لتھیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سنگصر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Lithium,  3Li
Lithium paraffin.jpg
General properties
Pronunciation /ˈlɪθiəm/, LI-thee-əm
Appearance silvery white (seen here in oil)
Lithium in the دوری جدول
سانچہ:Infobox element/periodic table
جوہری عدد (Z) 3
Group, period 1 (alkali metals), period 2
Block s-block
مشابہ عناصر گروہوں کے اجتماعی نام سانچہ:Infobox element/category format
Standard atomic weight (Ar) 6.941(2)
برقی تشکیل 1s2 2s1
Electrons per shell
2, 1
Physical properties
Phase solid
نقطۂ انجماد 453.69 کیلون ​(180.54 °C, ​356.97 °F)
نقطہ کھولاؤ 1615 K ​(1342 °C, ​2448 °F)
کثافت near درجہ حرارت کمرہ 0.534 g/cm3
when liquid, at m.p. 0.512 g/cm3
Critical point (extrapolated)
3223 K, 67 MPa
سخانۂ ائتلاف 3.00 جول فی مول
Heat of 147.1 kJ/mol
Molar heat capacity 24.860 J/(mol·K)
بخاری دباؤ
Atomic properties
تکسیدی عددs +1, -1 ​strongly basic oxide
برقی منفیت Pauling scale: 0.98
جوہری رداس empirical: 152 پیکومیٹر
Covalent radius 128±7 pm
وانڈروال رداس 182 pm
Miscellanea
قلمی ساخت سانچہ:Infobox element/crystal structure
آواز کی رفتار thin rod 6000 m/s (at 20 °C)
حرارتی پھیلاؤ 46 µm/(m·K) (at 25 °C)
حر ایصالیت 84.8 W/(m·K)
مزاحمیت 92.8 n Ω·m (at 20 °C)
مقناطیسیت paramagnetic
Young's modulus 4.9 GPa
Shear modulus 4.2 GPa
Bulk modulus 11 GPa
موس پیمانہ 0.6
کیمیائی شعبۂ اخلاص اندراجی عدد 7439-93-2
Main isotopes of lithium
سانچہ:Infobox element/isotopes header
6Li content may be as low as 3.75% in
natural samples. 7Li would therefore
have a content of up to 96.25%.
| references | in Wikidata

لتھیم(lithium) ایک کیمیائی عنصر کا نام ہے جس کا جوہری عدد 3 ہے (یعنی اس کے ہر ایٹم میں تین پروٹون ہوتے ہیں) اور انگریزی نظام میں اس کی علامت Li اختیار کی جاتی ہے۔

وجۂ تسمیہ[ترمیم]

اس عنصر کو ایک سنگ جواہر بنام (LiAlSi4O10) petalite میں دریافت کیا گیا تھا؛ ابتداء میں اس کی شناخت کسی القالی (alkali) خاصیت والی شے کی حیثیت سے ہوئی تھی اور اسی وجہ سے اس کو lithion کا نام دیا گیا۔ پھر اسی سے القالی میں موجود دھات کا نام lithium ماخوذ گیا گیا ہے جہاں ium ایک لاحقہ ہے برائے عنصر کے اور اسے اردو میں صر کے لاحقے سے لکھا جاتا ہے جبکہ lithium نام کا ابتدائیییی حصہ یونانی lithos سے لیا گیا ہے جس کے معنی پتھر (سنگ) کے ہوتے ہیں (کیونکہ یہ petalite پتھر میں دریافت ہوا)۔ اردو میں اس کا متبادل lithos یعنی سنگ اور ium یعنی صر (عنصر) کو ملا کر سنگصر اختیار کیا جاتا ہے۔

بہتات[ترمیم]

لیتھیئم دنیا میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اندازا ہے کہ دنیا بھر کی کانوں سے دیڑھ کروڑ ٹن لیتھیئم نکل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندروں کے پانی میں 200 ارب ٹن لیتھیئم حل شدہ حالت میں موجود ہے۔

استعمال[ترمیم]

لیتھیئم بیٹریوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پژمردگی (ڈپریشن) کے علاج میں بھی۔ مگر اس کا سب سے اہم استعمال نیوکلیئر ری ایکٹر اور جوہری ہتھیاروں میں ہے جہاں اس کی فشن سے ٹرائیٹیئم بنائی جاتی ہے جسے ڈیوٹیریئم سے فیوزن میں استعمال کرتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1917 میں تابکاری سے حاصل ہونے والے الفا ذرات کی بوچھاڑ کو لیتھیئم سے ٹکرانے پر ایک عنصر سے دوسرے عناصر بننے کا پہلی دفعہ مشاہدہ کیا گیا۔
1932 میں کوکروفٹ اور والٹن نے پروٹون کو بلند وولٹیج سے تیز رفتار بنا کر لیتھیئم 7Li سے ٹکرایا جس سے بریلیئم 8Be کا ایٹم وجود میں آیا لیکن نا پائیدار ہونے کی وجہ سے وہ فوراً ٹوٹ کر ہیلیئم بن گیا۔ ایٹم کے مرکزے کو اس طرح پہلی دفعہ توڑا گیا۔

کاسل براوو کا تجربہ[ترمیم]

