مندرجات کا رخ کریں

ویعاماخت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ویرماخٹ سے رجوع مکرر)
جرمن ریخ کی مسلح افواج
Wehrmacht
شعارGott mit uns[2]
(ترجمہ: "خدا ہمارے ساتھ ہے")
قیام16 مارچ 1935؛ 91 سال قبل (1935-03-16)
موقوفی20 اگست 1946؛ 79 سال قبل (1946-08-20)[پ]
خدماتی شاخیں
صدر دفترمے باخ II، ونسڈورف
52°10′57″N 13°28′27″E / 52.1826°N 13.4741°E / 52.1826; 13.4741 (Maybach II)
قیادت
سپریم کمانڈر
(1935–1945)
کمانڈر ان چیف
(1935–1938)
وزیر جنگ
(1935–1938, 1945)
ورنر فون بلومبرگ (پہلے)
کارل ڈونٹز (آخری)[ت]
ویرماخت ہائی کمان کے سربراہ
(1938–1945)
ولہیلم کیٹل (پہلے)
الفریڈ جوڈل (آخری)
افرادی قوت
عسکری مدت18–45
جبری بھرتی1–2 سال؛ قومی خدمت
فوجی عمر
سالانہ عمر
700,000 (1935)[5]
فعال اہلکار18,200,000 (کل خدمات انجام دینے والے)[6]
خرچے
بجٹ
جی ڈی پی کا فیصد
متعلقہ مضامین
تاریخجنگ عظیم دوم کے دوران جرمنی
درجے

وِیعاماخت یا وِیعَہ ماخت یا وِیئَع ماخت ( لفظی ترجمہ: 'دفاعی قوت') 1935ء سے 1945ء تک نازی جرمنی کی متحدہ مسلح افواج کا نام تھا۔ یہ بری فوج (Heer)، بحری فوج (کھغیگس ماغینہ) اور فضائی فوج (لوفت وافہ) پر مشتمل تھی۔ "ویعاماخت" کے نام نے سابقہ اصطلاح غائخس ویعا (Reichswehr) کی جگہ لی اور یہ نازی حکومت کی ان کوششوں کا مظہر تھا جن کا مقصد جرمنی کو معاہدہ ورسائی کی اجازت سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر دوبارہ مسلح کرنا تھا۔[9]

1933ء میں نازیوں کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد، ہٹلر کا ایک اہم اور جارحانہ اقدام وِیعاماخت کا قیام تھا، جو ایک جدید اور حملہ آور صلاحیتوں کی حامل مسلح فوج تھی۔ اس کا مقصد کھوئے ہوئے علاقوں کی واپسی اور پڑوسی ممالک پر غلبہ حاصل کرنا تھا۔ اس کے لیے جبری فوجی بھرتی کی بحالی اور اسلحہ سازی کی صنعت پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔[10]

وِیعاماخت جرمنی کی سیاسی و فوجی طاقت کا مرکز تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے ابتدائی حصے میں، وِیعاماخت نے فضائی تعاون، ٹینکوں اور پیادہ فوج کے مربوط استعمال (Combined arms) کے ذریعے تباہ کن نتائج حاصل کیے، جسے "بلتس کغیگ" (Blitzkrieg - آسمانی بجلی جیسی تیز جنگ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فرانس (1940ء)، سوویت یونین (1941ء) اور شمالی افریقہ (1941/42ء) میں اس کی مہمات کو مورخین جرات مندانہ اقدامات قرار دیتے ہیں۔[11] تاہم، وسیع پیش قدمی نے ویرماخت کی صلاحیتوں کو حد سے زیادہ پھیلا دیا، جس کا نتیجہ ماسکو کی لڑائی (1941ء) میں پہلی بڑی شکست کی صورت میں نکلا۔ 1942ء کے اواخر تک، جرمنی تمام محاذوں پر اپنی برتری کھو رہا تھا۔[12]

نازی دستوں (SS) کے ساتھ مل کر، جرمن مسلح افواج نے متعدد جنگی جرائم کا ارتکاب کیا (اگرچہ بعد میں ان سے انکار کیا گیا اور "پاک باز ویرماخت" کا افسانہ فروغ دیا گیا)۔[13] زیادہ تر جنگی جرائم سوویت یونین، پولینڈ، یوگوسلاویہ، یونان اور اٹلی میں ہوئے، جو سوویت یونین کے خلاف تباہی کی جنگ اور ہولوکاسٹ کا حصہ تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران تقریباً 18 ملین مردوں نے ویرماخت میں خدمات انجام دیں۔[6] مئی 1945ء میں یورپ میں جنگ کے خاتمے تک، جرمن افواج کے تقریباً 11,300,000 آدمی ضائع ہو چکے تھے، جن میں سے تقریباً 5,318,000 لاپتہ، ہلاک یا قید میں مارے گئے۔[14]

