نثار بزمی

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

پیدائش:1924ء

انتقال:مارچ 2007ء

نثار بزمی

مشہور پاکستانی موسیقار ۔

فہرست

[ترمیم] ابتدائی زندگی

ممبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں مولوی گھرانے کے سید قدرت علی کے گھر پیدا ہوئے۔نثار بزمی کے والد سید قدرت علی کا تعلق موسیقی سے نہ تھا ۔ بچپن میں نثار بزمی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے۔ ان ہی کی رفاقت کی وجہ سے 13 سال کی عمر میں نثار بزمی بہت سے راگوں پر عبور حاصل کر چکے تھے۔

[ترمیم] بطور موسیقار

1944 میں انہوں نے ممبئی ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈرامے ’ نادر شاہ درانی ‘ کی موسیقی ترتیب دی۔اس کھیل کے سارے گیت سپر ہٹ ہوئے اور اس کے ساتھ ہی کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ یہ سال ان کی زندگی کا سنہری سال ثابت ہوا۔نثاربزمی کی شہرت اگلے 2 برس میں آل انڈیا ریڈیو کے سٹوڈیوز سے نکل کر بمبئی کے فلمی سٹوڈیوز میں پہنچی اور ڈائریکٹر اے آر زمیندار نے انہیں اپنی فلم ’جمنا پار‘ کے گانے کمپوز کرنے کی پیشکش کی۔ یہ فلم 1946 میں ریلیز ہوئی اور پھر اگلے 12 برس کے دوران نثار بزمی نے 40 فلموں کی موسیقی دی۔ لتا، آشا، مناڈے اور محمد رفیع سے گانے گوائے۔ رفیع کی آواز میں فلم ’ کھوج‘ کا گانا "چاند کا دل ٹوٹ گیا، رونے لگے ہیں ستارے" سن 40 کے عشرے کے آخری برسوں میں آل انڈیا ریڈیو سے خوب خوب چلا۔

بمبئی میں بے پناہ پیشہ ورانہ مصروفیت کے باوجود بزمی صاحب معاوضے کے اعتبار سے موسیقاروں کی سی کیٹیگری میں شامل تھے۔اس حیثیت میں انہوں نے پہلی بار آنند بخشی کو بطور نغمہ نگار فلم ’بھولا آدمی‘ میں متعارف کروایااور کلیان جی آنند جی کی جوڑی کو سازندوں کی جگہ سے اٹھا کر موسیقاروں کی صف میں شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔


[ترمیم] پاکستان آمد

1962میں نثار بزمی پاکستان آئے ۔بمبئی میں وہ ایک نام ور موسیقار شمار ہوتے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال جیسے میوزیشن اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے۔ لیکن پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اُس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے۔

فلمی موسیقی میں یہ زمانہ تھا خورشید انور اور رشید عطرے کا۔ اسی زمانے میں بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، ماسٹر عنایت، ماسٹر عبداللہ، سہیل رعنا اور حس لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔ زیادہ کمرشل سطح پر یہ زمانہ منظور اشرف، دیبو، ناشاد، اے حمید، سلیم اقبال، تصدق، لال محمد اقبال، رحمان ورما، بخشی وزیر، خلیل احمد اور وزیر افضل کا زمانہ تھا۔

[ترمیم] پہلی پاکستان فلم

معروف موسیقاروں کےاس جھرمٹ میں اپنے لئے جگہ پیدا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا اس لئے 2 برس کی شدید جدوجہد کے بعد بھی پاکستان میں نثار بزمی کو صرف ایک فلم ’ہیڈ کانسٹیبل‘ٰ ملی۔ تاہم مزید ایک برس کی شبانہ روز محنت کے بعد نثار بزمی کو منزل کا سراغ مل گیا جب فضل احمد کریم فضلی نے اپنی معروف فلم ’ ایسا بھی ہوتا ہے‘ کےلئے انھیں موسیقار نامزد کردیا۔

[ترمیم] شہرت

اس فلم کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کے دروازے نثار بزمی پر کھُل گئے۔ 1966 میں انھوں نے ’لاکھوں میں ایک‘ٰ کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔

[ترمیم] فنی کمال

پاکستان آنے کے بعد چند ہی برس کے عرصے میں انھوں نے بطور موسیقار ایک معزز مقام حاصل کر لیا۔ کیونکہ غزل کی گائیکی کےلئے درکار نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پوپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک انھیں ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا

[ترمیم] نئے گلوکار

مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی نوخیز آوازوں کو بھی نکھرنے سنورنے کا موقع دیا۔’ دِل دھڑکے، میں تم سےیہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ‘ٰ رونا لیلٰی کا یہ گیت تین عشروں کے بعد بھی اپنی تازگی اور شوخی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

[ترمیم] مہدی حسن اور نور جہاں

مہدی حسن کا گیت ’ٰ رنجش ہی سہی دِل ہی دُکھانے کےلئے آ ۔۔۔‘ اور ’اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے۔۔۔‘، آج بھی سنیئے تو دِل اُداس ہوجاتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے بارے میں کئی موسیقاروں کو شکایت تھی کہ وہ ریکارڈنگ سے صرف دس منٹ پہلے آتی ہیں اور پہلی ہی ٹیک میں گانا ریکارڈ کرواکے رخصت ہو جاتی ہیں۔

ایک انٹر ویو کے دوران ملکہ ترنم نے اعتراف کیا کہ وہ یقیناً ایسا کرتی ہیں لیکن صرف نام نہاد موسیقاروں کے ساتھ۔ میڈم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نثار بزمی صاحب کی ریہرسل پر میں ہمیشہ وقت سے پہلے پہنچتی ہوں اور سُروں کے اتار چڑھاؤ کی مشق کرتی ہوں کیونکہ وہ ایک عظیم موسیقار ہیں اور فن کی باریکیوں سے نہ صرف خود آگاہ ہیں بلکہ دوسروں کو سمجھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

[ترمیم] اعزازات

1968میں فلم ’صاعقہ‘ کی موسیقی پر اور 1970 میں فلم ’انجمن‘ کے میوزک پر نثار بزمی نے نگار ایوارڈ حاصل کیا، لیکن یہ محض ابتداء تھی۔ 1972 میں ’میری زندگی ہے نغمہ‘، 1979 میں ’خاک اور خون‘ اور 1986 میں فلم ’ہم ایک ہیں‘ کی موسیقی پر بھی انھیں اِسی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

[ترمیم] اہم فلمیں

صاعقہ، تاج محل، آسرا، انیلا، جیسے جانتے نہیں، عندلیب، ناز، بے وفا، نورین، الجھن، محبت رنگ لائے گی، آشنا، تہذیب، ناگ منی، میری زندگی ہے نغمہ، امراؤ جان ادا، سرحد کی گود میں، ملاقات، دِل کا شہر، پیاسا، آس، انمول، بات پہنچی تیری جوانی تک، نمک حرام، انتظار (1974 )، مستانی محبوبہ، لیلٰی مجنوں، دشمن، دوتصویریں، ہار گیا انسان، جاگیر، اِک گناہ اور سہی، پہچان، گنوار، شرارت، اجنبی، تلاش، آگ، اور آنسو، ناگ اور ناگن، سچائی، نیا سورج، جان کی بازی، آس پاس، ہم ایک ہیں، جو ندیا مرک (پشتو) ۔

[ترمیم] بیرونی روابط

’یاسین قوال کا چھوکرا‘

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
آلات
دیگر زبانیں