اردو شاعری کا سیاسی و تاریخی پس منظر (آغاز سے ۱۸۵۷ء تک )

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

[1] 1707ء سے پہلے[ترمیم]

1707ءکے بعد اردو بازاروں اور محفلوں سے گزر کر شعر و سخن کی دنیا میں ذریعہ اظہار بننے لگی تھی لیکن اس سے پہلے بھی اردو شاعری کے آئینہ خانے میں ہمیں سیاسی، تاریخی، تمدنی اور ثقافتی و واقعات کے ساتھ مختلف ادوار کے افکار کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ اختصار سے 1707ء سے پہلے کے حالات کا جائزہ پیش ہے۔ اس دور کی دکنی شاعری کے مطالعے سے ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ ہے "قومیت کے نظریہ" کا سوال.

ادبی مؤرخوں نے ہماری شاعری کی روایت کا آغاز "پرتھی راج راسا" سے کیا ہے لیکن حافظ محمود شیرانی صاحب نے اس کے رد میں مستحکم دلیلیں پیش کی ہیں امیرخسرو کے ریختہ میں ہمارے نقطہ نظر سے کوئی قابل ذکر مواد موجود نہیں۔ کبیر داس کی شمولیت لسانی اعتبار سے بحث طلب ہو سکتی ہے کہ ان کی زبان کو اردو میں شامل کیا جائے یا نہیں۔

کبیر نے اپنی بولی کو اکثر مقامات پر "پوربی" کہا ہے لیکن اس میں برج بھاشا، کھڑی بولی، پنجابی، راجستھانی، سبھی کے الفاظ ملتے ہیں۔

"کبیر داس" کی شاعری میں تاریخی واقعات کا راست ذکر نہیں ملتا البتہ ایک اعتبار سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ ان کی شاعری اور فکر پر اسلام کا اثر تھا۔ توحید سے متعلق ایک دوہا:-

صاحب میرا ایک ہے، دوجا کہا نہ جائے     دوجا صاحب جو کہوں، صاحب کھرا رسائے

"قبطن" بھی پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام اور سولہویں صدی عیسوی کے آغاز کے شاعر ہیں۔ قبطن کی مثنوی "مروگاوتی" پدماوت کی طرح عشقیہ قصے پر مبنی ہے لیکن اس میں شاہ حسین کا حوالہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

شاہ حسین آہے بڑا راجا                  چھتر رسنگاسن ان کو چها جا

پنڈت اوبدھ دنت سیانا                  پڈھے پوران ارتھ سب جانا

مغلیہ سلطنت سے پہلے ہی شمالی ہند میں اردو نے عوامی سطح پر جگہ بنانی شروع کردی تھی۔ پانی پت کی جنگ 932ھ )1526ء) میں جب بابر نے سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دی تو کسی نے یہ شعر فی البدیہہ کہا:-

نو سے اوپر تھا بتیسا                       پانی پت میں بھارت دیسا

اٹھئیں رجب سکر وارا                   ابر جیتا، براہم ہارا

"افضل جھنجھانوی" ( م 1626ء) کی مثنوی "بارہ ماسہ" میں شوہر کی جدائی میں ایک عورت کی کیفیات کو پیش کیا گیا ہے عورت کی طرف سے جذبات و کیفیات کا اظہار شمالی ہند و دکنی دونوں کی  مشترک صفت ہے اور اس کا سرچشمہ ہندی شاعری ہے۔

افضل کی بارہ ماسہ( دوازدہ ماہ ) میں بر عظیم کے بارہ مہینوں کی خصوصیات و کیفیات کا احاطہ کیا گیا ہے مثلا ساون میں کوئل کی کوک وغیرہ

اری جب کوک کوئل نے سناہی           تمام تن بدن میں آگ لاہی

دکنی شاعری میں 1707ء سے پہلے سیاسی واقعات کو پیش کرنے کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس کی ادبی وجہ مثنوی ہے۔ جب کہ مثنوی خود سیاسی و سماجی حالات کا نتیجہ ہے۔ دکن کے سلاطین نے اپنی زبان کی سرپرستی کی۔ سلاطین دکن اور ان کے درباری شعرا کا کلام سیاسی و تمدنی حالات و واقعات کی تصویر کشی کرتا ہے۔ قومیت کا جذبہ اس شاعری میں آنکھ کھولتا نظر آتا ہے۔

مغرب کی سیاسی اور ذہنی غلامی کے نتیجے میں ہم ہر نظریے کا منبع مغرب کو قرار دینے لگتے ہیں۔ قومیت کو انیسویں صدی کا ایک سیاسی نظریہ سمجھا جاتا ہے۔ ادبیات کے مطالعے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ "فردوسی" قومیت کا پہلا نقیب ہے۔

نہ شیر شتر خوردن و سوسمار    عرب را بجائے رسیدست کار

کہ تخت کیاں را کند آرزو                تفو بر تو اے چرخ گردان تفو (فردوسی)

فردوسی کی اس قومیت کا نمایاں پہلو اس کی عصبیت ہے جس کا زندہ ثبوت "شاہنامہ" ہے۔ زبان کو قومیت کی اساس کہا جاتا ہے۔

دکن کی تاریخ اور دکنی ادب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دکن کا ذکر ایک مستقل اور علاحدہ حکومت کی حیثیت سے بار بار کیا گیا۔ دکن کے علاوہ باقی سب "مغلائی" ہے۔ قومیت کی ایک مثال "نصرتی" کی شاعری ہے۔ اس نے "علی نامہ" میں اپنے شکستوں کو بھی فتح میں بدل دیا کو بھی تاریخ کو یوں ہی مسخ کرتی ہے۔

دکنی شاعری کا جائزہ تاریخی و سیاسی نقطہ نظر سے[ترمیم]

عہد بہمنی:- (1350ء تا 1525ء)[ترمیم]

اس عہد میں تین لسانی علاقے "مہاراشٹرا, تلنگانہ اور کرناٹک" ایک وحدت بن گئے۔ دکنی زبان کے کئی مرکز قائم ہوئے۔ گلبرگہ، بیدر، گوگی، ویلور اور گولکنڈہ وغیرہ۔ دکنی اور شمالی ہند جدا ہو گئے اور زبان اردو دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔

حضرت سید محمد حسینی گیسو دراز اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں ان کی شاعری ( چکی نامہ ہدایت نامہ وغیرہ ) ان سے منسوب کی جاتی ہے۔ دکنی ادب نے  تصوف کے سائے میں آنکھ کھولی۔

نظام شاہ بہمنی 1460ء میں تخت نشین ہوا۔ "نظامی بیدری" مثنوی کدم راو پدم راو" کا مصنف اسی عہد کا شاعر ہے۔

مثنوی کی روایت باہمنی دور سے شروع ہوئی اس کی وجہ درباری سرپرستی اور معاشی خوشحالی ہے۔

بہمنی دور کے اختتام پر 5 ریاستیں قائم ہوئیں جن میں سے 2 ادب و شعر میں اہمیت رکھتی ہیں:-

  1. بیجا پور کی عادل شاہی ریاست ( 1490ء تا 1686ء )
  2. گولکنڈہ کی قطب شاہی ریاست ( 1505ء تا 1686ء )

عادل شاہی عہد:-[ترمیم]

