مدنی سورہ
| قرآن مقدس |
|---|
حروف مقطعات (عربی: حروف مقطعات، اوائل السور، فواتح السور) قرآن مجید کی 29 سورتوں کے آغاز میں آنے والے وہ منفرد اور مجرد عربی حروف ہیں جن کا اصل مطلب واضح نہیں، مثلاً "الم"، "المر" اور "طٰہٰ" وغیرہ۔[1] یہ حروف ملا کر نہیں بلکہ ایک ایک کر کے، اپنے الگ الگ ناموں کے ساتھ اور سکون کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔[1] قرآن کی چار سورتوں کے نام انہی حروف کی مناسبت سے رکھے گئے ہیں: سورہ طہ، سورہ یس، سورۃ ص اور سورۃ ق۔[2]
اصطلاحی مفہوم اور خصوصیات
[ترمیم]عربی زبان میں "مقطعات" کا لفظ "تقطیع" سے نکلا ہے، جس کا مطلب کاٹ کر یا الگ الگ پڑھنا ہے۔[1] علومِ قرآن میں "حروف مقطعات" سے مراد وہ اکیلے حروف ہیں جو قرآن کریم کی بعض سورتوں کی پہلی آیت کے طور پر آتے ہیں۔[3] انھیں پڑھتے وقت حرف کی آواز کی بجائے اس کا نام لیا جاتا ہے، جیسے "الم" کو "الف، لام، میم" اور "طسم" کو "طا، سین، میم" پڑھا جاتا ہے اور ہر حرف پر سکون کیا جاتا ہے۔[4]
عربی حروفِ تہجی کل 28 ہیں، جبکہ تکرار نکالنے کے بعد حروفِ مقطعات کی تعداد صرف 14 رہ جاتی ہے، یعنی ٹھیک آدھی۔[5] یہ چودہ حروف ہیں: ا، ل، م، ص، ر، ک، ہ، ی، ع، ط، س، ح، ق، ن۔ انھیں یاد رکھنے کے لیے علما نے چند مختصر جملے بھی بنائے ہیں، جن میں "نص حکیم قاطع لہ سر" زیادہ مشہور ہے۔[6]
حروف مقطعات پر مشتمل سورتوں کی فہرست
[ترمیم]ذیل کے جدول میں ان تمام 29 سورتوں کی فہرست دی گئی ہے جن کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے:
| نمبر شمار | سورۃ کا شمار | سورۃ کا نام | حروف مقطعات |
|---|---|---|---|
| 1 | 2 | سورۃ البقرہ | الم |
| 2 | 3 | سورۃ آل عمران | الم |
| 3 | 7 | سورۃ الاعراف | المص |
| 4 | 10 | سورۃ یونس | الر |
| 5 | 11 | سورۃ ہود | الر |
| 6 | 12 | سورۃ یوسف | الر |
| 7 | 13 | سورۃ الرعد | المر |
| 8 | 14 | سورۃ ابراہیم | الر |
| 9 | 15 | سورہ الحجر | الر |
| 10 | 19 | سورۃ مریم | كهيعص |
| 11 | 20 | سورہ طہ | طه |
| 12 | 26 | سورۃ الشعراء | طسم |
| 13 | 27 | سورۃ النمل | طس |
| 14 | 28 | سورۃ القصص | طسم |
| 15 | 29 | سورۃ العنکبوت | الم |
| 16 | 30 | سورۃ الروم | الم |
| 17 | 31 | سورۃ لقمان | الم |
| 18 | 32 | سورۃ السجدہ | الم |
| 19 | 36 | سورہ یس | يس |
| 20 | 38 | سورۃ ص | ص |
| 21 | 40 | سورۃ غافر | حم |
| 22 | 41 | سورۃ فصلت | حم |
| 23 | 42 | سورۃ الشوری | حم، عسق |
| 24 | 43 | سورۃ الزخرف | حم |
| 25 | 44 | سورۃ الدخان | حم |
| 26 | 45 | سورۃ الجاثیہ | حم |
| 27 | 46 | سورۃ الاحقاف | حم |
| 28 | 50 | سورۃ ق | ق |
| 29 | 68 | سورہ القلم | ن |
سورہ وار تقسیم اور ساخت
[ترمیم]مصحفِ عثمانی میں کل 29 سورتیں حروفِ مقطعات سے شروع ہوتی ہیں، جن میں سے 26 مکی اور صرف 3 (سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ الرعد) مدنی ہیں۔[7] حروف کی تعداد کے لحاظ سے انھیں پانچ قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے:[5]
