قندیل بلوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قندیل بلوچ
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1990(1990-03-01)
ڈیرہ غازی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 جولائی 2016(2016-70-15) (عمر  26 سال)
ملتان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات اختناق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کراچی، سندھ، پاکستان
قومیت پاکستانی
دیگر نام قندیل بلوچ
شوہر عاشق حسین (شادی. 2008–10)
اولاد 1
تعداد اولاد 1   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماڈل، اداکارہ، گلوکارہ
دور فعالیت 2013–16
شعبۂ عمل ماڈل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.qandeelbaloch.in
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

فوزیہ عظیم (یکم مارچ 1990 – 15 جولائی 2016) جو قندیل بلوچ کے نام سے مشہور تھیں، ایک پاکستانی ماڈل، اداکارہ، حقوقِ نسواں کی علمبردار اور سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت تھیں۔ سوشل نیٹ ورک پر اپنی روز مرہ زندگی اور مختلف متنازع معامالات پر اپنی وڈیوز کی وجہ سے وہ شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔

قندیل بلوچ کو سب سے پہلے 2013ء میں میڈیا کی طرف سے توجہ ملی جب وہ پاکستان آئڈل نامی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔ ان کا آڈیشن انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور انہیں انٹرنیٹ پر شہرت ملی۔ وہ پاکستان میں انٹرنیٹ پر تلاش کی جانی والی 10 اولین شخصیات میں شمار ہوتی تھیں اور ان کی پوسٹس اور وڈیوزپرجفج کے موضوعات اور مواد پر انہیں اکثر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

15 جولائی 2016ء کی رات کو نیند کے دوران ان کا گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ وہ اپنے والدین کے پاس ملتان آئی ہوئی تھیں۔ ان کے بھائی وسیم عظیم نے اس قتل کو تسلیم کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مقتولہ ‘خاندان کی عزت پر حرف‘ لانے کا سبب بن رہی تھیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

قندیل بلوچ یکم مارچ 1990ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی پرورش شاہ صدر دین میں ہوئی۔ ان کے چھ بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ ان کی پہلی ملازمت بس میزبان کی تھی۔

کیریئر[ترمیم]

قندیل بلوچ کی شہرت کا دارومدار سوشل میڈیا پر ان کے مراسلے تھے جن میں تصاویر، وڈیوز اور تبصرے شامل ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کی قدامت پسند اکثریت کے خیال میں وہ بہت زیادہ بے باک تھیں۔ بعض بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ان کا مقابلہ کم کردیشین سے کیا مگر مقامی مبصرین نے انہیں کم کردیشین سے زیادہ اہم قرار دیا کہ قندیل بلوچ معاشرے کے رواج کے خلاف کھڑی ہو گئی تھیں اور اپنی مرضی کی زندگی جی رہی تھیں۔

جون 2016ء میں قندیل کی ملاقات ایک بزرگ مذہبی عالم مفتی عبد القوی سے ہوٹل کے کمرے میں ہوئی۔ ملاقات کا مقصد دین کے بارے معلومات کا حصول تھا۔ تاہم اس ملاقات سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ان کی تصاویر انتہائی تیزی سے پھیلنے لگیں۔ ان تصاویر میں قندیل بلوچ نے مفتی کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ نیز اس ملاقات کے نتیجے میں مفتی کو پاکستانی مذہبی کمیٹیوں میں اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس سے قبل قندیل بلوچ کو سوشل میڈیا پر اس وقت زیادہ توجہ ملی جب انہوں نے اعلان کیا کہ اگر پاکستان 18 مارچ 2016ء کو بھارت کے خلاف ٹی 20 مقابلہ جیت گیا تو وہ عریاں رقص کریں گی جو شاہد آفریدی کے نام ہوگا۔ یہ مختصر اعلان سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی مانند پھیل گیا مگر پاکستان اس مقابلے میں ناکام رہا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں بعضوں نے قندیل بلوچ کا موازنہ پونم پانڈے سے بھی کیا کہ دونوں میں شخصیات متنازع اور ایک دوسرے سے مماثل تھیں۔

جوں جوں سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی عام ہوتی گئی، انہوں نے پاکستانی معاشرے میں خواتین کے مقام پر بات کرنا شروع کر دی۔ وفات سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے ایک موسیقی کی وڈیو جاری کی جس کا نام ‘بین‘ تھا اور اس میں انہوں نے پاکستان میں خواتین پر لگائی جانے والے پابندیوں پر بات کی۔

ایک متنازع میزبان مبشر لقمان کے ساتھ بات کرتے ہوئے قندیل بلوچ نے سنی لیونی، راکھی ساونت اور پونم پانڈے سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔ قندیل نے یہ بھی بتایا کہ بہت سارے میڈیا گروپ، ادارے اور لوگ انہیں اپنے شوز میں دعوت دے رہے ہیں تاکہ ان کے پروگرام کی ریٹنگ بڑھ سکے۔