اس خاندان کے حکمرانوں میں ابراہیم عادل شاہ ثانی (1586ء تا 1626ء) علم و فضل کا بڑا سر پرست تھا۔ شاہ برہان الدین جانم اسی عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس عہد کی سب سے اہم شخصیت "عبدل" ہے۔ اس نے 1603ء میں مثنوی "ابراہیم نامہ" نظم کی. اس مثنوی میں بیجاپور کے عام حالات، ماہرین فنون کے تذکرے اور دربار شاہی کے مرقعے موجود ہیں۔

محمد عادل شاہ کا دور ( 1626ء تا 1656ء ) تک کا ہے۔ "قطب رازی، مرزا مقیمی، آمین حسن شوقی رستمی صنعتی وغیرہ اس عہد کے ممتاز شاعر ہیں۔

" مرزا مقیمی" نے اپنی مثنوی "چندر بدن و مہیار" میں ایک ہندو شہزادی اور مسلمان تاجر زادے کا عشقیہ قصہ لکھا ہے جس کی تمدنی اہمیت ہے۔

"حسن شوقی" کی نظم "میزبانی نامہ سلطان محمد عادل شاہ" سے اس عہد کے ایک تمدنی گوشے پر روشنی پڑتی ہے۔ اس کی دوسری اہم نظم "فتح نامہ نظام شاہ" ہے۔ اس میں رام راج کے مارے جانے اور وجیانگر کی سلطنت کے خاتمے کا ذکر ہے۔

"علی عادل شاہ ثانی شاہی" (1656ء تا 1673ء) اچھا شاعر تھا. "نصرتی" اسی دور کا شاعر ہے۔ یہ ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف مرہٹے تھے اور دوسری طرف مغلوں کا محاصرہ۔ مرہٹوں سے ایک معرکہ "پنالہ کا معرکہ" بہت مشہور ہے۔ شیواجی نے چپکے سے پنالہ کا قلعہ چھوڑ دیا۔ اس موقع پر نصرتی (درباری شاعر) نے مشہور مصرع کہا:-

؂ علی نے پل میں پنالہ صلابت سون

علی کو اورنگزیب سے صلح کرنی پڑی اور بیجاپور کا تمام شمالی علاقہ عالمگیر کو دینا پڑا۔

شاہی کے اردو کلیات میں اس کے محلوں کی تعریف میں قصیدے ملتے ہیں۔

" نصرتی" اس کا درباری شاعر تھا۔ اسے عظیم شعرا کی صف میں شامل کرنا ہر لحاظ سے مناسب ہے۔ اس کی دو مثنویوں "گلشن عشق" اور "علی نامہ" مشہور ہیں. "علی نامہ" رزمیہ مثنوی ہے اور تاریخی واقعات اس میں مکمل صحت کے ساتھ ملتے ہیں۔ یہ "علی نامہ" میں مغلوں سے نفرت کا اظہار بھی کرتا ہے اور یک طرفہ کارروائی سے ہٹ کر ان کی شجاعت کی تعریف بھی کرتا ہے۔ اس نے شیواجی کا ذکر بھی شدت اور تلخی سے کیا ہے۔

؂ حرم میں بھی سن پڑے تو تھا کشتنی

تہذیبی اعتبار سے اس دور کے شاعروں میں "ہاشمی" کا ذکر بھی بعض رجحانات کو سمجھنے میں ممد و معاون ہوگا۔ بعض نقادوں نے اسے پہلا باقاعدہ ریختی گو شاعر قرار دیا ہے جس نے اپنا "دیوان ریختی" مرتب کیا ہے۔ اس کی شاعری میں شمالی ہند کی ریختی کی خصوصیات اپنی ابتدائی شکل میں ملتی ہیں۔

اس کے دیوان سے اس عہد کی خواتین کے لباس زیور اور آرائش کے سامان وغیرہ کی فہرست بنائی جاسکتی ہے اس کے کلام میں نسوانی محاوروں اور اشعار وکی فراوانی ہے مثلا پیڑو مارنا، سر نہانا، اوکھا پانی نہانی، چلچلی، فضیحی وغیرہ۔ بریانی اور معکوس جنسی جذبات کا اظہار بھی ملتا ہے۔ بیاہتا اور کنواری عورت کے جذبات و کیفیات کا بیان بھی ملتا ہے۔

ہاشمی کے اشعار میں اس عہد کی سیاست کے بارے میں بھی تبصرے ملتے ہیں۔

کالی دھڑی میں دھن تیری بیٹھا ہے میرا جیو سو یوں

بیٹھا ہے کرناٹک میں جوں سکہ سو عالمگیر کا

قطب شاہی عہد:-[ترمیم]

اس عہد اور خاندان کا سب سے بڑا شاعر "محمد قلی قطب شاہ" ( 1580ء تا 1611ء ) ہے جس کی شاعری اس عہد کی آئینہ خانہ ہے۔ اس نے پچاس ہزار بیت کہے۔ متعدد مثنویاں پھلوں اور میووں پر، بہت سی مثنویاں اور غزلیں اس وقت کے رسم و رواج اور تیوہاروں پر لکھی ہیں۔ مذہبا شیعہ تھا اور شاعری میں بھی مذہب کو فراموش نہ کیا۔ پہلے بادشاہوں نے عقائد کی تبلیغ نہ کی تھی۔ اس نے مذہبی مخالفتوں کو جنم دیا۔

ہمیں ہیں شیعہ کر کرتے خوارج دشمنی سب سوں

علی ابن ابی طالب انن کوں ماروہت ضربت

"ڈاکٹر محی الدین زور" کے مطابق خوارج سے مراد "سنی" ہیں۔

اس کے دربار کا سب سے مشہور شاعر و ادیب "وجہی" ہے۔ اس کی مثنوی" قطب مشتری" ( 1604ء ) میں بادشاہ کی داستان عشق بیان کی گئی ہے۔ اس سے اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس عہد میں عشق کو "گناہ ابن آدم" نہیں بلکہ توفیق سمجھا جاتا تھا۔

"سلطان محمد قطب شاہ" (1611ء تا 1625ء ) محمد قلی قطب شاہ کا بھتیجا اور داماد تھا شاعر تھا۔ مگر شعرا کا قدردان نہ تھا۔ شاعروں کا دربار سے تعلق ٹوٹ گیا۔

"غواصی" اس عہد کا مشہور شاعر ہے. "سیف الملوک و بدیع الجمال" اس کی مشہور مثنوی ہے۔

"عبد اللہ قطب شاہ" (1625ء تا 1672ء ) نے ادب نوازی کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا وجہی غواصی اور دوسرے شاعر دربار کی زینت بن گئے۔

"غواصی" نے اپنی مثنوی "طوطی نامہ" میں عبد اللہ کے عہد کو غرق شدہ فنکاروں کے دوبارہ ابھرنے کا دور قرار دیا ہے۔

ڈوبے تھے ہنرمند سو پھیر کر               نکل آئے تجھ دور میں تیر کر

"جنیدی" اور "ابن نشاطی" بھی اسی دور کے شاعر ہیں۔

"ابو الحسن تانا شاہ" 1672ء میں تخت پر بیٹھا اس عہد کے قابل ذکر شاعر "طبعی" اور "محب" ہیں۔

محب نے اپنی مثنوی "معجزہ فاطمہ" میں ابوالحسن کی مدح میں اپنے پیر خواجہ گیسودراز کی حمایت و نصرت روحانی کا ذکر کیا ہے۔

