مفتی احمد یار خاں نعیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مفتی احمد یار خاں نعیمی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1904  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 24 اکتوبر 1971 (66–67 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
کارہائے نمایاں تفسیر نعیمی،  ونور العرفان فی حاشیہ قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی بدایونی گجراتی سنی مفسرِ قرآن، مفتی اور نعت گو شاعر تھے، احمد یار خان نعیمی احمد رضا خان بریلوی کے فیض یافتہ اور بہت سی دینی کتب کے مصنف تھے۔

ولادت[ترمیم]

مفتی احمد یار خان محلہاوجھیانی، بدایوں ضلع میں 4جمادی الاولیٰ 1314ھ بمطابق یکم مارچ 1894ء میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی مولانا محمدیار خان ابن منور خان تھے۔ ان کا تعلق یوسف زئی پٹھان قبیلے سے تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بدایوں یوپی مدرسہ شمس العلوم بدایوں میں مولانا قدیر بخش سے دینی تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ اسلامیہ مین ڈھو، علی گڑھ ضلع میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مراد آباد جا کر مدرسہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا۔ یہاں مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے آپ کی قابلیت دیکھ کر بذات خود تعلیم دی۔ بیس سال کی عمر میں درس نظامی کی تکمیل پر اسی مدرسہ میں بطور مدرس آپ کی تعیناتی ہوئی۔ تدریسی فرائض کے علاوہ فتوی بھی جاری کرتے تھے۔

تین سال تک کچھوچھہ شریف میں قیام رہا۔ مولانا سید ابو البرکات احمد کی دعوت پر پاکستان تشریف لائے اور بارہ تیرہ سال دارالعلوم خدام الصوفیہ اور دس برس انجمن خدام الرسول میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔

تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کے لیے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔

تصانیف[ترمیم]

وفات[ترمیم]

3رمضان المبارک 1391ھ بمطابق 24 اکتوبر 1971ء کو وصال فرمایا۔ نماز جنازہ مولانا سید ابو البرکات احمد نے پڑھائی۔ آپ کا مزار ضلع گجرات پاکستان میں ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فیضان مفتی احمد یار خان نعیمی،مکتبہ المدینہ کراچی