- ایک حرفی: سورۃ ص، سورۃ ق اور سورہ القلم۔[8]
- دو حرفی: سورہ طہ، سورۃ النمل، سورہ یس اور چھ "حوامیم" سورتیں یعنی سورۃ غافر، سورۃ فصلت، سورۃ الزخرف، سورۃ الدخان، سورۃ الجاثیہ اور سورۃ الاحقاف۔[8]
- تین حرفی: چھ سورتیں "الم" سے، پانچ سورتیں "الر" سے اور دو سورتیں "طسم" سے شروع ہوتی ہیں۔[8]
- چار حرفی: سورۃ الاعراف ("المص") اور سورۃ الرعد ("المر")۔[8]
- پانچ حرفی: سورۃ مریم ("كهيعص") اور سورۃ الشوری ("حم عسق")۔[8]
معانی اور حکمت میں علما کے اقوال
[ترمیم]علما نے حروفِ مقطعات کے مطلب اور مقصد کے بارے میں مختلف آراء دی ہیں:[9]
یہ اللہ ہی کا راز ہیں
[ترمیم]اکثر صحابہ کرام، جیسے حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر بن الخطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود اور مشہور مفسر ابن کثیر[10] کا خیال ہے کہ ان حروف کا حقیقی مطلب اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔[6][11] امام عامر الشعبی کا مشہور قول ہے کہ ہر کتاب کا ایک راز ہوتا ہے اور قرآن کا راز یہی فواتح السور ہیں۔[6] اس نظریے کے مطابق مومن کا کام صرف انھیں پڑھنا اور ان پر ایمان لانا ہے، ان کا مطلب تلاش کرنا ضروری نہیں۔[11]
قرآن کے اعجاز کا اعلان
[ترمیم]امام المبرد، قطرب، الفراء، زمخشری، ابن تیمیہ اور دیگر محققین کے نزدیک ان حروف کا مقصد عربوں کو چیلنج دینا اور قرآن کے اعجاز کو ثابت کرنا تھا۔[9][12] اس نظریے کے مطابق اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ معجزانہ کلام انہی چودہ حروف سے بنا ہے جو عرب روزمرہ بولتے اور شعر کہتے ہیں، پھر بھی کوئی اس جیسی ایک چھوٹی سورة بھی نہ بنا سکا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، کسی انسان کا نہیں۔[9]
دیگر خیالات
[ترمیم]- سورتوں کے نام: امام سیبویہ کے نزدیک یہ حروف انہی سورتوں کے نام اور علامت ہیں۔[6]
- اسماءِ الٰہی کے مخفف: بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ اللہ کے صفاتی ناموں کا اختصار ہیں؛ جیسے "الم" کا مطلب "میں اللہ سب جانتا ہوں" اور "الر" کا مطلب "میں اللہ دیکھتا ہوں" بتایا گیا ہے۔[6]
- توجہ دلانے کے لیے: بعض علما کہتے ہیں کہ مشرکینِ مکہ تلاوت کے وقت شور مچاتے تھے، اس لیے ان انوکھے حروف سے ان کی توجہ سورة کی طرف کھینچی جاتی تھی۔[5]
- ابن عباس، فراہی اور اصلاحی کا نقطۂ نظر: حضرت عبد اللہ بن عباس اور بعد میں حمید الدین فراہی و امین احسن اصلاحی کے نزدیک عرب انہی حروف سے کچھ چیزوں کی طرف اشارہ کرتے تھے، مثلاً "ط" سے اژدہا اور "ن" سے مچھلی۔[13]
- عدد 19 کا نظریہ: مصری محقق رشد خلیفہ نے ان حروف کو عدد 19 کے ریاضیاتی نظام سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر اکثر علما اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔[14]
صوتی خصوصیات
[ترمیم]ماہرینِ بلاغت نے بتایا ہے کہ حروفِ مقطعات میں عربی آوازوں کی اقسام کا آدھا آدھا توازن پایا جاتا ہے:[5]