تجھے پیر کا حق تے سایہ اہے                تو ہر کام میں فتح پایا اہے

ابوالحسن تھانہ شاہ کے ساتھ قطب شاہی دور ختم ہوا اور مغل دور شروع ہوا۔

ڈاکٹر زور کے مطابق اس عہد کے شاعروں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مرثیے کے پردے میں اپنے وطن کے مرثیے لکھے۔

آج غم ناک ہیں چمن کے گل             بلکہ دل چاک ہیں سمن کے گل

بہت سے شاید قومیت کے اسیر نہیں تھے اور یہ شاعر اورنگزیب کی مداح کرتے ہوئے نظر آئے۔

"ضعیفی" نے اپنی مثنوی جو 1688ء میں لکھی گئی عالمگیر کی مدح لکھی:۔

یہ دور جہاں اورنگ زیب               جس سے ہوا اس زمانے کوں زیب

بڑا دین اسلام کا کارساز                  الٰہی تو کر عمر اس کی دراز

"قاضی محمود بہری" نے مثنوی "من لگن" ( 1685ء ) میں شان و شوکت اور عیش و عشرت کے پردے میں جھلکتے زوال کے آثار تحریر کیے. ایک فضل اورنگ زیب کی مدح میں بھی تحریر کی۔

"میر جعفر زٹلی" زٹل گو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے مبصر بھی ہیں۔ انہوں نے بھی اورنگزیب کی مدح اپنے "ظفرنامہ" میں کی۔

زہے شاہ اورنگ دھانک بلی              کہ در ملک دکن پڑی کھل بلی

کمربستہ، ہشیار میدان پر                  شب و روز تیار گھمسان پر

میر جعفر زٹلی سے مرزا جان جاناں تک[ترمیم]

میر جعفر زٹلی[ترمیم]

محققین کی رائے ہے کہ ان کی کلیات میں الحاقی کلام بھی شامل ہے، یہ درست ہوسکتا ہے کیونکہ بعض نظمیں لسانی نقطہ نظر سے مختلف اور بعد کی معلوم ہوتی ہیں، لیکن تاریخی واقعات سے متعلق ان کا کلام ان تمام نسخوں میں مشترک ہے جو ہمیں مل سکے۔

زٹلی نے اورنگزیب کی وفات پر مرثیہ کہا:-

اورنگ زیب مر گئے، نیکی جگت میں کر گئے              تخت اور چھپر کھٹ کو دھر گئے، آخر فنا آخر فنا

بہادر شاہ اول کے خاصے عرصے بعد "درصفت جلوس اعظم شاہ بعد عالمگیر" لکھی. "خاص عرصہ" شاہ اول کے مختصر عہد حکمرانی کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔

ان کے دور میں عوام و حکمران اخلاقی پستی کا شکار ہو گئے۔ عدل انصاف ختم۔ رشتوں کے آداب ختم۔ زٹلی نے "دراحوال دنیا و اہل دنیا" میں ان مسائل کو پیش کیا۔

گیا اخلاص عالم سے، عجب یہ دور آیا ہے                  ڈرے سب خلق ظالم سے، عجب یہ دور آیا ہے

کہا جاتا ہے کہ میر جعفر زٹلی کو ان کی "سکہ نویسی" کے جرم میں فرخ سیر نے قتل کرا دیا تھا۔ حتمی شہادت نہیں مل سکی مگر بیشتر تذکرہ نویسوں نے یہ بات دہرائی ہے۔ سکہ یہ ہے"-

سکہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر                          بادشاہ دانہ کش فرخ سیر

عبدالرحمن بیجاپوری[ترمیم]

اسی عہد کے دکنی شاعر تھے۔ بہادر شاہ اول کے مقربوں میں شامل ہوکر دہلی آئے۔ ان کی مثنوی میں بیجاپور کا مرثیہ اور عالمگیر کی مذمت ہے۔۔

دیے بھیج فوجاں کو اول شتاب                        جو جا کر کریں ملک سارا خراب

ولی دکنی[ترمیم]

ولی کا دیوان دہلی آنے سے پہلے دلی میں فارسی دفتری زبان تھی لیکن شعرا اردو میں تفنن طبع کے طور پر ریختہ سے شغل کرتے تھے لیکن ولی کا دیوان آنے کے بعد اس کے اثرات نے دلی کو اردو شعر و سخن کا باقاعدہ دبستان بنا دیا۔

ولی کے دور میں بادشاہت کا ادارہ اپنی وقت کھو رہا تھا جس کا اظہار ان کے اشعار میں ہوتا ہے۔

تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا                سر اپر اس کے بگولہ تاج سلطانی ہوا

اسی طرح اہل ہنر کو ہنر کا صلہ نہ ملنے کے ساتھ ساتھ مقامی رنگ میں تہوار، نہان، مقامات اور مختلف قوموں کا ذکر بھی ان کی شاعری میں شامل ہے۔

خان آرزو ( 1756ء )[ترمیم]

ان کے عہد میں زندگی اتنی بے وقت ہو گئی کہ وہ محبوب پر بھی اعتماد نہیں کرتے کیونکہ اسے بھی تو "جان" کہتے ہیں۔

جان تجھ پر کچھ اعتماد نہیں                 زندگانی کا کیا بھروسا ہے؟

نجم الدین آبرو[ترمیم]

آرزو کے شاگرد، ایہام گوئی کے استاد اور امرد پرستی کے رجحان کے نقیب تھے۔ محمد شاہی دور کا تاریخی جائزہ ان کے اس شعر میں نظر آتا ہے:-

زنا نے بھی لگے مردی پکڑنے            کسب سیکھا چماری نے نری کا

شاکر ناجی[ترمیم]

اپنے دور کے امیروں اور فوج کا خاکہ ایک شہر آشوب میں اڑایا ہے جس میں ہندوستانی فوج کی بزدلی اور نادر شاہی حملے کے دوران پست ہمتی کا ذکر ہے۔

شرف الدین مضمون اور مصطفی خان یک رنگ[ترمیم]

اسی عہد کے شاعر ہیں ان کی غزلوں میں اس عہد کے عمومی حالات کا عبرت ناک نقشہ نظر آتا ہے۔

شیخ ظہور الدین حاتم[ترمیم]

پہلے شاعر جنہوں نے اپنی ہر غزل پر سن تصنیف درج کیا۔ ان کا کلام محمد شاہ کے عہد سے لے کر شاہ عالم ثانی کے دور تک کے حالات کے شاعرانہ تبصرے پر محیط ہے۔

مشہور مخمس "شہر آشوب" میں اس عہد کی تاریخ و حالات رقم ہیں۔

بے نوا[ترمیم]

اسی دور کے شاعر ہیں۔ اپنے شہر آشوب میں اس واقعے پر کرب کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت میں ایک مرد مسلمان کو ہندو جوہری نے مار دیا۔ یہ واقعہ عوامی ہنگامہ بن گیا اور اس کا خاتمہ سبھ کرن جوہری کی حویلی کے انہدام پر ہوا۔

جوتا فروش مرد مسلمان دین دار                       مردود جوہری نے لیا ہے ستم سے مار

مرزا مظہر جان جاناں ( 1781ء )[ترمیم]

