پریش راول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پریش راول
Paresh Rawal
Paresh Rawal.jpg
پریش راول

معلومات شخصیت
پیدائش مئی 1950 (عمر  سال)
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارت
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی[1]  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سواروپ سمپت
مناصب
رکن سولہویں لوک سبھا[2][1]   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن سنہ
18 مئی 2014 
پارلیمانی مدت 16ویں لوک سبھا 
عملی زندگی
مادر علمی این ایم کالج
پیشہ اداکار: فلم اور اسٹیج
پروڈیوسر: فلم اور ٹیلی ویژن
سیاستدان
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1984–تاحال
تنظیم بالی وڈ
اعزازات
پدم شری اعزاز
نیشنل فلم ایوارڈز
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پریش راول (گجراتی: પરેશ રાવલ پیدائش مئی 1950ء ) ہندی فلموں کے ایک اداکار ہیں۔ 2014ء میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا، 1994ء میں فلم سر کے لیے انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بہترین معاون اداکار اور بہترین ویلن کا فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں فلم ہیرا پھیری اور آوارہ پاگل دیوانہ کے لیے بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ان کے کیرئیر کی اہم فلم اس کیتن مہتا کی فلم سردار تھی جس میں وہ آزادی کے مجاہد ولبھ بھائی پٹیل کی مرکزی کردار میں نظر آئے تھے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

گجرات سے تعلق رکھنے والے پریش راول 30 مئی 1950ء کو ہندوستانی شہر ممبئی میں پیدا ہوئے۔، ان کی شادی اداکارہ اور 1979ء میں مس انڈیا بنی سوروپ سمپت کے ساتھ ہوئی۔ ان كے دو بچے آدتیہ اور انیرودھ ہیں۔

اداکاری[ترمیم]

پریش راول نے پردۂ سیمیں پر اپنے کریئر کی ابتدا ۱۹۸۴ء میں منظرِعام پر آنے والی فلم ’ہولی‘ سے کی۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ اداکار عامر خان نے اسی فلم سے ہیرو کے طور پر اپنے کریئر کی ابتدا کی تھی۔ اس فلم کے بعد پریش راول کو ’حفاظت‘، ’دشمن کا دشمن‘، ’لوری‘ اور ’بھگوان دادا‘ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ تاہم، ان سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچا۔

۱۹۸۶ءمیں پریش راول کو مہیش بھٹ کی ہدایتکاری میں بنائی گئی فلم ’نام‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ سنجے دت اور کمار گورو کی اداکاری سے سجی اس فلم میں وہ ویلن کے طور پر دکھائی دیئے۔ یہ فلم باکس آفس پر سُپر ہٹ ثابت ہوئی اور وہ ویلن کے روپ میں کچھ حد تک اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

اپنی منفرد اداکاری سے فلم بینوں کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے والے اداکار پریش راول نے نے 1984ء میں فلم ہولی سے میں ایک معاون کردار کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن انہیں شہرت 1986ء میں بننے والی فلم 'نام' سے ملی۔ اس کے بعد وہ 1980ء سے 1990ء کے وسط 100 سے زائد فلموں میں ویلن کے کردار میں نظر آئے۔ اس میں قبضہ، کنگ انکل، رام لكھن، دوڑ ،بازی اور کئی دیگر فلموں مشہور ہیں۔

90ء کی دہائی میں ’وہ چھوکری‘ کے لیے جب پریش راول نے نیشنل ایوارڈ جیتا تو سب کی نظروں میں آ گئے۔ 90ء کی دہائی کی ساری بڑی فلموں کی کاسٹ میں پریش راول کا نام شامل ہوتا تھا۔

1994ء میں وہ یہ ایک مزاحیہ فلم انداز اپنا اپنا میں پہلی بار دوہرے کردار میں نظر آئے۔ اس کے بعد ہیرو نمبر ون، چاچی 420، بڑے میاں چھوٹے میاں، تمنا وغیرہ ان کی اہم فلمیں بنیں۔ سال 2000ء میں ریلیز ہونے والی فلم 'ہیرا پھیری' نے ان کے فلمی کریئر کو ایک نیا موڑ دیا، پریش نے بابو راؤ کا کردار کچھ اس انداز سے نبھایا کہ یہ ان کی پہچان ہی بن گیا۔ اس میں ان کے کام کے لیے وہ فلم فیئر ایوارڈ (بہترین مزاحیہ ادااکار) بھی جیت چکے ہیں۔ ان بابراو کا کردار اس کے دوسرے حصہ پھر ہیرا پھیری (2006ء) میں بھی دیکھنے کو ملا، یہ فلم بھی کامیاب رہی۔ اس کے علاوہ انہوں نے نائیک، یہ تیراگھر یہ میراگھر،آوارہ پاگل دیوانہ، چور مچائے شور، فن ٹوش، ہلچل، مالامال ویکلی، چھپ چھپ کے، ڈھونڈتے رہ جاؤ گے اور ممبئی میری جان سمیت کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

نئی صدی میں بھی ان کا جلوہ کم نہیں ہوا ہے۔ ’او مائی گاڈ‘، چینی کم، اوئے لکی لکی اوئے اس کی مثال ہیں۔



