اظہر حسن زیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی ہندوستان اور پاکستان کے ایک بلند پایہ خطیب اور اہل تشیع کے بہت بڑے محقق اور عالم دین تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آپ کا نام سید محمد اظہر حسن زیدی اور رہبر حسین رکھا گیا تھا، لیکن بچپن میں آپ کو عام طور پر رہبر کہا جاتا تھا۔ آپ 12 دسمبر 1912 کو دریائے گنگا کے کنارے سادات کی بستی رسول پور، ضلع بجنور، یو پی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ بستی رسول پور کو بادشاہان اودھ آصف الدولہ نے آپ کے دادا، پردادا کو بطور جاگیر عطا کیے تھے تاکہ سادات یہاں پر آباد ہو کر کھیتی باڑی کریں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ عزاداری امام حسین ابن علی برپا کریں۔

جب خطیب آل محمد پیدا ہوئے تو مولانا صغیر حسن جو پورے برصغیر میں علمی حوالے سے مشہور و معروف تھے، نے آپکے کان میں اذان کہی تھی اور آپ کو دیکھ کر آپ کے والد گرامی کو کہا کہ آپ کو علم دین کی تعلیم دلوا کر مولوی بنائیں۔ جب مولانا صغیر حسن صاحب نے آپ کا زائچہ نکالا تو کہا کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا زائچہ ہے، آپ وطن میں ہی نہیں بلکہ پردیس میں بھی تکالیف اٹھائیں گے اور عزت بھی پائیں گے۔ جب آپ صرف سوا سال کے تھے تو آپکی والدہ گرامی نے آپکو انیس کا ایک بند سنایا تھا جو آپ نے اسی وقت یاد کر لیا تھا۔ وہ بند یہ تھا۔

عالم میں جو تھے فیض کے دریا وہ کہاں ہیں؟
ہم سب سے جو افضل و اعلی وہ کہاں ہیں؟
جو نور خدا سے ہوئے پیدا وہ کہاں ہیں؟
پیدا ہوئی جن کے لیے دنیا وہ کہاں ہیں؟
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا

شام کو یہ بند مولانا صغیر حسن صاحب کو اور بہت سے افراد کو سنایا اور آپ کی بچپن میں ہی شہرت ہو گئی۔

جب دو سال کے تھے تو تیس فٹ کی بلندی سے گر گئے اور آپ کو سانس کی تکلیف ہو گئی تھی۔

چار سال میں ہی آپ نے انیس، میر، دبیر، غالب اور اسمعیل میرٹھی کے بہت شعر یاد کر لیے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی آپ کو انیس اور دبیر کے شعر انہی کے لہجے میں سناتی تھی اور آپ اسی وقت اسی لہجے میں شعر سنا دیتے تھے۔

بچپن میں آپ کے کان میں ایک ہیرا پڑا رہتا تھا اور گلے میں سونے کی ہنسلی اور کم از کم پچاس تعویز ہوتے تھے۔ کیونکہ آپ بہت منتوں مرادوں سے پیدا ہوئے تھے اور آپ کی والدہ گرامی ہر آٹھویں دن نظر بد سے بچنے کے لیے آپ کی پلکیں کتر کر ان کی دھونی دیتی تھی۔ آپکی پرورش بہت ہی ناز و نعم سے ہوئی تھی۔ آپ باہر بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتے تھے بلکہ گھر میں ہی کھیلتے یا خاموش رہتے تھے۔ جب آپ چار سال چار ماہ اور چار دن کے ہوئے تو آپ کو ایک مولانا کے سامنے بیٹھا دیا گیا اور آپ کی بسم اللہ کروائی گئی۔ بہت بڑے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ آپ کے سامنے قاعدہ رکھا گیا جس میں الف ب لکھی ہوئی تھی وہ آپ نے چار دن میں یاد کر لیا۔ چھ سال میں آپ اردو کی ہر کتاب کو پڑھ سکتے تھے۔

یکم مارچ 1920ء کو 8 جمادی الثانی کے دن سید الفقہاء علامہ سبط نبی صاحب کے سپرد کر دیا گیا جو سادات کی بستی نوگانواں سادات میں رہتے تھے۔ جب آپ وہاں پہنچے تو ایک منشی اور ملازم آپ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے ساتھ تھا، آپ نے سونے کے کام والی مخملی ٹوپی، بہترین لباس، سلیم شاہی جوتا اور چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا۔ آپ کو دیکھ کر علامہ صاحب نے آپ کے والد سے کہا کہ یہاں فقیرانہ ماحول ہے، بوریے پر بیٹھنا اور دال کھانی پڑتی ہے، آپ یہاں نہیں رہ سکیں گے لیکن آپ کے والد نے آپ کو علامہ صاحب کے سپرد کیا اور چلے گئے، رات کو آپ کو بخار ہو گیا۔ لیکن آپ نے علامہ صاحب کے پاس اس بوریے پر بیٹھ کر بارہ 12 سال تعلیم حاصل کی۔ وہاں پر برصغیر کے بہت سے علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے اور آپ چونکہ کمسن تھے تو آپ بڑے طلبہ کے درس کو بھی سنا کرتے تھے۔ پندرہ دن بعد بڑے طلبہ سے استاد نے کہا کہ اب تک جو پڑھا ہے وہ سناؤ، تو کسی کو نہ آیا تو آپ نے کہا کہ آپ سناتے ہیں اور آپ کو سب یاد تھا جو آپ سنتے تھے حالانکہ ان کے معنی آپ کو نہیں آتے تھے۔