ایہام گوئی کے خلاف ادبی جہاد میں اولیت حاصل ہے۔ اگرچہ صوفی تھے لیکن سیاسی واقعات اور سازشوں پر گہری نظر تھی جس کا اندازہ ان کے مکتوبات اور شاعری سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مغلیہ سلطنت کے حقیقی صورت حال کو سمجھ لیا۔ انھوں نے اپنے زمانے کو عہد غلامی قرار دیا۔

ہم گرفتار کو اب کیا نام ہے گلشن سے لیک    جی نکل جاتا ہے جب سنتے تھے آتی ہے بہار

سودا، میر، درد اور ان کے شاگردوں کا دور[ترمیم]

سودا[ترمیم]

سودا، میر اور درد کے ہاں ایک ہی حالات الگ الگ شعری انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ سودا کی شاعری کا آغاز پہلے ہوا۔ سودا کے طمطراق اور شکوہِ شاعری کے پیچھے ان کے عہد کا خراب آباد ہے۔

سودا نے زندگی کرنے کے لیے بہت سوں کے قصائد لکھے۔ اتنے ممدوحوں کا ہونا ہی اس عہد کے انتشار کی دلیل ہے۔ محمد شاہی عہد میں ایک خواجہ سرا کا ممدوح ہونا کیا کا المناک بات ہے۔

رچرڈ جانسن ریزیڈنٹ لکھنؤ کی مدح میں سودا کا قصیدہ لکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ شجاع الدولہ کے عہد سے ہی کمپنی کے اثرات اودھ کی سیاسی زندگی میں بہت نمایاں ہو گئے تھے۔

اس دور کے حالات کا اندازہ ان اشعار سے ہوسکتا ہے جن میں سودا نے بادشاہ کو عدل کی تلقین کی۔

مقامِ عدل کے جس دم سریرآرا ہو                     ہر ایک خورد و کلاں میں برابری جانے

"تضحیک روز گار" میں سودا نے مغلوں کی عسکری طاقت کا نوحہ لکھا ہے۔

سودا نے "قصیدہ شہر آشوب" میں تاجروں، سرکاری ملازموں، شاعروں، مولویوں، کا تبوں اور دوسرے پیشہ وروں کا عبرت ناک نقشہ کھینچا ہے۔

دنیا میں آسودگی رکھتی ہے فقط نام                      عقبیٰ میں یہ کہتا ہے کوئی اس کا نشان ہے

میرتقی میر[ترمیم]

سودا کے ہم عصر تھے۔ ان نے دل اور دلی دونوں کے کوائف کو اپنی شاعری میں یوں یکجا کیا کہ ان کی غزل غم دوراں غم جاناں کا سنگم بن گئی ہے۔ انہوں نے دلی کو کئی بار اجڑتے دیکھا۔ اس کا ان کے دل پر گہرا اثر تھا اور اس کے اثرات ان کی شاعری میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

دل کی ویرانی کا کیا مذکور                  یہ وہ نگر ہے جو سو بار لوٹا گیا

میر نے دلی کے ان حالات کا ذکر غزل کے علاوہ مثنویوں قصیدو اور مخمس میں کیا ہے احمد شاہ ابدالی کے حملے )1757)  کے وقت لشکر کی حالت پر ہجو  میں دو مخمس ان کی کلیات میں موجود ہیں۔ ایک بند کا ایک شعر پیش ہے۔

پوچھ مت کچھ سپاہیوں کا حال              ایک تلوار بیچے ہے ایک ڈھال

خواجہ میر درد[ترمیم]

میر و سودا کے دور سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ صوفی ہونے کے باوجود وہ حوادثِ زمانہ اور اپنے عہد کی زندگی کی حشر سامانی سے بے خبر اور بے گانہ نہیں تھے۔ ان پر بھی ایسے وقت آئے کہ وہ یوں فریاد کر اٹھے:-

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے               ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

میر، سودا اور مظہر جان جاناں کی طرح درد نے بھی یہاں مکوی کے خاتمے کی مہم میں حصہ لیا۔

میر عبدالحئی تاباں[ترمیم]

ان کا دورہ ساہی ہنگامی تھا کہ اس کے نقوش ان کے ذہن اور شاعری پر مرتسم ہو گئے۔

داغ ہے ہاتھ سے نادر کے میرا دلِ تاباں      نہیں مقدور کہ جا چھین لوں  تخت طاؤس

بلبلو کیا کرو گے اب چھٹ کے                        گلستان تو اجڑ گیا کب کا

انعام اللہ خان یقین[ترمیم]

ان کی شاعری میں بنانے کا شدید احساس ہے۔ ان کے نزدیک ہم وطنوں کی بے عملی غلامی کا سبب ہے۔

آپ سے ہم نے مقرر کی ہے اپنی جا قفس    ورنہ ٹک پھڑکیں تو ہوجاویں تہ و بالا قفس

اشرف علی فغاں[ترمیم]

ان کی شاعری میں ابدالی حملے کے وقت کے دلی کے حالات ہیں اور دوسری طرف ہجرت کی کیفیات۔

بندے سبھی خدا کے کہتے پھرے ہیں الجوع  القصہ کیا کہوں میں سارا دیار فاقے

          ان ہی کی طرح قائم، مرزا جعفر علی حسرت، خواجہ احسن اللہ بیان، خواجہ عمانی، میر محمدی بیدار، نثار، کلیم وغیرہ کی شاعری میں دلی کے اس دور کے سیاسی اور معاشرتی و معاشی خرابوں کا حال واضح نظر آتا ہے۔

یہ قصر یہ ایوان جو دیکھو ہو شکستہ                        یک وقت میں تھا جانہ معمور کسی کا

( بیدارؔ )

          میر، سودا اور درد کے ہم عصر شاعروں اور ان کے شاگردوں کی شاعری کے مطالعے سے کئی شاعروں کی ہجرت کی داستان سامنے آتی ہے۔ ان کی ہجرت کے ساتھ ہو تو شاعری کا ذوق اور چرچا برصغیر کے مختلف حصوں میں پہنچ گیا اس عہد میں اردو کی وسعت کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں:-

●       نامدار خان جو پنجاب کا شاعر تھا اس نے چڑت سنگھ ( 1774ء ) جو رنجیت سنگھ کا دادا تھا کا مرثیہ اردو میں لکھا۔

احوال چڑت سنگھ کا لکھتا ہوں فی المثل       پہنچا جب اس کا حکم فضا میں دم اجل

●       شیخ علام علی راسخ عظیم آبادی (1746ء تا 1806ء ) اس پر آشوب زمانے میں بھی سیر و سیاحت کے شوقین تھے۔ میر کے شاگرد رہے۔ ان کا شہر آشوب عظیم آباد اور بہار ہی کو نہیں بلکہ اس بر عظیم کی عام کیفیت کو پیش کرتا ہے۔

معطل ہے ہر کوئی بے کار ہے              فقط مفلسی برسرکار ہے

●       جوہری، راسخ کے ہم عصر اور ہم وطن ہیں۔ اپنے قصیدے میں عام مسائل کے ساتھ مسلمانوں کی ابتری اور اخلاقی اقدار کی شکست کا ماتم کیا ہے۔

مہاجر شعرائے دہلی - دبستان لکھنؤ کا آغاز اور نظیر اکبر آبادی[ترمیم]

1736ء سے 1772ء تک کی تاریخ کا سرسری جائزہ دہلی کی مسلسل تباہی کے مواقع کو پیش کرتا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے شعرا نے فیض آباد، لکھنؤ اور دکن کی طرف ہجرت کی۔ان میں خان آرزو، میر، سودا، میر سوز، حشمت، تحسین، دیوانہ، مصحفی وغیرہ شامل تھے۔