- عربی کے 10 مہموسہ (دھیمی آواز والے) حروف میں سے ٹھیک 5 (ح، ہ، ص، س، ک) ان مقطعات میں شامل ہیں۔[5]
- حروفِ شدیدہ کا آدھا حصہ یعنی 4 حروف (أ، ک، ق، ط) ان میں موجود ہیں۔[5]
- حروفِ مطبقہ (ط، ظ، ص، ض) میں سے آدھے یعنی 2 حروف (ط، ص) یہاں آئے ہیں۔[5]
- حروفِ مستعلیہ کا بھی ٹھیک آدھا حصہ ان میں شامل کیا گیا ہے۔[5]
اس متوازن تقسیم کو علما قرآن کے نظم کی ایک خوبصورت مثال قرار دیتے ہیں۔[7]
حروفِ مقطعات اور ذکرِ قرآن کا ربط
[ترمیم]ابن کثیر اور دیگر مفسرین نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ جس سورة کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے، اس کے فوراً بعد عموماً قرآن، کتاب یا وحی کا ذکر آتا ہے۔[12][9] جیسے سورۃ البقرہ کی "الم" کے بعد "ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" اور سورہ یس کی "يس" کے بعد "وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ" آتا ہے۔[9] صرف چند سورتیں جیسے سورۃ مریم اور سورۃ الروم میں کتاب کا ذکر تھوڑا آگے جا کر ہوتا ہے۔[7] علما کے نزدیک یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ ان حروف کا اصل مقصد قرآن کی عظمت اور اعجاز کا اعلان کرنا ہے۔[12]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 ف. عبد الرحيم (2010)۔ معجم المصطلحات القرآنية۔ المدينة المنورة: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف۔ ج 1۔ ص 6
- ↑ احمد یار خان نعیمی (2009)۔ علم القرآن۔ لاہور: نعیمی کتب خانہ۔ ص 16
- ↑ إبراهيم محمد الجرمي (2001)۔ معجم علوم القرآن۔ دمشق: دار القلم۔ ج 1۔ ص 132
- ↑ إياس محمد حرب آل خطاب (2011)۔ القول المعتبر في بيان الإعجاز للحروف المقطعة من فواتح السور۔ الخرطوم: مطابع برنتك للطباعة والتغليف۔ ج 1۔ ص 71
- 1 2 3 4 5 6 7 8 بدر الدين الزركشي (1957)۔ البرهان في علوم القرآن۔ القاهرة: دار إحياء الكتب العربية۔ ج 1۔ ص 166
- 1 2 3 4 5 جلال الدين السيوطي (1951)۔ الإتقان في علوم القرآن۔ القاهرة: مطبعة مصطفى البابي الحلبي۔ ج 3۔ ص 27
- 1 2 3 عائشة عبد الرحمن (1971)۔ الإعجاز البياني للقرآن ومسائل ابن الأزرق۔ القاهرة: دار المعارف۔ ج 1۔ ص 141
- 1 2 3 4 5 محمد بكر إسماعيل (1999)۔ دراسات في علوم القرآن۔ القاهرة: دار المنار۔ ج 1۔ ص 205
- 1 2 3 4 5 مناع خليل القطان (2000)۔ مباحث في علوم القرآن۔ القاهرة: مكتبة وهبة۔ ج 1۔ ص 216
- ↑ ابن کثیر۔ تفسیر القرآن العظیم
- 1 2 فهد بن عبد الرحمن الرومي (2003)۔ دراسات في علوم القرآن الكريم۔ الرياض: حقوق الطبع محفوظة للمؤلف۔ ج 1۔ ص 205
- 1 2 3 مساعد بن سليمان الطيار (2008)۔ المحرر في علوم القرآن۔ جدة: مركز الدراسات والمعلومات القرآنية بمعهد الإمام الشاطبي۔ ج 1۔ ص 175
- ↑ امین احسن اصلاحی۔ تدبر القرآن۔ ص 82
- ↑ "حروف مقطعات از ڈاکٹر خلیفہ"۔ 2007-02-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-04-02