آنگ سان سو چی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آنگ سان سوچی
အောင်ဆန်းစုကြည်
پیدائش 19 جون 1945 (1945-06-19) ‏(69)
رنگون ، برما
رہائش رنگون ، برما
قومیت برمی
مادر علمی سینٹ ہیوز کالج ، آکسفورڈ (بی اے)
ایس او اے ایس (پی ایچ ڈی)
وجہِ شہرت برما کی جمہوری تحریک کی قائد
نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی جنرل سیکرٹری
مذہب بدھ مت
والدین آنگ سان ، کھِن چی
اعزازات رافٹو انعام (1990)
امن کا نوبل انعام (1991)
جواہر لعل نہرو انعام (1992)
اولوف پالمے انعام (2005)


برما کی آزادی کے ہیرو جنرل آنگ سن کی بیٹی۔ برما میں آمریت کے خلاف سب سے بڑی آواز۔ 19 جون 1945 کو پیدا ہوئیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کے والد نے برما کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر ن انیس سو سینتالیس میں ملک کو اقتدار اعلیٰ کی منتقلی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ باپ کے قتل کے وقت آنگ سان سو چی کی عمر صرف دو برس تھی۔ آنگ سان سو چی 1960 میں پہلی بار بھارت گئیں جہاں ان کی ماں کو برما کا سفیر مقرر کیا گیا۔ انیس سو چونسٹھ میں آنگ سان سو چی پہلی آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچیں جہاں انہوں نے فلسفے، سیاست اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی آنگ سان سو چی کی اپنے شریک حیات مائیکل ایرس سے ملاقات ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاپان اور بھوٹان میں رہنے کے بعد آنگ سان سو چی نے برطانیہ میں مستقل سکونت کا فیصلہ اور ایک گھریلو ماں کی طرح اپنے دو بچوں، الیگزینڈر اور کم کی پرورش شروع کی۔

برما واپسی[ترمیم]

برطانیہ میں رہائش کے دوران آنگ سان سو چی برما کو اپنے خیالات سے نہ نکال سکیں اور انیس سو اٹھاسی میں اپنی علیل ماں کی تیمارداری کے لیے واپس برما پہنچ گئیں۔ انہوں نے برما میں پہنچ کر تقریر کے دوران کہا کہ برما میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔

جدوجہد[ترمیم]

برما واپس پہنچنے کے بعد آنگ سان سو چی نے ملک میں جمہوریت کے لیے کوششیں شروع کیں۔ آنگ سان سو چی نے مارٹن لوتھر اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفلے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا اور ملک میں جمہوریت کے کوششیں جاری رکھیں لیکن فوجی حکمرانوں نے طاقت کا بے دریغ استعمال سے ان کی پرامن جدوجہد کو کچل کر رکھ دیا۔ انیس سو نوے میں ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سو چی کو نااہل قرار دیئے جانے اور حراست کے باوجود ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی۔

گرفتاری[ترمیم]

برما کے فوجی حکمرانوں نے 1991 میں ان کی جماعت نیشل لیگ فار ڈیموکریسی کی کامیابی کو ماننے سے انکار کر دیا اور آنگ سان سو چی کو حراست میں لے لیا۔ دوران حراست ہی آنگ سان سو چی کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ نوبل انعام کمیٹی میں شامل فرانسس سیجسٹیڈ نے آنگ سان سو چی کو ’کمزورں کی طاقت‘ قرار دیا تھا۔ دو عشروں میں پہلی بار انتخابات میں آنگ سان سو چی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود آج بھی وہ برما کے لوگوں کے لیے امید کی نشانی ہیں۔ آنگ سان سو چی کو 1995 میں رہا کر دیا گیا لیکن ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ دو ہزار نو میں آنگ سان سو چی کو دو ہزار نو میں حراست کی خلاف ورزی کے الزام میں اٹھارہ ماہ کی سزا سنا دی گئی۔

رہائی[ترمیم]

نومبر 2010 میں برما کی فوجی حکومت نے ان کی رہائی کا اعلان کیا جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا گیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]