فون پے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فون پے
فون پے پرائیویٹ لیمیٹیڈ
نجی
قیام 2015؛ 4 برس قبل (2015)
بانی
صدر دفتر بنگلور، کرناٹک، بھارت
علاقہ خدمت
بھارت
خدمات یونیفائڈ پے منٹس انٹرفیس
مالک کمپنی فلپ کارٹ
ویب سائٹ www.phonepe.com

فون پے (انگریزی: PhonePe) مالیہ سے جڑی ایک ٹکنالوجی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر بنگلور، بھارت میں واقع ہے۔ اس کی تاسیس دسمبر 2015ء میں ہوئی تھی۔[1] یہ یونیفائڈ پے منٹس انٹرفیس پر مبنی آن لائن ادائیگی کا ایک نظام فراہم کرتی ہے (جو نیشنل پے منٹس کارپوریشن کی جانب سے متعارف کردہ برقی مالیہ کی منتقلی کا ایک نیا طریقہ ہے)۔

اسے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے نیم مسدود پری پیڈ ادائیگی نظام کے جاری کرنے اور رواں رکھنے کا لائسنس بھی حاصل ہے۔[2][3]

تاریخ[ترمیم]

فون پے کو کاروبار کرنے کا لائسنس 26 اگست 2014ء کو ملا اور اس نے اپنا کام دسمبر 2015ء میں شروع کیا۔ بعد ازاں اپریل 2016ء میں اس کمپنی کو فلپ کارٹ نے خرید لیا۔[4][5] فلپ کارٹ میں بازار کاری کے نائب صدر سمیر نگم کو کمپنی کا نیا سی ای او بنا دیا گیا۔[6]

اگست 2016ء میں کمپنی نے یس بینک کی مشارکت سے یونیفائڈ پے منٹس انٹرفیس پر مبنی موبائل پے منٹس ایپ کا آغاز کیا جو ایک طرح سے حکومت ہند کا ترجیحی طریقۂ ادائیگی ہے۔[1][7][8]

قانونی مشکلات[ترمیم]

14 جنوری 2017ء کو آئی سی آئی سی آئی بینک نے فون پے ادائیگیوں کو روک دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ نیشنل بے منٹس کارپوریشن آف انڈیا کی ہدایات پر کھری نہیں اترتی۔[9][10] ابتدا میں نیشنل بے منٹس کارپوریشن آف انڈیا نے 19 جنوری 2017ء کو آئی سی آئی سی آئی کو فون پے کے معاملات کو فون پے ایپ کے لیے جاری رکھنے کی ہدایت دی۔[11] اسی اثنا میں ایئرٹیل نے بھی فون پے معاملتوں کو اپنے پلیٹ فارم پر ممنوع قرار دیا۔[12] نیشنل بے منٹس کارپوریشن آف انڈیا نے 20 جنوری 2017ء کو اپنے فیصلے کو بدلتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا کہ فون پے نے واقعی قواعد کو پامال کیا تھا۔[13][14][15]

اس کے بعد فون پے نے فلپ کارٹ ویب سائٹ پر اپنا کام بند کیا[16]، تاکہ وہ نیشنل بے منٹس کارپوریشن آف انڈیا کے تازہ فیصلے کو اپنا سکے۔ فروری 2017ء تک فون پے نے آئی سی آئی سی آئی سے اپنے مسئلے کو سلجھا لیا۔[17][18]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "Tech in Asia - Connecting Asia's startup ecosystem"۔ www.techinasia.com (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  2. "Reserve Bank of India - Publications"۔ rbi.org.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  3. "Terms of user | PhonePe"۔ PhonePe۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. B. S. Reporter (2016-04-02)۔ "Flipkart buys mobile payments company PhonePe for an undisclosed sum"۔ Business Standard India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  5. "Flipkart acquires former executive's startup PhonePe for payments push"۔ The Economic Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  6. "Sameer Nigam: Executive Profile & Biography - Bloomberg"۔ www.bloomberg.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-12۔
  7. "7 things you must know about the PhonePe app from Flipkart"۔ Flipkart Stories (انگریزی زبان میں)۔ 2017-01-02۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  8. "YES BANK and PhonePe have Partnered to Launch India's 1st UPI Based Mobile Payment App - Press Release"۔ www.yesbank.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  9. Anirban Sen (2017-01-14)۔ "ICICI blocks PhonePe transactions in sign of banks moving to protect payments turf"۔ Livemint۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  10. Alnoor Peermohamed (2017-01-16)۔ "ICICI Bank blocks transactions through Flipkart wallet PhonePe"۔ Business Standard India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  11. "NPCI instructs ICICI to allow UPI transactions on PhonePe immediately"۔ The Economic Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  12. "After ICICI Bank, Airtel also blocks PhonePe - The Economic Times"۔ The Economic Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  13. "NPCI says Flipkart's PhonePe does not follow UPI rules - The Economic Times"۔ The Economic Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  14. IANS (2017-01-21)۔ "PhonePe app in breach of UPI guidelines: NPCI"۔ Business Standard India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  15. PTI (2017-01-20)۔ "PhonePe in violation of UPI norms, says NPCI in U-turn"۔ Livemint۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  16. Vishwanath Nair (2017-01-21)۔ "PhonePe stops all UPI-based payments on Flipkart website"۔ Livemint۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  17. "ICICI Bank resumes UPI transactions on PhonePe - The Economic Times"۔ The Economic Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔
  18. "Flipkart's PhonePe resolves issues with ICICI, claims 70x growth"۔ www.moneycontrol.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-20۔