یکم مارچ 1954 کو امریکہ نے Castle Bravo میں ایک ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا لیکن توقع کے برخلاف یہ دھماکا ضرورت سے کہیں زیادہ بڑا ثابت ہوا۔ اس وقت تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف 6Li میں fission ممکن ہے۔ بعد کی تحقیق سے پتا چلا کہ 7Li بھی نیوٹرون جذب کر کے tritium بناتا ہے جو ہائیڈروجن بم کا اہم ترین اور مہنگا ترین ایندھن ہے لیکن ناپائیداری کی وجہ سے اسے ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے پانچ کی بجائے پندرہ میگا ٹن کا دھماکا ہو گیا۔ صرف ایک سیکنڈ میں سات کلو میٹر بڑا آگ کا گولا بن گیا۔ امریکہ نے آج تک اس سے بڑا دھماکا نہیں کیا۔ دھماکے کی جگہ پر دو کلو میٹر بڑا گڑھا پڑ گیا جو اتنا گہرا تھا کہ حبیب بینک پلازہ جیسی عمارت بھی اس میں با آسانی سما جائے۔

جوہری ایندھن[ترمیم]

ہلکے عناصر میں لیتھیئم وہ واحد عنصر ہے جس میں fusion کی بجائے fission اور توانائی کا اخراج ممکن ہے.
ہائیڈروجن بم میں لیتھیئم ڈیوٹیرائیڈ سب سے اہم جز ہوتا ہے جو لیتھیئم اور ڈیوٹیریئم کا مرکب ہے۔ یہ پائیدار ہوتا ہے اور بم فائر کرنے پر نا پائیدار ٹرائیٹیئم بھی بناتا ہے۔

قدرتی طور پر پائے جانے والے لیتھیئم کے ہر 13 ایٹموں میں سے 12 ایٹم 7Li کے ہوتے ہیں اور صرف ایک ایٹم 6Li کا۔
لیتھیئم6 کے دو ایٹموں سے ہیلیئم4 کے تین ایٹم بن سکتے ہیں جبکہ لیتھیئم7 پروٹون جذب کر کے ہیلیئم4 کے دو ایٹم بناتا ہے اور 17.34MeV توانائی خارج کرتا ہے۔ [1]
نیوٹرون پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا اس لیے اسکی رفتار particle accelerator سے کنٹرول نہیں کی جا سکتی۔ اس کے برعکس پروٹون کی توانائی پارٹیکل ایکسلیریٹر کی مدد سے باآسانی بڑھائی جا سکتی ہے۔

7Li سے نیوٹرون کا عمل جاذب حرارت (endothermic) ہوتا ہے اس لیے صرف وہی تیز رفتار نیوٹرون 7Li کو توڑ سکتے ہیں جنکی توانائی 40 لاکھ الیکٹرون وولٹ سے زیادہ ہو۔ ایسے تیز رفتار نیوٹرون ایٹم بم اور نیوکلیئر ری ایکٹر کے اندر یورینیئم کے مرکزے کے ٹوٹنے سے نکلتے ہیں۔

7
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
3
1
T
 
n

اس عمل میں 2.466 MeV توانائی جذب ہوتی ہے۔ [2]

اس عمل سے نہ صرف قیمتی ٹرائیٹیئم بنتی ہے بلکہ ایک سست رفتار نیوٹرون (Thermal neutron) بھی بنتا ہے جس کی رفتار صرف 2.2 کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے اور جو 6Li سے عمل کرتا ہے جس سے مزید ٹرائیٹیئم بنتی ہے اور MeV 4.8 توانائی کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

6
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
2.05 MeV  3
1
T
 
2.75 MeV  )

ٹرائیٹیئم کا ڈیوٹیریئم سے فیوزن نسبتاً آسانی سے ہوتا ہے

3
1
T
 
2
1
D
 
→  4
2
He
 
n

اس عمل میں 17.6 MeV توانائی خارج ہوتی ہے جو ایک بہت بڑی مقدار ہے۔ خارج ہونے والے اس نیوٹرون کی توانائی 14.1 MeV ہوتی ہے اور رفتار 52,000 کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے یعنی روشنی کی رفتار کا 17 فیصد ہوتی ہے۔ یہ تیز رفتار نیوٹرون ایسے بھاری مرکزوں (heavy nuclei) کو بھی با آسانی توڑ دیتے ہیں جو عام طور پر نہ ٹوٹنے والے (non fissile) کہلاتے ہیں مثلاً یورینیئم 238 جس سے ایٹمی ہتھیاروں کا بیرونی خول بنا ہوتا ہے۔
امریکہ میں لگ بھگ 65 فیصد نیوکلیئر ری ایکٹر ایسے ہیں جو 6Li بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ یہ 6Li چین اور روس میں 7Li سے الگ کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ 1963 تک بنایا جاتا تھا مگر بہت بڑی فالتو مقدار بن جانے کے بعد امریکہ نے اسے بنانا بند کر دیا تھا۔ اس فالتو مقدار کا ذخیرہ اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ [3]

مزیددیکھیئے[ترمیم]

حوالہ[ترمیم]

  1. http://www.alternative-energy-action-now.com/aneutronic-fusion.html
  2. Hisham Zerriffi (January 1996). "Tritium: The environmental, health, budgetary, and strategic effects of the Department of Energy's decision to produce tritium". Institute for Energy and Environmental Research. اخذ کردہ بتاریخ 2010-09-15. 
  3. New York Times