حفاظتی خدشات[ترمیم]

جون 2016ء کو مفتی عبد القوی سے ملاقات کے بعد قندیل بلوچ نے بتایا کہ انہیں مفتی عبد القوی اور دیگر افراد کی جانب سے موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اسی وقت قندیل بلوچ کے سابقہ شوہر کی جانب سے میڈیا میں ان کی مختصر شادی کے بارے معلومات آنا شروع ہو گئیں۔ قندیل بلوچ نے اپنے شوہر کے بارے بتایا کہ وہ تشدد کرتا تھا اور کھلے عام اپنی شادی سے ہونے والی تکالیف کے بارے روتے ہوئے بات کی۔ 14 جولائی 2016ء کو قندیل بلوچ نے ایکسپریس ٹریبیون کے نامہ نگار سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنی جان کو لاحق خطرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پولیس سے مدد مانگی مگر کوئی جواب نہ ملنے پر وہ اپنے والدین کے ہمراہ عید الفطر کے بعد پاکستان سے باہر منتقل ہو رہی ہیں کہ پاکستان میں وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

قندیل بلوچ کی شادی عاشق حسین سے 2008ء میں ہوئی اور دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے۔ قندیل بلوچ نے ایک سال بعد اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی کہ ان کا شوہر مارتا ہے۔ قندیل بلوچ کی دوسری شادی کے بارے بھی اطلاعات آتی رہی ہیں۔

قتل[ترمیم]

15 جولائی 2016ء کو قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے نشہ آور دوا دے کر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ قتل کی یہ واردات ملتان میں قندیل بلوچ کے والدین کے گھر ہوئی۔ قتل کی اطلاع سب سے پہلے ان کے والد عظیم نے دی۔ پہلے پہل ہلاکت کا سبب گولی قرار دی گئی مگر پھر ڈاکٹری معائینے سے علم ہوا کہ موت کی وجہ دم گھٹنا تھی۔ قتل کی یہ واردات 15–16 جولائی کی درمیانی رات کو سوا گیارہ سے ساڑھے گیارہ بجے کے درمیان ہوئی۔ جب لاش دریافت ہوئی تو قتل کو ہوئے پندرہ سے 36 گھنٹے گزر چکے تھے۔ قندیل بلوچ کی لاش پر موجود نشانات سے علم ہوا کہ ان کا منہ اور ناک بند کر کے قتل کیا گیا۔ پولیس نے اس قتل کو ‘ناموسی قتل‘ قرار دیا۔

قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی جس میں مقتولہ کے بھائی وسیم اور دوسرے بھائی اسلم شاہین کو ملزم نامزد کیا گیا کہ اسلم شاہین نے ہی وسیم کو قتل پر آمادہ کیا۔ قندیل بلوچ کے والد عظیم نے ایف آئی آر میں بتایا کہ مقتولہ کو اس کے بھائی وسیم اور اسلم شاہین نے پیسوں کی خاطر قتل کیا۔ مقتولہ کے والد نے پریس کو بتایا: ‘میری بیٹی بہادر تھی اور میں اس کے بہیمانہ قتل کو نہ تو بھولوں گا اور نہ ہی معاف کروں گا‘۔

وسیم بلوچ کو 16 جولائی کی شام کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے اپنی بہن کے قتل کو تسلیم کیا اور بتایا: ‘وہ (قندیل بلوچ) خاندان کا نام ڈبو رہی تھی اور میں اسے مزید برداشت نہ کر سکا۔ میں نے اسے جمعہ کی رات ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ جب سارے گھر والے سو گئے تھے، قتل کر دیا۔ میرا بھائی اس قتل میں شامل نہیں۔‘

اس مقدمے کے مدعیت میں ریاست بھی شامل ہے جس کی وجہ سے مقتولہ کے لواحقین قاتل کو معاف نہیں کر سکتے۔

ردِ عمل[ترمیم]

