ڈینیال برنولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ڈینیال برنولی

ڈینیال برنولی برنولی خاندان کا ایک مشہور ماہر ریاضیات وطبیعیات 8 فروری 1700ء کو ہالینڈ میں پیدا ہوا۔ وہ آلاتیات (mechanics) اور سیالی آلاتیات (fluid mechanics) میں کیے گئے کام کے لیے بہت مشہور ہوا۔ وہ احتمال (probability) اور احصاء (statistics) کے بانیوں میں سے تھا۔ اس کا کام آج بھی دنیا بھر کے اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ 17 مارچ 1782ء کو بازیل میں اس کا انتقال ہو گیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ ہالینڈ کے شہر گوننگن میں پیدا ہوا۔ ڈینیال جون برنولی کا بیٹا اور جیکب برنولی کا بھتیجا اور جون برنولی دوم کا بڑا بھائی تھا۔ اس کے اپنے باپ کے ساتھ کچھ اچھے تعلقات نہیں تھے۔ جب دونوں نے جامعہ پیرس کے ایک مقابلہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کی تو اس کے پاب جون برنولی نے اس شرم سے بچنے کے لیے کہ وہ اپنے بیٹے ڈینیال جیسا قابل نہیں ہے اس کے گھر میں آنے پر پابندی لگا دی۔ مزید یہ کہ جون برنولی نے کچھ ڈینیال برنولی کا کام اس کی کتاب سے نقل کر کے اپنی کتاب میں پرانی تاریخ ڈال کر لکھ دیا۔ ڈینیال کی مفاہمت کی کوششوں کے باوجود اس کا باپ کو اس سے مرتے دم تک شکایت رہی۔

جب ڈینیال سات سال کا تھا تو اس کا چھوٹا بھائی جون برنولی دوم پیدا ہوا۔ اس کے باپ نے اسے تجارت پڑھانے کی کوشش کی۔ مگر ڈینیال نے منع کر دیا وہ ریاضی پڑھنا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے اپنے باپ کی خواہش پر تجارت بھی پڑھی۔ اس کے باپ نے پھر اسے طب پڑھنے کو کہا جو کہ اس نے اس شرط پر پڑھنا قبول کیا کہ وہ خود اسے ریاضی پڑھائیں جو کہ وہ کچھ عرصے پڑھاتا بھی رہا۔ وہ لیونہارڈ اویلر کا بہت قریبی دوست تھا۔ وہ 1724ء میں روس سینٹ پیٹرز برگ میں ریاضی کا استاد بن کر چلا گیا مگر وہاں وہ زیادہ خوش نہیں رہا۔ 1733ء میں ایک عارضی بیماری نے اسے وہاں سے جانے کا بہانہ دے دیا۔ وہ واپس جامعہ بازیل آگیا اور مرتے دم تک وہیں رہا۔ 17 مارچ 1782ء کو اس کا بازیل سویٹزر لینڈ میں انتقال ہو گیا۔

ڈینیال برنولی کی کتاب کا سرورق

ریاضی تصنیف[ترمیم]

ریاضی میں اسکی سب سے اولین کاوش 1724ء میں گولڈباغ کی مدد سے شائع ہوئی۔ دو سال بعد اس نے گردشی حرکت کے بارے میں اپنی کتاب شائع کی۔ 1734ء میں اس کی سب سے اہم تصنیف شائع ہوئی۔ اویلر اور برنولی دونوں نے مل کر سیالی حرکات کے بارے میں جاننے کی بہت کوششیں کیں۔ خاص طور پر وہ جاننا چاہتے تھے کہ خون کی رفتار اور دباؤ کے درمیان کیا تعلق ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک نلی کی دیوار میں کچھ سوراخ کیے تا کہ وہ دیکھ سکے کہ سیال دباؤ کی وجہ سے کتنا اوپر تک آتا ہے۔

جلد ہی یورپ کے تمام معالجوں نے مریضوں فشار خون (blood pressure) معلوم کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کر لیا کی وہ ششیے کی نلیاں مریض کی شریان میں لگا دیتے تھے۔ تقریبا 170 سالوں تک فشار خون معلوم کرنے کا یہی طریقہ رائج رہا پھر ایک اطالوی معالج نے 1896ء میں کم تکلیف دہ طریقہ دریافت کیا جو کہ آج تک استعمال ہوتا ہے۔ تاہم برنولی کا دباؤ جانچنے کا طریقی آج تک جدید ہوائی جہازوں میں گزرتی ہوئی ہوا کی رفتار معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈینیال نے پھر اپنا پرانا کام قانون بقائے توانائی (law of conservation of energy)‏ دوبارہ شروع کر دیا۔ اس وقت یہ معلوم تھا کہ حرکت کرتی ہوئی اشیا جب ان کی اونچائی بڑھائی جاتی ہے تو وہ اپنی حرکی توانائی (kinetic energy) کو جہدی توانائی (potential energy) سے تبدیل کرتی ہیں۔ ڈینیال برنولی نے جانا کہ حرکت کرتا ہوا سیال اپنی حرکی توانائی (kinetic energy) دباؤ سے تبدیل کرتی ہے۔ اسے ریاضی کی زبان میں اس طرح لکھ سکتے ہیں۔


\tfrac12 \rho u^2 + P = \text{constant}


یہاں P دباؤ (pressure) ہے \rho سیال کی کثافت (density) ہے اور u اس کی سمتار (velocity) ہے۔ اس قانون سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم سمتار (velocity) بڑھائیں گے تو دباؤ (pressure) کم ہو جائے گا۔ اسی قانون کا ہوائی جہاز کے پر (wing) بنانے میں استحصال (exploited) کیا جاتا ہے جو کہ اس طرح سے بنائے جاتے ہیں کہ اس کے اوپر کی سطح پر ہوا کی سمتار زیادہ ہو جائے تا کہ اس کی سطح کے نیچے دباؤ کم ہو جائے اور اسی وجہ سے جہاز اوپر کی طرف اٹھتا ہے۔