افسانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ رومانوی افسانہ چاہے کیسا بھی ہو لیکن اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ اردو میں افسانے کی ابتداءرومانیت پسندوں کے ہاتھوں ہوئی۔ آئیے چند اہم افسانہ نگاروں کے کام کا جائزہ لیتے ہیں۔

سجاد حیدر یلدرم[ترمیم]

سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں۔ رومانیت یلدرم کی شخصیت بھی ہے اور ان کا اسلوب فن بھی۔ ابتدائے شباب میں ہی رومانی قسم کی بغاوت ان کے ذہن میں پیدا ہو گئی تھی۔ وہ اپنے ماحول سے مطمئن نہ تھے اُسے اپنے ذہن و خیال کے مطابق منقلب کرنے کے آرزو مند تھے۔

یلدرم ترکی ادب سے متاثر ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی میں صرف ”محبت “ ایک ایسا عنصر ہے جو ادب اور افسانے جیسی صنف لطیف کا موضوع بن سکتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ادب اور ادیب کوزندگی کے ان جھگڑوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہیے جس میں پھنس کر ادیب مصلح اور ادب کوپندو وعظ بننا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کو عورت اور فطرت کے حسن اور ان دونوں کے فطری رومان کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ان کا موضوع عور ت اور مرد کی وہ محبت تھی جو فطرت کے قوانین کے سوا کسی اور قسم کی رسوم و قیود کی پا بند نہ تھی۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے افسانوں میں کھلے طور پر کیا ہے۔ مثلاً خارستان و گلستان میں لکھتے ہیں کہ، ”عورت !، عورت! عورت! ایک بیل ہے جو خشک درخت کے گرد لپٹ کر اُسے تازگی، اسے زینت بخش دیتی ہے۔“

”عورت میں حسن نہ ہوتا تو مرد میں جرات اور عالی حوصلگی نہ ہوتی۔ مرد میں عالی حوصلگی نہ ہوتی تو عورت کی خوبصورتی اور دلبری رائیگاں جاتی۔“

یلدرم کی رومانیت کا ذکر کرتے ہوئے انور سدید لکھتے ہیں کہ یلدرم کی عطا یہ ہے کہ اس نے اردو ادب کو تعلیم یافتہ عورت سے متعارت کرایا اور زندگی میں اس کے کردار کو تسلیم کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں جب رسوا نے امراءکو اردو میں پیش کیا تھا تو وہ بالواسطہ طور پر ایک طوائف کو کوٹھے سے اتار کر خانہ نشین بنانے کے آرزو مند تھے۔ جبکہ یلدرم نے اس خانہ نشین کو حریم ناز سے نکلنے اور اپنی لطافتوں سے زندگی کو عطر بیز کرنے کی راہ سمجھائی۔

یلدرم محبت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں چاہتے وہ دو محبت کرنے والوں کے وصال میں مانع ہو۔ وہ ان تمام قدروں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں جو آزادی کی راہ میں حائل ہیں۔ جنسی مسائل پر وہ بالکل جذباتی نہیں ہوتے۔ یلدرم عریانیت اور سماجی قدروں سے براہ راست تصادم سے بچنے کے لیے اپنے افسانوں میں ہزاروں برس قبل کی کسی اجنبی دنیا کے قصے بیان کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ یلدرم کی رومانیت میں ایک ایسا معصوم تحیر موجود ہے جو بچے کے چہرے پر کھلونے حاصل کرنے کی آرزو سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی رومانیت میں گہرائی یقینا نہیں لیکن جذبے کی سادگی اور ملائمت موجود ہے۔

نیاز فتح پوری[ترمیم]

نیاز فتح پوری کے افسانے اس بناوٹی وجود اور غیر حقیقی زندگی کی سب سے بڑی مثالیں ہیں”شاعر کا انجام “ ”شباب کی سرگزشت“ کے طرز تحریر اور اسلوب فکر میں ”گیتانجلی “ سکے روحانی ہم آہنگی جاتی ہے۔ وہی شکل وہی انداز بیان اور تمناپسندی، وہی بات سے بات پر وجد کرنے اور ہرچیز کو اس طرح دیکھنے کی کوشش جیسے اس کا ماورائی وجود ہے اور وہی حسن و عشق کے بارے میں فلسفیانہ طرز خیال۔ ان سب چیزوں نے اردو افسانہ کو بڑی مدت تک متاثر رکھا ہے۔