قندیل بلوچ کے قتل کی میڈیا کی مشہور شخصیات اور عام لوگوں نے دنیا بھر سے مذمت کی جبکہ بعض پاکستانی لوگ اس قتل کی حمایت کرتے نظر آئے۔ عمران خان، بلال بھٹو زرداری، شرمیلا فاروقی، ریحام خان، صنم بلوچ، عثمان خالد بٹ، میشا شفیع، نادیہ حسین اور علی ظفر جیسی شخصیات نے قتل کی مذمت کی۔ مشہور فلم ساز شرمین عبید چنائے نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ‘مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جب تک ہم ایسے مجرموں کو نشانِ عبرت نہ بنائیں، جب تک ایسے قاتلوں کو جیل نہ بھیجا جائے، جب تک ہم ایسے قتل کو یک زبان ہو کر مسترد نہ کریں اور یہ بات واضح ہو کہ ایسے قاتل اپنی بقیہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بسر کریں گے، تب تک کہ اس ملک میں کوئی بھی عورت محفوظ نہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ ہم اخبار اٹھائیں اور اس میں کسی عورت کے قتل کی خبر نہ موجود ہو۔ یہ چیز وبائی صورت اختیار کر چکی ہے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مئے نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ایسے قتل میں کوئی عزت یا ناموس نہیں ہوتی اور ایسی واردات کو دہشت گردی شمار کیا جانا چاہیے۔[1] خاندان کی عزت کے نام پر کسی عورت کو اس کے مرد رشتہ دار کی جانب سے قتل مجرمانہ فعل ہے۔[2] ناموسی قتل کے خلاف قانون بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اعلان کیا: ہم نے تجاویز اور بحث کے بعد اس قانون کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس کو جلد از جلد مکمل کر کے 21 جولائی کو پارلیمان میں مزید بحث اور منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔[3][4]

قندیل بلوچ کے لیے لاہور اور کراچی میں موم بتیاں جلائیں گئیں۔[5] بین الاقوامی میڈیا جیسا کہ ڈیلی میل، [6] دی گارڈین،[7] یو ایس اے ٹوڈے،[8] نیو یارک ٹائمز،[9] ٹائم،[10] وال اسٹریٹ جرنل،[11] واشنگٹن پوسٹ،[12] ٹائمز آف انڈیا،[13] دی ہالی ووڈ رپورٹر،[14] دی گلوب اینڈ میل،[15] اور دیگر بہت سارے اداروں نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ناموسی قتل کے خلاف بیداری میں حصہ لیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Laura Hughes (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Theresa May says there is 'no honour' in so-called honour killings"۔ روزنامہ ٹیلی گراف۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2016۔
  2. Hamza Rao (19 جولا‎ئی 2016)۔ "British Prime Minister also speaks up about Qandeel Baloch's murder"۔ Sky News۔ روزنامہ پاکستان۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2016۔
  3. "Pakistan to pass law against honor killings in weeks: Maryam Nawaz"۔ Sama TV۔ 19 جولا‎ئی 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2016۔
  4. Mehreen Zahra-Malik (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Pakistan to pass law against honor killings in weeks: PM's daughter"۔ روئٹرز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2016۔
  5. "Taken away: Vigil held for Qandeel Baloch"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جولا‎ئی 2016۔
  6. Joseph Curtis (19 جولا‎ئی 2016)۔ "'I'm not embarrassed. Of course I strangled her': Arrested brother of 'Pakistan's Kim Kardashian' admits he killed her because she refused to stop posting provocative photographs on Facebook"۔ ڈیلی میل۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2016۔
  7. Moni Mohsin (19 جولا‎ئی 2016)۔ "The dishonourable killing of Qandeel Baloch"۔ دی گارڈین۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2016۔
  8. Nick Penzenstadler (16 جولا‎ئی 2016)۔ "Pakistani model killed after offending conservatives"۔ یو ایس اے ٹوڈے۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2016۔
  9. Salman Masood (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Qandeel Baloch, Pakistani Social Media Celebrity, Dead in Apparent Honor Killing"۔ نیو یارک ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2016۔
  10. Katie Reilly (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Pakistani Model Qandeel Baloch Strangled by Brother in Apparent 'Honor Killing'"۔ ٹائم۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔
  11. Qasim Nauman (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Qandeel Baloch, a Pakistani Internet Celebrity, Is Killed in 'Honor Killing'"۔ وال اسٹریٹ جرنل۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔
  12. Munir Ahmed (19 جولا‎ئی 2016)۔ "Pakistani fashion model Qandeel Baloch, who recently stirred controversy by posting pictures of herself with a Muslim cleric on social media, was strangled to death by her brother, police said Saturday."۔ واشنگٹن پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔
  13. "Qandeel Baloch no more Know everything about the Pakistani model"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ 19 جولا‎ئی 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔
  14. "PAKISTANI MODEL AND SOCIAL MEDIA STAR QANDEEL BALOCH MURDERED IN HONOR KILLING"۔ دی ہالی ووڈ رپورٹر۔ 19 جولا‎ئی 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔
  15. Shaista Aziz (19 جولا‎ئی 2016)۔ "The murder of Qandeel Baloch lifts the lid on misogyny in Pakistan"۔ دی گلوب اینڈ میل۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2016۔

بیرونی روابط[ترمیم]