نیلسن منڈیلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نیلسن رولی ہلا ہلا منڈیلا ()Nelson Rolihlahla Mandela OM AC CC OJ GCStJ QC GCH بھارت رتن RSO نشان پاکستان
مئی 2008 میں جوہانسبرگ میں اپنی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر
Mandela in May 2008

در منصب
10 مئی 1994 – 14 جون 1999
پیشرو F. W. de Klerk
جانشین Thabo Mbeki

پیدائش 18 جولائی 1918 (1918-07-18)
Mvezo, Cape Province, South Africa
وفات 5 دسمبر 2013 (عمر 95 سال)
Houghton, Johannesburg، جنوبی افریقہ
پیدائشی نام Rolihlahla Mandela
قومیت جنوبی افریقی
سیاسی جماعت African National Congress
ازواج Evelyn Ntoko Mase
(m. 1944–1957; divorced)
Winnie Madikizela
(m. 1958–1996; divorced)
Graça Machel
(m. 1998–2013; his death)
بچے
سکونت Houghton Estate, Johannesburg, Gauteng, South Africa
مادر علمی University of Fort Hare
University of London External System
University of South Africa
University of the Witwatersrand
مذہب Christianity (Methodism)
دستخط Signature of Nelson Mandela
موقع جال www.nelsonmandela.org

نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ء ترانسکی، جنوبی افریقہ) جنوبی افریقہ کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقص امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پذیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندان کے لیے اعزازی خطاب ہے۔

جیل کا وہ کمرہ جہاں نیلسن منڈیلا 27 سال قید رہے

آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993ء کا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

تصنیف[ترمیم]

آزادی کا طویل سفر، نیلن مینڈیلا کی خود نوشت سوانح حیات ہے، جو 995 میں شائع ہوئی۔

وفات[ترمیم]

5 دسمبر 2013 کو وفات پائی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]