ان کی ابتدائی تحریروں میں رومانیت کا غلبہ ہے۔ ارضی چیز نہیں ملتی، ماروائی چیزیں ملتی ہیں۔ کردار نگاری میں بھی ماورائی یکسانی ملتی ہے۔ ان میں عام انسانی کردار وں کی نوک پلک انداز و ادا اور ارتقاءنہیں ملتا۔ شروع سے لے کر آکر تک ایک بنیادی نغمہ ہے جو شخصیت پر حاوی ہے۔ ان کا پنا کوئی لہجہ زبان اور اندازِگفتگو نہیں۔ یہ سب نیاز کی سجی سجائی بے حد ادبی زبان ہے۔ اندا ز بیان کا انداز مکالموں کی عبارت سے ہوتا ہے۔ یہ نثر غالب، بیدل ذدہ شاعری کے مماثل ہے۔ مناظر فطرت کا بے حد جذباتی بیان اور وفور شوق، تشبیہ اور استعارے کی بہتا ت کے ساتھ ملتا ہے۔

حجاب امتیار علی[ترمیم]

حجاب امتیار علی کی شعریت اس سے بھی زیادہ آراستہ اور ماورائی ہے اور اس میں جذبات کی فراوانی اور حسن معصوم کی دلکشی ہے۔ ان کے ہاں تحیر کا عنصر ہے۔ حجاب کی کہانیاں ایک خاص انداز میں واحد متکلم کے صیغے میں لکھی گئی ہیں اور ان کے سب کردار کم و بیش جانی پہچانی شخصیتیں ہیں۔ روحی ان کا اپنا نام ہے جسے وہ ارضی سرزمین کی خوشگوار سیاحت میں ساتھ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر یزدانی، شہزادہ مشہدی ایسے نام ہیں جو ان کے قاری کے دوست اور آشنا ہوں۔

مجنوں گورکھپوری[ترمیم]

مجنوں گورکھپوری نے نیاز فتح پوری کے زیرا ثر افسانہ نگاری شرو ع کی۔ ان کا سب سے پہلا افسانہ ”زیدی کا حشر، ہے جو شہاب کی سرگزشت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مجنوں کے افسانوں میں رومانیت کی ایک سنبھلی ہوئی شکل ملتی ہے۔ اس میں جذبے کے وفور کے ساتھ ساتھ تشکیک کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرے رومانوی ادیبوں کی طرح مجنوں گورکھپوری کے کردا ر بھی غیر دلچسپ کاروباری دنیا میں گھری ہوئی اجنبیت ار تصور پرست روحیں ہیں جو یہاں خواب دیکھنے آتی یں اور جن کی تعبیر میں درد و الم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ان کے ہاں جذبہ ہے جو ناکامیوں سے تھک کر خود اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔ ان کا ہیرو وقت سے پہلے جوان ہو گیا ہے۔ اور جب وہ اپنے معصوم تصورات کو شکست ہوتے دیکھتا ہے تو خود بھی اپنے آپ کو تکلیف دینے اور عذاب میں مبتلا کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یگانہ، ثریا، ناصری ،سب اپنی شکست کی آوازیں ہیں۔ مجنوں کی کہانیوں میں محبت، ناکامی کا دوسرا نام ہے جس کی سزا اور پاداش سوائے گھل گھل کر مرنے کے اور کچھ نہیں۔

غرض یہ کہ مجنوں کا انداز ِبیان نیاز اور خلیقی دونوں سے زیادہ سلجھا ہوا ہے۔ اس میں دشوار شاعرانہ نثر کی فراوانی نہیں۔ وہ قصے بیان کے انداز میں لکھتے ہیں۔ لیکن بات بات میں شعرپڑھنا اور موقع بے موقع اشعار نقل کرنا ان کے رومانوی طرز تحریر کی خصوصیت ہے۔ اکثر ان کے کردار اشعار میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے افسانے جذباتی سپردگی کے آئینہ دار ہیں، جنہوں نے اردو افسانہ نگاری پر بڑا اثر ڈالا ہے۔

اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے قاضی عبدالفغار نے رومانوی طرز کو نئے حسن سے آشنا کیا۔ “لیلی کے خطوط” فنی حیثیت سے نال نہیں کہلا سکتے ہیں۔ لیکن ان میں جذبات کی فروانی اور خطابت کا جوش ہے اور اس لحاظ سے وہ مکمل رومانوی تخلیق ہیں۔