لکھنؤ کی فضا نے غزل کو ایک طرف رعایت لفظی، معاملہ بندی اور خارجی انداز دیا تو دوسری طرف سنگلاخ زمینوں میں غزل کہنے کا رواج بڑھا۔ باہمی چشمک کی وجہ سے دو غزلہ، سہ غزلہ، چہار غزلہ کا آغاز ہوا۔

میر حسن[ترمیم]

دلی سے لکھنؤ آئے۔ ضاحک اور سودا کے معرکے میں میر حسن نے سودا کی ہجو لکھی۔

ان کی شاعری میں ان کی اور ان کے عہد کی زندگی کے بہت سے پہلو موجود ہیں۔ ان کی آمدنی قلیل تھی لیکن اس بے روزگاریوں کے زمانے میں رقم پابندی سے ملنا بھی نعمت تھی۔

ہے غنیمت جو اس زمانے میں              اپنی تنخواہ پائے جاتا ہے

ان کی مثنویاں اپنے عہد کی تہذیبی تاریخ کا درجہ رکھتی ہیں مثلاً "مثنوی خوانی نعمت" آصف الدولہ کے دسترخوان کے کھانوں کی تفصیل ہے۔

ان کی کلیات کے آخر میں فردیات ہیں جن میں لکھنؤ کی فضا اور لکھنوی رنگ نمایاں ہے۔ ہر فرد ایک طوائف کا نام رکھتا ہے۔ طوائفیں اودھ کی تہذیب میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

عجیب لذت مزہ ہے اس میں یارو                      بدن دردانہ ہے اس گلبدن کا

غلام ہمدانی مصحفی[ترمیم]

دہلی پر مرہٹوں کے حملے کو انہوں نے اپنے شہر آشوب میں پیش کیا ہے۔

دہلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں۔

میر انشاء اللہ خان انشاء[ترمیم]

مہاجر تھے۔ ان کے کلام میں ان کے عہد کے تاریخی و سیاسی واقعات کا عکس ہے۔

جس پاس کہ سو لاکھ روپے کا بھی نہیں ملک   اس شخص پہ اصلاً نہیں نواب کی پھبتی

زمانہ شناس آدمی تھے۔ انہوں نے برطانوی سامراج کے چوکھٹ پر گردن جھکا دی۔ انہوں نے بادشاہ انگلستان جارج سوم کی سالگرہ کے موقع پر نئےآہنگ کا قصیدہ لکھا۔ غالباً اردو شاعری کا پہلا نمونہ ہے جس میں انگریزی کے الفاظ اس کثرت کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔

پتے ہل ہل کے بجائیں گے فرنگی طنبور         لالہ لاوے گا سلامی کو بنا کر پلٹن

سعادت یار خان رنگین[ترمیم]

لکھنؤ کی جنسی تاریخ کے مورخہ نمائندے ہیں۔ ریختی کو اردو کی باقاعدہ صنف انہیں نے بنایا۔

ان کا شہر آشوب سب سے مختلف ہے۔ وہ کامیابی کے لیے جھوٹ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔

جھوٹا کبھی نہ جھوٹا ہوئے                             جھوٹے کے آگے سچا رووے

ان کی اہم تصنیف "جنگ نامہ رنگین" ہے جو ایک رزمیہ نظم ہے جو انہوں نے 30-1829ء میں  جنگ پاٹن ( 88-1787) کے احوال کے پس منظر پر لکھی۔

مغل ہم ہیں اور وہ مرہٹہ گنوار                        جوان اپنی دس اور اس کے ہزار

جرات[ترمیم]

معاملہ بندی کی وجہ سے لکھنؤ میں مشہور ہوئے۔

ایک مثنوی میں انہوں نے دہلی کی تباہی اور فیض آباد کی آبادی اور نواب محبت خاں سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا ہے۔

فلک نے کر جہاں آباد برباد                            کیا تھا خوب فیض آباد آباد

"تاریخ قید" میں جرات نے وزیر علی ( جو ستمبر 1797ء تا 1798ء جنوری تک لکھنؤ کے نواب وزیر رہے ) کے فرنگیوں کے ہاتھوں قید پر آنسو بہائے۔ یہ واقعہ 1798ء میں پیش آیا۔

وہ نواب خاتم وزیر علی                                پڑا بس بے بس ہو جب ناگہاں ناگہاں

ناسخ[ترمیم]

ناسخ صنعتوں اور خیال آفرینی کے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کو عام طور پر زندگی کے مسائل سے لاتعلق سمجھا جاتا ہے جو مجموعی طور پر غلط نہیں ہے۔ وہ زبان کی درستی میں لگے رہے البتہ غریب الوطنی کا احساس اور مسائل و مشکلات کا اثر واضح نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی صورت حال کی طرف بھی اشارے  موجود ہیں۔

اس خرابی میں نہیں ہے کوئی دو دن آباد       آج معمور جو ہیں ہوں گے وہ گھر کل  خالی

آتش[ترمیم]

مصحفی کے شاگرد تھے اس لیے ان کی شاعری میں دہلی اور لکھنؤ دونوں دبستانوں کا امتزاج نظر آتا ہے۔

ان کی غزلوں میں سیاسی رنگ نظر آتا ہے وہ قاتل کو مقابلے کی دعوت دیتے ہیں۔ غلامی کے مرکز کو اپنا وطن سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ لکھنؤ اور کمپنی کے تعلقات جس نوعیت کے تھے اس کا اندازہ ان کے ذیل کے شعر سے ہوتا ہے۔

پر کترنے سے صیاد چھری بہتر ہے                       قصہ کوتاہ کرے حسرت پرواز اپنا

نظیر اکبرآبادی[ترمیم]

اس دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ زمانی اعتبار سے اس دور کے شاعر ہیں مگر اپنی شاعری کی بنا پر اپنا دور آپ ہیں۔ تذکرہ نگاری کے عہد میں تذکرہ نگاروں نے انہیں سوقیانہ انداز کا مالک سمجھ کر ان کے ذکر سے اپنے قلم کو آلودہ نہ ہونے دیا لیکن عہد حاضر میں وہ  اردو کے "پہلے عوامی شاعر" قرار دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے حالات و واقعات کو جیسا دیکھا ویسا ہی بیان کیا۔

اپنی نظم "تماشائے دنیائے دوں" میں تہذیب و تمدن کے زوال پر نوحہ خانی کی ہے۔

ان کی شاعری کا ایک پہلو اقتصادی مسئلہ کا احساس ہے آٹے دال اور روپے کو انہوں نے زندگی کی حقیقت کی طرح پیش کیا ہے۔

سب کے دل کو فکر ہے دن رات آٹے دال کا ( آٹے دال )

دوسروں کی شاعری میں روغنی تصاویر ہیں، مجسمہ ساز اس عہد میں نظیر کے سوا اور کوئی نہیں۔

دلی کا دوسرا عہد زریں - شاہ نصیر سے 1857ء تک[ترمیم]

جس طرح چراغ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے اسی طرح کسی عہد کے دور آخر میں باکمال لوگوں کا مجمع نظر آتا ہے۔ دلی کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا۔ مکمل طور پر حکومت اور تاج و تخت اور بادشاہت کا دور ختم ہونے سے پہلے دہلی ایک بار پھر علمی و ادبی مرکز بنی۔ اس باب کے شاعروں کا تعلق شاہ عالم ثانی کےعہدِ آخر، اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کے دور سے ہے۔

