شیریں عبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
2005ء میں ایک کانفرنس کے دوران

شیریں عبادی ایران کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی ترجمان ہیں جنہیں نوبل انعام حاصل کرنے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ 21 جون 1947ء کو ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد علی عبادی شہر کے مصدق الاسناد اور کمرشل لاء کے پروفیسر تھے۔ 1948ء میں ان کا خاندان تہران چلا گیا۔ 1965ء میں شیریںنے تہران یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں داخلہ لیا۔ 1969ء میں گریجویشن کی اور پھر چھ ماہ تک انٹرن شپ کرنے کے بعد انہوں نے مارچ 1970ء میں بطور جج کیریئر شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے تہران یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1971ء میں انہوں نے قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے لیجسلیٹو کورٹ کی سربراہی کی۔

1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد قدامت پسندوں نے اعلان کر دیا کہ اسلام میں خاتون جج نہیں بن سکتی ۔ اس بنا پر شیریں عبادی کو جج کے منصب سے ہٹا کر سیکرٹری لیول کی ایک جگہ پر فائز کر دیا گیا۔ اس جگہ پر وہ پہلے بھی کام کر چکی تھی۔ انہوں نے دیگر خاتون ججز کے ساتھ مل کر احتجاج کیا ۔ اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر شیریں عبادی نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کی کوشش کی لیکن ان کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔ 1993ء تک وہ بطور وکیل پریکٹس بھی جاری نہ رکھ سکیں۔ اس اثناء میں وہ کتب اور مختلف جرائد میں مضامین لکھتی رہیں۔

شیریں عبادی ان دونوں یونیورسٹی آف تہران میں لیکچرز دے رہی ہیں جس میں وہ بچوں اور خواتین کے قانونی حقوق پر زور دیتی ہیں۔ یاد رہے کہ 1997ء کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند محمد خاتمی کی شاندار کامیابی میں خواتین کا کردار کلیدی رہا ۔ بطور وکیل شیریں عبادی کا کردار اہم رہا ہے۔ وہ ان خاندانوں اور افراد کا مقدمہ لڑتی رہیں جو سخت گیر لوگوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔ ان کے اس کردار پر سخت گیر طبقہ بہت زیادہ بے چینی محسوس کرتا رہا ۔ چنانچہ شیریں عبادی کو آزمائشوں سے گزارا گیا ۔ ان پر مختلف مقدمات قائم کیے گئے ۔ انہیں پانچ برس تک قید و بند کی سزا سنائی گئی جو کہ بعد ازاں منسوخ کر دی گئی۔ انہوں نے دو این جی اوز بھی قائم کیں جن کا مقصد بنیادی طور پر انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی کے خلاف ایک ڈرافٹ تیار کیا جو 2002ء میں ایرانی پارلیمنٹ نے منظور بھی کر لیا۔

شیریں عبادی کی تصانیف سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام، جمہوریت اور انسانی مساوات کی قائل ہیں۔ وہ مغرب کی دلدادہ نہیں ہیں ان کے اندر ایرانی قوم پسندی زیادہ نظرآتی ہے۔ وہ مغرب نواز شاہ کی شدید مخالف رہی۔ انہوں نے ایرانی انقلاب کی حمایت کی تھی ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایران کو چھوڑ کر مغربی ممالک میں جابستے ہیں میں سمجھتی ہوں وہ میرے لیے مرگئے۔ انہوں نے ایران کے اندر غیر ملکی مداخلت کے ارادوں کی شدید مذمت کی ۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا کھلم کھلا دفاع کرتی ہیں۔

"ایران جاگ رہا ہے" شیریں عبادی کی سوانح عمری

10 اکتوبر 2003ء کو انہیں جمہوریت اور انسانی حققوق بالخصوص خواتین اور بچوں کے حقوق کی خاطر کام کرنے کی بنا پر نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور میڈیا نے اس خبر پر صرف خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ شیریں عبادی کو ایوارڈ دینے کی بنیادیں سیاسی ہیں۔ ان پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے نوبل انعام ایوارڈ کی تقریب میں انعام وصول کرتے ہوئے سر نہیں ڈھانپا تھا۔ ایوارڈ ملنے کے بعد انہیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ انہیں نہ صرف متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا بلکہ انہیں مختلف عالمی کانفرنسوں میں خطاب کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ان کی اب تک چار تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ جو ایرانی خواتین، ایرانی تحریکوں اور دانشوروں سے متعلق ہیں۔ ان کے شوہر سابق صدر محمد حاتمی کے مشیر رہے ہیں۔