جواد ایس خواجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عزت مآب
جواد ایس خواجہ
منصف اعظم پاکستان
عہدہ سنبھالا
17 اگست 2015 – 9 ستمبر 2015 – 9 ستمبر 2015
نامزد بطرف نواز شریف
مقرر بطرف ممنون حسین
پیشرو ناصر الملک
ذاتی تفصیلات
پیدائش جواد ایس خواجہ
10 ستمبر 1950
وزیر آباد، پنجاب، پاکستان
شہریت پاکستان
قومیت پاکستانی
رہائش اسلام آباد، پاکستان
مادر علمی Lawrence College Ghora Gali
ایچی سن کالج
فارمین کرسچین کالج
Punjab University Law College
(فاضل القانون)
University of California, Berkeley، ریاستہائے متحدہ امریکا
(LLM)
مذہب اسلام

جسٹس جواد ایس خواجہ 10 ستمبر 1950ء کو پیدا ہوئے۔[1],انہوں نے بطور پاکستان کے 23 ویں چیف جسٹس خدمات سرانجام دیئے۔ وزیر آباد میں پیدا ہونے والے جواد ایس خواجہ نے ابتدائی تعلیم مشن اسکول وزیر آباد سے حاصل کی۔اس کے بعدکالج کی تعلیم لارنس کالج گھوڑا گلی ، مری، ایچیسن کالج لاہور اور فورمین کرسچین کالج لاہور سے حاصل کی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنا ایل ایل بی جامعہ پنجاب لاہور کالج سے کیا۔ ایل ایل ایم کے لیے انہوں نے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بارکلے کا رخ کیا۔ 1975ء میں انہوں لاہور ہائی کورٹ میں بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔وہ کارنیلس، لین اور مفتی میں پارٹنر تھے، جو پاکستان کی بڑی قانونی کمپنی ہے۔1999ء میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔9 مارچ 2007ء کو انہوں جسٹس افتخار کو جبری ریٹائر کرنے پر استعفیٰ دے دیا۔اگست 2007 میں انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنس کے پالیسی ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔اکتوبر 2007 سے مئی 2009ء تک وہ اس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ رہےاس کے بعد وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا حصہ بن گئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کچھ اہم مقدموں کا بھی حصہ رہے۔ ایس ایچ سی بی اے مقدمے میں انہوں نے مشرف کے 3 نومبر2007 کےایمرجنسی کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا۔انہوں نے بہت سے جج کو بھی بحال کیا، جنہیں اُن کی سیٹ سے جبری ہٹا دیا گیا تھا۔وہ این آر او مقدمےکا بھی حصہ بھی رہے۔

اہم فیصلے[ترمیم]

اگرچہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے 23 دن بطور چیف جسٹس خدمات سرانجام دیے لیکن اس مدت میں بھی انہوں نے بہت سے اہم فیصلے دیئے جن میں سے ایک دو درجہ ذیل ہیں:

  • جواد ایس خواجہ اس بِنچ میں موجود تھے جس نے سندھ ہائکورٹ کے کیس کو نمٹا ،اس بنچ نے 2007ء کی فوجی تاخت کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے بہت سے ججوں کو بحال کیا۔
  • عرب شہزادے اکثر آتے اور پاکستان میں (بالخصوص صوبہ بلوچستان میں) پرندوں کا بے دریغ شکار کرتے تھے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے شہزادوں کی شکار پر پابندی عائد کی۔ جس کی وجہ سے بہت سے ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے کی تعریف کی۔[2]
  • آئین کے مطابق اردو کو قومی زبان بنانے کا حکم جاری کیا۔ اور یہ حکم بھی جاری کیا کہ تمام دستاویزات کو اردو میں منتقل کیا جائے .

حوالہ جات[ترمیم]