ہم صرف ان شعرا کا ذکر کریں گے جن کا کلام ہمارے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے۔

شاہ نصیر[ترمیم]

یہ شاہ عالم ثانی سے متعلق تھے۔ ان کے دور کی یہ حالت تھی کہ شاعر کو دوشالہ لینے کے لیے اپنے فن کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ ایک شعر کا درج ذیل ہے:-

پناہِ آفتاب اب مجھ کو بس ہے                          کہ وہ مجھ کو اڑھاوے گا دو شالا

"آفتاب" شاہ عالم ثانی کا تخلص ہے۔

مولوی اسماعیل نے جہاد میں شکست کھائی تو انہوں نے ایک قصیدہ لکھا جو اس واقعے کی حقیقت آشکار کرتا ہے۔

شاہ نصیر کی غزلوں سے بھی اس دور کے حالات کی عکاسی ہوتی ہے۔

صیاد قفس کو نہ اٹھا صحن چمن سے                        باقی ہے ابھی مرغ گرفتار کی حسرت

میر نظام الدین ممنون[ترمیم]

انگریزوں کے اقتدار نے جس طرح ہمارے قومی وجود کو پھیلا دیا اس کی ساری کہانی ان کے اس شعر میں سمٹ آئی ہے۔

آمد سے تیری ہم پہ جو ہونی تھی سو ہوئی      اب دغدغہ حشر، نہ پروائے قیامت

محمد ابراہیم ذوق[ترمیم]

دہلی کی مٹتی ہوئی شہنشاہت اور دور آخر کی انتزاعی کیفیت کا عکس ذوق کے قصیدوں میں نظر آتا ہے۔ وہ بادشاہ جو لال بھی مجبور تھا اس کے بارے میں لکھتے ہیں:-

جہاں مسخر و عالم مطیع و خلق مطاع                       فلک موئید و اختر معین و بخت نصیر

مومن خان مومن[ترمیم]

اس عہد کے سماجی انتشار اور سیاسی حالات کا نقشہ مومن کے قصیدے میں ملتا ہے۔

خاک میں اشک آسمان سے ملے                        ہائے کیسے بلند ایوانی

کلیات مومن میں کوتوال دہلی کی معزولی پر قطعہ تاریخ ہے۔ معزولی کی تاریخ 1259ھ  ہے۔ اس قطعہ سے شہری انتظامیہ کے حال زار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک شعر درج ہے:-

شحنہ دہلی خلق آزار                       بچہ افغان، رشوت خوار

مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ[ترمیم]

نوعمری میں ہی ان کے ہاں ہزار آفتوں کا مطالعہ اجتماعی حالات کے پس منظر میں ہی کیا جاسکتا ہے۔

ہزار آفت و یک جان بے نوائے اسد                    خدا کے واسطے اے شاہِ بیکساں فریاد

بعد میں ان اشاروں کے پردوں کو الٹ کر دلی کی بے سر و سامانی کو یوں پیش کیا۔

بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالب تو پھر       کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے

غالب کا ایک قصیدے میں چھ ماہی تنخواہ کی بجائے ماہانہ تنخواہ کا مطالبہ کرنا بھی اس دور کی اقتصادی ابتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ                    تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار

بہادر شاہ ظفر[ترمیم]

ظفر پر یہ حالات بن آئے تھے کہ وہ لال قلعے میں بھی مجبور تھے پس ان کیفیات کا اظہار شدت سے ان کی شاعری میں پایا جاتا ہے۔

اسیر کنج قفس ہوں میں اے نواسنجو                     بلا سے میری اگر آیا بہار کا موسم

کمپنی کی سخت گیری اور وعدہ خلافی کی وجہ سے ان کے افسردہ دل میں بھی بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ یہ شعر ایسے ہی حالات کی پیداوار ہے۔

بہار آئی اسیرانِ قفس آپس میں کہتے ہیں     پھڑک کر توڑنا ہے گر قفس تیار ہوجائے

اسی طرح اس دور کے دوسرے شعرا جن میں شیفتہ، عاصی، ظہیر دہلوی، محمدعلی تشنہ، نسیم دہلوی، میر مہدی مجروح، سالک دہلوی اور ہدہد وغیرہ ہمارے موضوع کے لحاظ سے نمایاں شاعر ہیں کہ ان کی شاعری میں کسی نہ کسی طور پر اس دور کے حالات و واقعات اور تاریخی پس منظر کی تصویر نظر آتی ہے۔

"سلسلہ ناسخ، آتش، مصحفی، جرات" اور دبستان لکھنؤ 1856ء تک[ترمیم]

اس دور کے شعرا کے کلام میں لکھنؤ کی زندہ دلی، عیش و عشرت اور معاشرتی دلچسپیوں کا ذکر سب سے نمایاں ہے۔ لکھنؤ کے اس عہد کی شاعری بڑی حد تک انگیا، کنگھی، چوٹی تک محدود ہے لیکن کہیں کہیں سیاسی موضوعات اس جنسی تاریکی میں بجلی کی طرح چمک اٹھتے ہیں۔

اس باب میں صرف ان شعرا کے کلام کا ذکر کیا جائے گا جن میں سیاسی پہلو نمایاں ہے۔

مرزا محمد رضا خان برق[ترمیم]

ناسخ کے ممتاز شاگرد تھے۔ سلطان عالم کا خزانہ بھرا ہوا نہیں تھا مگر جو کچھ تھا اس کا بڑا حصہ "ارباب نشاط" کے بعد "ارباب سخن" ہی پر صرف ہوتا۔ اس لیے اس کا نام اس عہد کے شعرا کی غزلوں کا ردیف بن گیا۔ برق  کی ایک غزل کا شعر پیش ہے۔

بنا ہے لکھنؤ کنعان و رشکِ مصر کوچے ہیں     عزیز و یوسفِ ہندوستان، سلطان عالم ہیں

منیر شکوہ آبادی[ترمیم]

ان کی مثنوی "حجاب زنان" میں نصیر الدین حیدر کے دربار کا مرقع تاریخی طور پر اہمیت اور دلچسپی کا حامل ہے۔

مرزا شوق[ترمیم]

آتش کے سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی مثنویاں دوسرے ہمعصر شاعروں کی نسبت ہمیں لکھنوی معاشرے کے بطون میں جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔ اس معاشرے کے عام آدمی کا انداز عشق و زیست کیا تھا؟ اخلاقی تصورات اور جنس کی باہمی کشمکش کتنی شدید تھی؟ مرزا شوق کی مثنویاں انہیں سوالوں کا جواب ہیں۔

سید محمد خان رند[ترمیم]

آتش کے ممتاز شاگرد ہیں۔ اس دور میں تاج و تخت اپنے مالکوں کو آئے دن بدل دیتے تھے۔ ان حقائق کا ذکر ان کی شاعری میں ملتا ہے۔

یہ آج صاحبِ طبل و علم، کا وہ ہے                       ہے اپنے نام کی نوبت ہر اک بجا جاتا

وزیر مہر علی صبا[ترمیم]

