گلزار احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلزار احمد
مناصب
سینئر منصب عدالت عظمیٰ پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
18 جنوری 2019  – 20 دسمبر 2019 
منصف اعظم پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
21 دسمبر 2019  – 1 فروری 2022 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png آصف سعید خان کھوسہ 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 2 فروری 1957 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سندھ مسلم لاء کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

گلزار احمد (پیدائش: 2 فروری 1957) ایک پاکستانی فقیہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ہیں۔نئے چیف جسٹس 2 فروری 1957ء کو کراچی میں ایڈووکیٹ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے ،انہوں نے ابتدائی تعلیم گلستان سکول کراچی، بی اے گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی اور ایل ایل بی کا امتحان ایس ایم لا کالج کراچی سے پاس کیا۔ 1988ء میں بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ انرولمنٹ کے بعد وہ 2001ء میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے ۔ انہیں 1999-2000ء کے لیے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اعزازی سیکرٹری منتخب کیا گیا۔پرویز مشرف کے دور حکومت میں 27 اگست 2002ء کو وہ سندھ ہائیکورٹ کے جج تعینات ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011ء کو ان کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس گلزاراحمد نے 20 تا 28 نومبر 2018ء اور 13 تا 17 مئی 2019ء کے دوران بطور قائم مقام چیف جسٹس پاکستان فرائض ادا کیے۔جسٹس گلزار احمد سولِ کارپوریٹ شعبے کے وکیل رہے ، وہ کئی بین الاقوامی کمپنیوں اور بینکوں کے قانونی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ آپ 2007میں جنرل (ر)پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے نتیجے میں غیر فعال ہونے والے ججز میں شامل تھے ۔ جسٹس گلزار احمد کے چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت ہونا ہے جن میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے حکومت کی طرف سے ممکنہ نظر ثانی اپیل اورسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت بھی شامل ہے۔جسٹس گلزار احمد سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ بنچ میں بھی شامل تھے ،آپ پہلے فیصلے میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کو لندن فلیٹس کی تفصیلات پیش نہ کرنے پر نااہل قرار دے دیا تھا، پانامہ کیس کی بنیاد پر احتساب عدالت کے فیصلوں کی اپیلیں ابھی ہائی کورٹ میں ہیں جن کی سماعت کا مرحلہ بھی سپریم کورٹ میں آنا ہے جسٹس گلزار احمد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ڈیم فنڈ مہم میں بھی شامل رہے اور امریکا میں ڈیم فنڈ مہم کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی