محمود علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود علی
Actor Mehmood Ali 2013 stamp of India.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 29 ستمبر 1932  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 جولا‎ئی 2004 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پنسلوانیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد ممتاز علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایت کار،  فلم ساز،  منظر نویس،  گلو کار،  فلم اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

محمود علی : پیدائش 29 ستمبر 1932ء اور وفات 23 اپریل 2004ء۔ بھارتی فلموں کے مشہور مزاحیہ اداکار ۔بمبئی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 300 کے قریب فلموں میں کام کیا۔ بالی وڈ کے مشہور اداکار کی طرح بھی جانے جاتے ہیں۔

محمود نے سن پچاس کی دہائی میں ’ناستک‘، ’جاگرتی‘ اور ’بدنام‘ جیسی فلموں میں کام کر کے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا تھا۔

فرار‘، ’بندش‘، ’بہو‘ اور ’انسپکٹر‘ تک وہ ایک تجرباتی دور سے گزر رہے تھے لیکن 1957ء میں بننے والی فلم ’پیاسا‘ میں انہوں نے وجے یعنی گرو دت کے چالاک، دغا باز اور طوطا چشم بھائی کا کردار ادا کر کے اپنے فن کا لوہا منوا لیا۔

1959ء میں ویسے تو ان کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن ان کا پسندیدہ کردار سریش سنہا کے بھائی کا کردار تھا جو انہوں نے گرو دت کی فلم ’ کاغذ کے پھول‘ میں ادا کیا۔ یہ فلم باکس آفس پہ ہٹ نہ ہو سکی لیکن اسی سال بننے والی فلم ’دھول کا پھول‘ کاروبار طور پر بہت کامیاب رہی اور ساتھ ہی محمود کی مارکیٹ ویلو بھی آنے والے کئی برسوں کے لیے مستحکم ہو گئی۔

جس کردار نے محمود کو زندہ جاوید کر دیا وہ 1968ء کی فلم ’پڑوسن‘ میں میوزک ماسٹر کا کردار تھا۔ محمود کی دوسری مشہور فلموں میں ’کنوارہ باپ‘، ’ پتی پتنی اور میں‘ اور ’ دل دے کے دیکھو‘ ہیں۔

انہوں نے کئی فلموں کی ہدایت کاری بھی کی اور بعض فلموں میں گانے بھی گائے۔ فلم پڑوسن کے لیے ان کا گایا ہوا گانا اک چتر نار بہت زیادہ مشہور ہوا۔

محمود کے والد ممتاز علی خاموش فلموں میں کام کرتے تھے، ان کی بہن مینو ممتاز ایک ماہر رقاصہ اور اداکارہ تھیں، ان کی بیوی مدھو، مینا کماری کی بہن ہیں اور آج کے معروف سنگر لکی علی ان کے بیٹے ہیں۔ محمود کا انتقال امریکا کی ریاست پنسلوانیا میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]