ان کا انتقال انتزاعِ اودھ سے ایک دو سال پہلے ہو گیا تھا۔ لکھنوی شیوہ و انداز ہونے کے باوجود انہیں یہ احساس تھا کہ سیاست اور تاریخ کا رخ کیا ؟ اس احساس کو ان کی شاعری میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بلبل کہاں، بہار کہاں، باغباں کہاں                     وہ دن گزر گئے، وہ زمانہ گزر گیا

شاہ کمال[ترمیم]

جرات کے شاگرد تھے۔ ان کا شہر آشوب دہلی اور لکھنؤ دونوں کی حالت کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی حالت تک محدود رکھا ہے۔ شاہ کمال کا یہ شہر آشوب اردو شاعری کا مناسب نقطۂ اختتام ہے کیونکہ اس میں وہ سیاسی بصیرت پوری طرح جلوہ گر ہے جو 1857ء کے بعد کی شاعری کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ایک بند درج ذیل ہے۔

وہی یہ شہر ہے اور وہی یہ ہندوستاں                                 جس کو رشکِ جناں جانتے ہیں سب انساں

فرنگیوں کی سو کثرت سے ہو کے سب ویراں              نظر پڑے ہے بس اب صورتِ فرنگستاں

نہیں سوار ہے یاں سوائے ترک سوار

اردو شاعری اور تحریکِ سید احمد شہید[ترمیم]

اردو شاعری نے جس سیاسی تحریک کی ترجمانی سب سے پہلے کی وہ تحریکِ سید احمد شہید ہے۔ اس تحریک کا آغاز 1817ء میں ہوا۔

حسن[ترمیم]

سید صاحب جب 1824ء میں حج سے واپس آئے تو ان کے معتقد شاعر حسن نے 97 اشعار کا قصیدہ پیش کیا۔ یہ قصیدہ سید صاحب اور ان کے رفقا کی تصویر پیش کرتا ہے۔

سید احمد و عالی حسب و فخر زماں                          رہبرِ راہِ شریعت، خلفِ پیغمبر

مولوی خرم علی بلہوری[ترمیم]

انہوں نے اردو میں ایک منظوم "جہادیہ" لکھا جو محض اور خالصتاً اس تحریک سے متعلق ہے۔ اس میں 175 اشعار ہیں۔

ہند کو اس طرح اسلام سے بھر دے اے شاہ  کہ نہ آوے کوئی آواز جز اللہ اللہ

مولوی سید نصیر الدین دہلوی[ترمیم]

اس تحریک کے ایک مجاہد شاعر ہیں۔ ان کی شاعری تحریک کے مقاصد کے اظہار کے لیے مخصوص تھی۔

وصال فتح پوری[ترمیم]

اسی دور کے شاعر ہیں۔ ان کی غزلوں کے مجموعے میں کئی اشعار اس تحریک سے متعلق ملتے ہیں۔

امام عہد حاضر نے بلایا جس گھڑی ہم کو       اسی لمحہ شہادت گاہ میں ہم نے قدم رکھا

مومن خاں مومن[ترمیم]

اس تحریک کے سب سے اہم شاعر اور پرجوش حامی ہیں۔

عشقیہ شاعری ان کی شاعری اور شخصیت کا ایک پہلو ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ مومن اس تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اپنی شاعری میں پر زور اس تحریک کی حمایت کی۔

مومن کی "مثنوی بمضمون جہاد" خالصتا اس تحریک سے متعلق ہے۔

کرم کر نکال اب یہاں سے مجھے                         ملا دے امام زماں سے مجھے

اس مثنوی کے علاوہ کلیات مومن میں اس تحریک سے متعلق دو تاریخیں بھی ہیں جو خروج مہدی کی تاریخیں ہیں اورمؤمن نے کئی جگہ پر سید احمد کو امام زمان اور مہدی قرار دیا ہے جیسے کہ اوپر کے شعر سے واضح ہے۔

تحریک سے مومن کی اس قدر وابستگی تھی کہ غزلوں میں بھی اس کا اظہار نظر آتا ہے۔

شوقِ بزمِ احمد و ذوقِ شہادت ہے مجھے         جلد مومن لے پہنچ اس مہدیِ دوراں تلک

انتزاعِ سلطنتِ اودھ اور اردو شاعری[ترمیم]

اردو شاعری میں جس طرح انتزاعِ سلطنت سے پہلے لکھنؤ کے ہنگاموں، مجلسی رونقوں اور حسن و زیبائش کے زمزمے ملتے ہیں اسی طرح انتظام سلطنت کے بےشمار نوحے  بھی موجود ہیں جو آج ہمارے کلاسیکی ادب کا حصہ ہیں۔

واجد علی شاہ[ترمیم]

یہ اودھ کا آخری بادشاہ تھا جس کو قید کر لیا گیا۔ اس نے اپنی مثنوی "حزنِ اختر" میں صرف مٹیا برج کے حالات ہی نظم نہیں کیے بلکہ انتزاع سلطنت کو بھی پس منظر کے طور پر شامل کیا ہے۔

خفا کش کا شاہِ اودھ نام ہے               حکومت کا آخر یہ  انجام ہے

یہ مثنوی ان کے حالات کی ترجمان کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے آخری ایام کی خود نوشت سوانح کا درجہ رکھتی ہے۔

صغیر لکھنوی[ترمیم]

واجد علی شاہ کے وفادار ساتھی تھے۔ وہ آخر تک ان کے ساتھ رہے۔ 13 مارچ 1856ء کو جب واجد شاہ نے وادئ غربت میں قدم رکھا تو لکھنؤ اور عوام پر کیا بیتی، اس کو صغیر نے یوں نظم کیا۔

دعا شاہ کو کوئی دینے لگی                   بلائیں کوئی بڑھ کر لینے لگی

صغیر نے بنارس میں واجد علی شاہ کی معزولی و بے چارگی کی کیفیت کو بھی اپنی مثنوی میں قلمبند کیا ہے۔

خواجہ رشد اللہ خان قلق[ترمیم]

انہوں نے واجد علی شاہ کے سفر ( لکھنؤ تا کلکتہ ) کے بارے میں ایک سفر آشوب لکھا ہے جو اپنی شعری لطافت کے اعتبار سے واجد شاہ اور صغیر کی مثنوی سے بلند تر مقام رکھتی ہے۔

اے میرے مجرم بے جرم و خطا میں صدقے

اسی طرح لکھنؤ کے کتنے ہی شعرا نے، جن میں مرزا کو کب، صولت، انیس، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی زیادہ نمایاں ہیں، نے اپنی بزم کے اجڑنے کے ماتم کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ہے بعض نے وضاحت کے ساتھ اور بعض نے ایمائیت کے ساتھ۔

ہو گئے برباد شاہانِ سلیماں منزلت          اب بلائیں ہوں تو کیا، دنیا میں پریاں ہوں تو کیا

1857ء اور اردو شاعری[ترمیم]

1857ء کی جنگ آزادی، بغاوت ہند یا غدر کے پس منظر اور اسباب کی روشنی میں اس دور کے ادب اور شاعری کو سمجھا جاسکتا ہے۔ برطانوی سامراج کے استبداد اور اپنی حفاظت کے پیش نظر ہمارے ادیب اور شاعر اپنے جذبات کے چھپانے پر مجبور ہوئے۔ "فغان دہلی" میں جن شعرا کا کلام شامل ہے ان میں سے بیشتر نے پوربیوں، تلنگوں اور دیسی سپاہیوں کو دہلی کی بدبختی کی وجہ قرار دیا ہے اور برا بھلا کہا ہے لیکن ان شاعروں میں ایکبات قدر مشترک ہے اور وہ ہے شاہ پرستی۔

