استاد بڑے فتح علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
استاد بڑے فتح علی خان
پیدائش 1935 (عمر 78–79)
اصناف خیال گائیکی
پیشے گائیکی
سالہائے فعالیت 1945-حال

استاد بڑے فتح علی خان کا تعلق بر صغیر پاک و ہند کے مشہور پٹیالہ گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے کی بنیاد ان کے دادا علی بخش اور ان کے دوست فتح علی خان نے رکھی تھی۔ ان کے فن گائیکی کو داد تحسین پیش کرتے ہوئے لارڈ ایلگن نے علی بخش کو جرنیل اور فتح علی خان کو کرنیل کا خطاب دیا۔ علی بخش کے بیٹے استاد اختر حسین کے تین بیٹے ہوئے جو دنیائے موسیقی میں استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان اور استاد حامد علی خان کے نام سے مشہور ہیں۔ گوالیار گھرانے کے ایک گائیک کو بھی استاد فتح علی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، لہذا شناخت کے اس مخمصے سے بچنے کیلئے پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کو استاد بڑے فتح علی خان کہا جاتا ہے۔

استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان[ترمیم]

استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی نے موسیقی کا فن اپنے والد استاد اختر حسین خان سے سیکھا۔ اختر حسین خان خود تو اتنا زیادہ نام نہیں پیدا کر سکے لیکن انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں پر بہت محنت کی۔ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی کی پہلی پرفارمنس لاہور 1945ء میں ہوئی جہاں انہیں بہت سراہا گیا، لیکن ان کو زیادہ شہرت تب نصیب ہوئی جب انہوں نے کلکتہ میں ہونے والی آل بنگال میوزک کانفرنس میں حصہ لیا. اس وقت امانت علی خان کی عمر 17 سال اور فتح علی خان کی عمر 14 سال تھی، اس کے بعد اس جوڑی نے کلاسیکی موسیقی کی حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل کی، دونوں بھائیوں کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے 1969ء میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔


استاد فتح علی خان، امجد امانت علی خان[ترمیم]

استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان کی جوڑی 1974ء میں استاد امانت علی خان کی ناگہانی موت سے ٹوٹ گئی۔ یہ وقت استاد فتح علی خان پر بہت کڑا تھا کیونکہ ان دونوں بھائیوں کو موسیقی کی تعلیم باپ نے اس انداز میں دی تھی کہ راگ کی سچائی اور بہلاوے کا حصہ امانت علی خان اور تان پلٹا، لے کاری فتح علی خان کو سکھایا گیا۔ تعلیم کے اس بٹوارے کے پیچھے باپ کی یہ منطق تھی کہ دونوں بھائی گائیکی میں ایک دوسرے کو محتاج رہیں گے، اور شادی ہونے کے بعد بیویوں کی لگائی بجھائی میں آ کر ایک دوسرے کو چھوڑ نہیں پائیں گے۔

استاد فتح علی خان دکھ اور پریشانی کے عالم میں موسیقی چھوڑنے پر اتر آئے تھے لیکن ماں کے کہنے پر انہوں نے دوبارہ اس حصہ پر محنت شروع کر دی جو ان کے بھائی امانت علی خان گایا کرتے تھے، لہذا فتح علی خان کو اپنی گائیکی کے انداز میں کافی تبدیلی کرنے پڑی۔انہوں نے پہلے اپنے چھوٹے بھائی استاد حامد علی خان کے ساتھ جوڑی بنائی، پھر اسے چھوڑ کر اپنے درمیانے بھتیجے اسد امانت علی خان کو ساتھ لیا، لیکن پھر یہ مناسب سمجھا کہ اسد امانت کی جوڑی حامد علی خان کے ساتھ بنا دی جائے اور خود انہوں نے اپنے بڑے بھتیجے امجد امانت علی کو ساتھ لے کر گانا شروع کر دیا۔ امجد امانت گو اپنے باپ کی طرح بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے لیکن وہ فنی طور پر بہت ہی پیچھے تھے، لہذا وہ ایک جونیئر حصے دار کے طور گاتے تھے جب کہ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان برابر کی جوڑی تھی۔ امجد امانت علی خان کی وفات کے بعد یہ جوڑی بھی ٹوٹ گئی۔ استاد فتح علی خان نے کچھ عرصہ تو اپنے بڑے بیٹے سلطان فتح علی خان کو ساتھ لے کر گایا لیکن بعد میں اپنے چھوٹے بیٹے رستم فتح علی خان کے ساتھ گاتے رہے۔ ان دنوں وہ بڑھاپے کی وجہ سے گانے سے کنارہ کشی کر چکے ہیں۔

شاگرد[ترمیم]

موسیقی کے دیگر گھرانوں کے طرح پٹیالہ گھرانہ بھی اس حوالے سے بدنام ہے کہ وہ کسی دوسرے کو علم موسیقی اس خلوص اور فراخدلی سے منتقل نہیں کرتے جیسے وہ اپنے بیٹوں، بھتیجوں کے سلسلہ میں کرتے ہیں۔ لیکن جو خوش قسمت استاد فتح علی سے موسیقی کے چند قطرے سمیٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ان میں افغانستان کے احمد ولی کا نام نمایاں ہے، احمد ولی نے پرویز مہدی کے انداز میں اپنے استاد کا نام اپنے نام کاحصہ بنایا ہے اور خود کو احمد ولی فتح علی خان کہلوانا شروع کر دیا ہے۔ استاد فتح علی خان کی ایک شاگرد پاکستانی نژاد ناریجن دیا خان بھی ہیں جنہوں نے پہلے کلاسیکی موسیقی سے مغربی پاپ موسیقی اور پھر فلمسازی کی طرف رخ کیا اور اپنی پہلی ہی فلم سے ٹی وی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ایمی ایوارڈ حاصل کیا۔

البم[ترمیم]

استاد فتح علی خان کے کئی البمز جاری ہوئے گئے، جن میں دو ان کے بڑے بھائی استاد امانت علی خان کے ساتھ بنے، اس کے بعد تین البمز گھرانوں کی موسیقی میں پٹیالہ گھرانے کے تحت بننے کے علاوہ آہنگ خسروی نام کے البمز میں بھی ان کی گائیکی موجود ہے۔ بیرون ملک استاد فتح علی کا البم نارویجن سیکسو فون نواز یان گاربارک کے ساتھ بنا ہے، جسے راگا اینڈ ساگا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان کے ٹی وی ڈراموں کے پس منظر میں اس ریکارڈ کے ٹکڑے اکثر سننے کو ملتے ہیں