آغاز

[ترمیم]

اشتقاقیات

[ترمیم]

جرمن اصطلاح "Wehrmacht" دو الفاظ کا مجموعہ ہے: wehren (اردو:وِیغَن) (دفاع کرنا) اور Macht (اردو:ماخت) (طاقت یا فوج)۔ تاریخی طور پر یہ لفظ کسی بھی ملک کی مسلح افواج کے لیے استعمال ہوتا تھا، جیسے برطانوی مسلح افواج کے لیے جرمن زبان میں Britische Wehrmacht کہا جاتا تھا۔ 1849ء کے فرینکفرٹ آئین میں تمام جرمن فوجی قوتوں کو "جرمن ویرماخت" کا نام دیا گیا تھا۔[15]

نازی اقتدار اور عروج

[ترمیم]

صدر پال فون ہند برگ کی وفات کے بعد ایڈولف ہٹلر نے جرمنی کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بن گئے۔ فروری 1934ء میں وزیر دفاع ورنر فون بلومبرگ نے اپنی پہل پر فوج سے یہودیوں کو نکالنے کا حکم دیا۔ اسی سال اگست میں، پوری فوج نے ہٹلر کے ساتھ ذاتی وفاداری کا حلف لیا، جسے "ہٹلر کا حلف" (Hitler oath) کہا جاتا ہے۔[16]

جنگی جرائم

[ترمیم]

نازی پروپیگنڈے نے ویرماخت کے سپاہیوں کو سکھایا تھا کہ وہ "یہودی بالشویکوں" اور "ایشیائی وحشیوں" کا خاتمہ کریں۔ ویرماخت نے پولینڈ پر حملے اور بعد ازاں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔[17] ان جرائم میں عام شہریوں کا قتلِ عام، ہولوکاسٹ میں معاونت اور جنگی قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک شامل تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد

[ترمیم]

8 مئی 1945ء کو ویرماخت کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے بعد، کچھ یونٹس فعال رہے لیکن وہ اتحادیوں کی نگرانی میں بطور پولیس فورس کام کر رہے تھے۔ اتحادی کنٹرول کونسل نے 20 اگست 1946ء کو باضابطہ طور پر ویرماخت کو تحلیل کر دیا اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔[18]

  1. ویرماخت کا نشان، 'بالکھن کھغوئتس' (Balkenkreuz)، آئرن کراس کی ایک جدید شکل ہے جو مختلف تناسب میں دیکھی گئی۔
  2. (1938–1945 ورژن)[1]
  3. ویرماخت کی باضابطہ تحلیل 8 مئی 1945ء کو جرمن ہتھیار ڈالنے کی دستاویز سے شروع ہوئی۔ اتحادی کنٹرول کونسل کے اعلان نمبر 2 کے ذریعے 20 ستمبر 1945ء کو اس کی توثیق کی گئی، اور اے سی سی قانون نمبر 34 کے تحت 20 اگست 1946ء کو باضابطہ طور پر اسے ختم کر دیا گیا۔[3][4]
  4. وزارت کو رسمی طور پر اپریل 1945ء میں بحال کیا گیا تھا، جب ہٹلر کی وصیت میں کارل ڈونٹز کو وزیر جنگ نامزد کیا گیا تھا۔

  1. Brian Leigh Davis (1975)۔ Flags and Standards of the Third Reich: Army, Navy and Air Force 1933-1945۔ New York: Arco Publishing Company Inc.۔ ص 81۔ ISBN:978-0-668-03620-7
  2. Armbrüster 2005, p. 64
  3. Allied Control Authority 1946a, p. 81
  4. Allied Control Authority 1946b, p. 63
  5. Müller 2016, p. 12
  6. 1 2 Overmans 2004, p. 215; Müller 2016, p. 16; Wette 2006, p. 77.
  7. Tooze 2006, p. 181
  8. Evans 2008, p. 333
  9. Taylor 1995, pp. 90–119
  10. Kitchen 1994, pp. 39–65
  11. van Creveld 1982, p. 3
  12. Müller 2016, pp. 58–59
  13. Hartmann 2013, pp. 85–108
  14. Fritz 2011, p. 470
  15. Huber 2000
  16. Kershaw 1997, p. 525
  17. Böhler 2006, pp. 183–184
  18. Allied Control Authority 1946b