اسباب نزول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرآن 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ جو اکثر حالات و واقعات کے مطابق ہوتا تھا۔ قرآن کی موجودہ ترتیب وہ نہیں ہے جس سے یہ نازل ہوا تھا۔ جن حالات و واقعات، اعتراضات و استفسارات وغیرہ کے جواب میں قرآن کا جو حصہ نازل ہوا۔ وہ وجہ یا سبب ہی ان آیات یا سورہ یا سبب نزول کہلاتا ہے۔ جو عام طور پر سبب کی جمع اسباب کے ساتھ بطور اصطلاح بولا اور لکھا جاتا ہے۔

مفسرین کی اصطلاحات[ترمیم]

  • اسباب نزول کا بیان کرتے ہوئے مفسرین مندرجہ ذیل اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔
  • فی کذا اس بارے میں
  • نزلت فی کذا اس بارے میں نازل ہوئی
  • فانزل اللہ تعالٰی پس اللہ تعالٰ نے نازل فرمایا
  • فنزلت پس نازل ہوئی

فی کذا کی اصطلاح صحابہ اور تابعین کے دور میں اسباب نزول کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ وہ اس اصطلاح کو دور رسالت میں واقع ہونے والے کسی ایک واقعہ کے لیے بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ جن پر آیت صادق آتی تھی۔ بعض دفعہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سوال پیش کیا جاتا یا آپ کے عہد میں کبھی کوئی خاص واقعہ ہوا اور آپ نے ایسے موقعوں پر قرآن کی کسی آیت سے کوئی حکم متنبط فرمایا تو ساتھ ہی اس آیت کی تلاوت بھی فرما دی، صحابہ اس طرح کے مواقع پر بھی وہی اصطلاح استعمال کرتے تھے اور اس قسم کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے نزلت فی کذا اس بارے میں نازل ہوا۔

مفسرین اسباب نزول بیان کرتے وقت کئی قسم کے امور پیش کرتے ہیں۔

  • آیت کے ناول ہونے سے پہلے کونا سا واقعہ پیش آیا؟
  • یہ آیت کسی خاص شخص یا قوم کے حق میں یا مذمت میں نازل ہوئی۔
  • یہ آیت نازل ہونے سے پہلے فلاں مسئلہ زیر بحث تھا۔
  • یہ آیت کسی صحابی نے فلاں واقعہ، شخص یا مسئلہ سے منسوب کی۔
  • اس آيت کے بارے میں فلاں حدیث پیش کی جا سکتی ہے۔
  • رسول نے اس آیت سے فلاں مسئلہ کا استنباط کیا تھا۔
  • یہ آیت رسول نے صحابہ کے درمیان اس مقصد کے لیے تلاوت فرمائی۔
  • اس آیت میں فلاں تاریخی وافعہ بیان کیا گیا ہے۔
  • اس آیت میں مشرکین، منافقین، یہود و نصاریٰ سے مخاصمہ کیا گیا ہے۔
  • یہ آیت لوکوں کے عقائد باطلہ کے بطلان کے لیے نازل ہوئی۔

شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں : قرآن صرف لوکوں کے نفسوں کی تہذیب اور ان کے باطل عقائد اور فاسد اعمال کی اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے۔ لہذا مختلف قسم کی آیات کے اسباب نزول بھی مختلف ہیں۔ مثلا:

  • آیات مخاصمہ کے نزول کا سبب، لوگوں کے عقائد باطلہ ہیں۔
  • آیات احکام کے نزول کا سبب، لوگوں کے فاسد اعمال اور ان کے درمیان مظالم کا رواج ہے۔
  • آیات تذکیر کے نزورل کا سبب یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالٰی کی نشانیوں کی طرف سے بے توجہی اور لاپروائی برتتے تھے۔
  • آیات تذکیر بالموت و مابعد، میں موت اور موت کے بعد کے حالات بیان کرنے کا سبب یہ ہے کہ لوگ حشر و نشر میں شکوک و شبہات رکھتے تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]