’نام‘ کی کامیابی کے بعد پریش راول کو کئی اچھی فلموں کی پیشکش ہوئیں جن میں ’مرتے دم تک‘، ’سونے پہ سہاگہ‘، ’خطروں کے کھلاڑی‘، ’رام لکھن‘، ’قبضہ‘ اور ’عزت‘، جیسی بڑے بجٹ کی فلمیں شامل تھیں۔ ان فلموں میں کامیابی کے بعد پریش راول نے کامیابی کی نئی بلندیوں کو سر کیا اور اپنی اداکاری کا جوہر دکھا کر ناظرین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی۔ ۱۹۹۳ء پریش راول کے کریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔ اس سال ان کی ’دامنی‘، ’آدمی‘ اور ’مقابلہ‘ جیسی سپرہٹ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ فلم ’سر‘ کیلئے انہیں بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ فلم ’وہ چھوکری‘ میں اپنی بہترین اداکاری کیلئے وہ قومی ایوارڈ سے بھی سرفراز کئے گئے۔

’سردار‘(۱۹۹۴ء) پریش راول کی اہم فلموں میں سے ایک ہے۔ کیتن مہتا کی ہدایتکاری میں بنائی گئی اس فلم میں انہوں نے مجاہد آزادی ولبھ بھائی پٹیل کی زندگی کو پردہ ٔسیمیں پر پیش کیا۔ اس فلم میں اپنی بہترین اداکاری سے انہوں نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی علاحدہ شناخت بنا لی۔

پریش راول کی اہم فلموں میں ۱۹۹۸ء میں ریلیز ہونے والی ’تمنا‘ بھی ہے۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسے زنخے کی اداکاری کی جو سماج کی تمام مخالفت کے باوجود ایک یتیم لڑکی کی پرورش کرتا ہے۔ حالانکہ یہ فلم باکس آفس پر کوئی خاص کامیاب نہیں ہوئی لیکن انہوں نے اپنی جذباتی اداکاری سے ناظرین کے ساتھ ہی ناقدین کا بھی دل جیت لیا۔

’ہیرا پھیری‘(۲۰۰۰ء) پریش راول کی سب سے زیادہ کامیاب فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ ہدایتکار پریہ درشن کی اس فلم میں انہوں نے ’بابو راؤ گنپت راؤ آپٹے‘ نامی مکان مالک کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں پریش راول نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو ہنساتے ہنساتے لوٹ پوٹ کردیا۔ فلم کی کامیابی کے مدنظر ۲۰۰۶ءمیں اس کا سیکویل ’پھر ہیراپھیری‘ بنایا گیا۔

’ہیرا پھیری‘ کی کامیابی کے بعد پریش راول نے محسوس کیا کہ منفی اداکار کے بجائے مزاحیہ اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں ان کا مستقبل زیادہ محفوظ رہے گا۔ اس کے بعد انہوں نے بیشتر فلموں میں مزاحیہ اداکاری کے کردار ادا کرنے شروع کئے۔ ان فلموں میں ’آوارہ پاگل دیوانہ‘، ’ہنگامہ‘، ’فنٹوش‘، ’گرم مسالہ‘، ’دیوانے ہوئے پاگل‘، ’مالامال ویکلی‘، ’ویلکم‘ اور ’اتیتھی تم کب جاؤ گے‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

۹۹۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ‘سر’ کیلئے سب سے پہلے انہیں بہترین ویلن کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد ۲۰۰۰ءمیں فلم ‘ہیراپھیری’ اور ۲۰۰۲ء میں فلم ‘آوارہ پاگل دیوانہ’ کیلئے انہیں بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۹۵ء میں ریلیز ہونے والی فلم ‘راجا’ کیلئے انہیں بہترین معاون اداکار کا اِسٹار اِسکرین ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ۲۰۱۴ء میں انہیں پدم شری کا اعزاز بھی تفویض کیا گیا۔

پریش راول اب تک تقریباً ۲۰۰؍فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھاچکے ہیں۔ ان کے کریئر کی دیگر خاص فلمیں درج ذیل ہیں : ’ارجن‘، ’آخری عدالت‘، ’وردی‘، ’کرودھ‘، ’جگر‘، ’ادھرم‘، ’پولیس آفیسر‘، ’روپ کی رانی چوروں کا راجا‘، ’کرانتی ویر‘، ’مہرہ‘، ’انداز اپنا اپنا‘، ’دل والے‘، ’مرتیو داتا‘، ’چائنا گیٹ‘، ’ستیہ‘، ’بڑے میاں چھوٹے میاں‘، ’واستو‘، ’خوبصورت‘، ’نایک‘، ’باغبان‘، ’گول مال‘، ’بھول بھلیاں‘، ’میرے باپ پہلے آپ‘ اور ’دے دَنا دَن‘ وغیرہ۔ نئی صدی میں بھی ان کا جلوہ کم نہیں ہوا ہے۔ ’او مائی گاڈ‘، ’چینی کم‘، ’اوئے لکی، لکی اوئے‘ اس کی مثال ہیں۔

سیاست میں[ترمیم]

بالی وڈ اداکار پریش راول بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاست دان بھی ہیں۔ و ہ احمد آباد (ایسٹ ) سے بی جے پی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں اور فی الحال احمد آباد سابق پارلیمانی حلقہ سے موجودہ ایم پی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. http://164.100.47.194/Loksabha/Members/AlphabeticalList.aspx — اخذ شدہ بتاریخ: 23 جولا‎ئی 2018
  3. Asira Tarannum, TNN 2 August 2011, 03.14pm IST. (2 August 2011). "'Star kids are not good actors' - Times Of India". Articles.timesofindia.indiatimes.com. اخذ شدہ بتاریخ 01 جنوری 2013. 

بیرونی روابط[ترمیم]