پرشوتم ناگیش اوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پرشوتم ناگیش اوک
معلومات شخصیت
پیدائش 2 مارچ 1917(1917-03-02)
اندور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 دسمبر 2007(2007-12-04) (عمر  90 سال)
پونے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ فوجی و مصنف
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی،  ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

پرشوتم ناگیش اوک (ہندی: पुरुषोत्तम नागेश ओक) جو پی۔ این۔ اوک کے نام سے معروف ہے، ایک بھارتی مصنف، جو اپنے ہندو مرکزائی نشانات کی تاریخی ترمیم پسندی کے لیے مشہور ہے۔ اوک نے 1980ء کی دہائی میں "ادارہ برائے نظرثانی تاریخ بھارت" سے سہ ماہی جریدہ "اتہاس پترکا" جاری کیا۔

اوک نے کئی دعوے کیے، مثلاً اسلام اور مسیحیت دونوں ہندو مت سے ماخوذ ہیں، نیز ویٹیکن سٹی، خانہ کعبہ، ویسٹ منسٹر ایبے اور تاج محل سب شیو کے مندر تھے۔[1]

ترمیم شدہ نظریات[ترمیم]

اوک نے اپنے دعوؤں سے متعلق لکھا کہ میں سمجھ سکتا ہوں اگر آپ اس کتاب کو پڑھنے کے موڈ میں نہیں ہیں لیکن یہ اور اسی قسم کی کہانیاں ہیں جو ہندوستان میں مذہبی احیا کا سبب بن رہی ہیں جو مودی کا سا نقطہ نظررکھنے والے ان پڑھ اور بھولے بھالے عوام کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔

کعبہ کی تعمیر - ویدی اصل[ترمیم]

اپنی کتاب (Some Blunders of Indian Historical Research) میں اوک نے دعویٰ کیا کہ: کسی زمانے میں ہندو مہاراجا بکرما جیت کی سلطنت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجا نے 58 ق۔م میں شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا جسے بعد میں مسلمانوں کے پیغمبر نے خانہ کعبہ میں تبدیل کر دیا۔ ہندوئوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مکہ ان کا شہر ہے جس میں ان کے دیوتا کا مندر تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہندو اس مندر کو دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں۔[2]

لکھنؤ کا امام بارگاہ - ہندو محل[ترمیم]

اوک نے اپنی کتاب لکھنؤ کی امام بارگاہیں ہندووں کے محلات تھے میں لکھنؤ کی امام بارگاہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ ایک قدیم ہندو محل تھا۔[3]

کرسچینیٹی - کرشن-نیتی نظریہ[ترمیم]

اوک نے مسیحیت یعنی کرسچینیٹی سے متعلق دعویٰ کیا کہ کرسچینیٹی دراصل ہندو، سنسکرت کی اصطلاح کرسن نیتی سے ماخوذ ہے یعنی وہ طرز زندگی جس کا پرچار ہندو اوتار لارڈ کرسن نے کیا اور اس کا نمونہ بن کر دکھایا تھا۔ انہیں کرشن، کرسن، کریسن، کرسنا اور کرشنا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پرشوتم ناگیش اوک۔ کرسچینیٹی - کرشن-نیتی ہے
  2. پروفیسر محمد سعید (28 اپریل 2016ء)۔ "عالم اسلام اور بھارت کے استعماری عزائم"۔ ایکپریس نیوز۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 جون 2017۔
  3. ^ ا ب ایس اے ساگر۔ "نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز"۔ فکروخبر۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 جون 2017۔