1857ء کے انقلاب نے شہر آشوب کی روایت کو زندہ کیا جس میں شہر آشوب کے روایتی انداز کے ساتھ ساتھ تمدنی شہر آشوب نے جنم لیا جس کی مثال حالی کا "مرثیہ دہلی" ہے۔ شہر آشوب کے ساتھ ساتھ غزل کے فارم میں بھی شاعروں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

شعرائے دہلی[ترمیم]

بہار شاہ ظفر[ترمیم]

بہت بے کس اور مجبور اور زبوں حال تھے۔ لال قلعے میں بھی مجبور تھے۔ حکومت صرف لال قلعے میں ہی محدود تھی۔ ان کی شاعری سے ہمیں ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر کی ایک مسدس شکوہ روزگار فغان دہلی میں شامل ہے۔ مختلف شہادتوں کی بنا پر 1857ء سے پہلے کا ہے لیکن ان اشعار میں ہمیں کہیں کہیں حقیقت کی ایسی جھلک ملتی ہے کہ یہ اشعار 1857ء کے واقعات پر گہرے تبصرے کی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔

جو آگیا ہے اس محل تیرہ رنگ میں                      قیدِ حیات سے ہے وہ قیدِ فرنگ میں

مرزا اسد اللہ خاں غالب[ترمیم]

غالب کے خطوط1857ء کے واقعات کی مستند دستاویز کا درجہ رکھتے ہیں۔ آزادی سے پہلے ہنگامے کی یک رخی تصویر دکھائی جاتی تھی جس میں انگریز مورخوں نے ہندوستانیوں کے مظالم کی عکاسی کی ہے۔ غالب کے خطوط اور شاعری دوسرے رخ کا درجہ رکھتے ہیں جن میں غالب نے انگریزوں کے مظالم کا ذکر کیا ہے۔

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے                       گھر نمونہ بنا ہے زنداں کا

حسامی[ترمیم]

حسامی نے اپنی شاعری میں 1857ء کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اس نے غالب کے اوپر والے شعر کی تفصیل بیان کردی۔ ان کی مشہور غزل کا ایک شعر دیکھیے:-

کیا رعایائے ہند تباہ ہوئی، کہو ان پہ کیا جفا ہوئی            جسے دیکھا حاکم وقت نے، کہا "یہ قابلِ دار ہے"

ناصر دہلوی[ترمیم]

ان کی شاعری میں بھی 1857ء کے واقعات کا اظہار ملتا ہے۔ نمونے کے طور پر یہ شعر دیکھیے:-

جسے دلی کبھی کہتے تھے اب مقتل ہے یارو    چاندنی چوک میں وہ خونِ مسلماں دیکھا


 غالب، حسامی اور ناصر دہلوی کی طرح جن شاعروں کے گروہ نے انگریزوں اور پوربیوں، دونوں کے مظالم کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے ان میں قربان علی سالک اور مرزا داغ نمایاں شاعر ہیں۔

ظہیر دہلوی[ترمیم]

ان کی کتاب داستان غدر چشم دید حالات پر مشتمل ہے ان کا مسدس جو فغان دہلی میں شامل کیا گیا ہے وہ بھی اسی کتاب کا حصہ ہے وہ ہر فتنے کا سبب باغیوں کو جانتا ہے مسدس کا ایک شعر دیکھیے:-

کہاں سے باغی بے دین آ گئے ہے ہے                    رہنے والے تھے کبھی ہم بھی جہاں آباد کے

"سنبلستان عبرت" ان کے دوسرے دیوان کا نام ہے جو دلی کی یاد اور دلی کی بربادی کے ماتم پر مشتمل ہے۔ تیسرے دیوان کا نام "دفتر خیال" ہے اس میں بھی دلی کی یاد قدم قدم پر ملتی ہے۔

الطاف حسین حالی[ترمیم]

ان کا نوحہ یا مرثیہ "تذکرہ دہلی مرحوم" فغان دہلی میں میں گراں قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تہذیبی مرثیہ ہے اور ایک تہذیب کے اختتام پر  نوحہ گری کرتا ہے۔

تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ    نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز


مذکورہ بالا شعرا کے علاوہ دہلی کے جو شاعر 1857ء کے انقلاب سے متاثر ہوئے ان کی فہرست بہت طویل ہے لیکن جو کچھ پیش کیا جاچکا ہے اس سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

شعرائے لکھنؤ[ترمیم]

شعرائے دہلی کی طرح لکھنؤ کے شعرا بھی 1857ء کے واقعے سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ تو 1856ء کے واقعے کا ماتم ہی منا رہے تھے کہ یہ سانحہ بھی پیش آ گیا۔

میر انیس[ترمیم]

مجموعہ رباعیات انیس میں کی رباعیات ان واقعہ سے تعلق رکھتی ہیں اس مجموعے میں رباعی 282 کا عنوان ہی "انقلابِ ہند" ہے۔

افسوس اس زمانے کا عجب دطور ہوا                      کیوں چرخ کہن آہ نیا دور ہوا

اب یاں سے کہیں اور چلو جلد انیس                    اب یاں کی زمین اور فلک اور ہوا

یاں کی تاویل لکھنؤ سے بھی کی جاسکتی ہے اور ہندوستان سے بھی۔

سحر لکھنوی[ترمیم]

ان کا قصیدہ شہر آشوب مختلف پیشہ وروں کی بے قدری کا حال پیش کرتا ہے۔

میر سادات حسن لکھنوی شرف[ترمیم]

ان کی مثنوی "فسانہ لکھنؤ" میں لکھنؤ کے انتزاع کے ساتھ ساتھ 1857ء کا بڑی تفصیل اور جزئیات کے بیان کے ساتھ ذکر موجود ہے۔

فدا علی عیش[ترمیم]

ان کی تصنیف "فسانہ دلفریب" میں ایک مسدس 1857ء سے متعلق ہے۔

گھر ہیں ویران نئی چرخ کی بیدادی ہے                  نام کو چند محلوں میں کچھ آبادی ہے

امیر مینائی[ترمیم]

57ء کی تباہی میں لکھنؤ میں ہی موجود تھے۔ ان کی شاعری سے ان حالات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

کہاں ہوں گی امیر ایسی ادائیں حور و غلماں کی              رہے گا خلد میں بھی یاد ہم کو لکھنؤ برسوں


نیز مذکورہ بالا شعرا کے علاوہ اس دور کے دیگر شعرا کا کلام بھی ان واقعات کی ترجمانی کرتا ہے جن کا ذکر وجہ طوالت بن سکتا ہے۔ تاہم مذکورہ بالا شعرا ان سب کی شاعری اور دلی کیفیت کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ دہلی اور لکھنؤ کے علاوہ دوسرے علاقے کے شعرا ابھی اس ہنگامے کے اثرات سے نہ بچ سکے۔

مآخذ[ترمیم]

اردو شاعری کا سیاسی و تاریخی پس منظر (1707ء ـــــــــ 1857ء) از  سید محمد ابو الخیر کشفی

  1. اردو شاعری کا سیاسی و تاریخی پس منظر (1707ء ـــــــــ 1857ء) از  سید محمد ابو الخیر کشفی