تعلیم[ترمیم]

جب آپ یونیورسٹی میں منشی کا امتحان دینے گئے تو آپ کی عمر آٹھ برس تھی جو کم نکلی۔ آپ نے فارم بھرنے والے سے کہا کہ اتنی عمر لکھ دو کہ امتحان دے سکوں۔ جب آپ امتحان دینے امتحانی مرکز میں گئے تو بچپن کی وجہ سے آپ میز پر بیٹھ کر لکھ نہیں پا رہے تھے تو انتظامیہ نے آپ کے لیے علاحدہ انتظام کیا۔ امتحان دے کر آپ گھر آ گئے۔ جب نتیجہ آیا تو آپ اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تھے تو آپ کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی اور آپ کے استاد محترم بہت خوش ہوئے۔ پھر آپ نے 1922ء میں مولوی کا امتحان دیا، اس امتحان میں علامہ سید علی نقی نقن بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے یہ امتحان بھی پاس کر لیا۔

مجالس[ترمیم]

23 دسمبر 1930ء کو آپ ہندوستان سے لاہور پہنچے۔ یہاں امام بارگاہ خواجگان ناروالی میں معراج کے سلسلے میں جلسہ تھا۔ آپ پانچ منٹ شوقیہ منبر پر آئے تھے، پانچ منٹ خطاب کے بعد آپ جانے لگے تو مجمع نے شور مچا دیا کہ ابھی اور ابھی اور، اس طرح آپ پانچ منٹ سے چالیس منٹ تک پڑھتے رہے۔ اور یہ جلسہ آپ کے خطاب پر ختم ہوا، کسی اور کو آپ کے ہوتے ہوئے پڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

1931ء میں آپ نے پانی پت ہندوستان میں مجالس پڑھی اور 1936ء کو دوبارہ آپ لاہور واپس آئے۔ امام بارگاہ خواجگان میں دس تقاریر کیں جو آپ کا تعارف بنیں اور آپ کی ہر جگہ شہرت ہو گئی۔ اس کے بعد آپ زیارات کے لیے عراق چلے گئے اور جس دن واپس آئے اس دن 21 اپریل 1938ء کو علامہ محمد اقبال کا انتقال ہو گیا تھا اور رات کو ظفر علی خان کی زیر صدارت برکت علی ہال میں محمد اقبال کے موضوع پر جلسہ تھا۔ آپ نے تقریر کی، مولانا ظفر علی خان آپ کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے۔ پھر آپ نے پنجاب بھر میں تقاریر کیں۔ ایک چہلم امام حسین علیہ السلام کی مجلس پڑھ کر آپ کہیں سے واپس آ رہے تھے تو امام بارگاہ خواجگان میں چند آدمی فرش پر بیٹھے ہیں اور ایک آدمی سوز پڑھ رہا تھا، پتہ چلا کہ مجلس ہے لیکن ان کے پاس مجلس پڑھنے کے لیے کوئی خطیب نہیں ہے۔ آپ نے کہا کہ آپ مجلس پڑھیں گے۔ اور پھر آپ نے اسی امام بارگاہ خواجگان میں بیس سال عشرہ پڑھا۔

آپ نے الہ آباد کے بعد جامعہ پنجاب کے بھی تمام اوریئنٹل امتحان اعلی درجے میں پاس کیے، اس وقت تمام عربی مدارس میں آپ کی ذہانت کی شہرت ہو گئی تھی، اس کے علاوہ دیگر دینی تعلیم و اصول و فقہ و علم کلام وغیرہ بھی حاصل کیے۔

آپ آقائے سید محمد کاظم شریعتمداری کے حکم سے آیت اللہ سید حسین بروجردی کی تقلید پر قائم تھے۔

جب خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی، سید محسن نقوی کے گھر ڈیرہ غازی خان میں 1966ء میں تشریف لے گئے تو محسن نقوی نے قبلہ زیدی صاحب کو ایک شعر سنایا۔

ہزار تہمتیں دنیا نے بخش دیں مجھ کو
آدمی تھا مگر چپ رہا خدا کی طرح

خطیب آل محمد نے اس شعر پر پورا عشرہ پڑھا تھا۔

مؤثر شخصیات[ترمیم]

اظہر حسن زیدی اپنے دور کے جن شخصیات سے بہت زیادہ متاثر تھے ان میں سرفہرست علامہ ناصر حسین تھے۔ ناصر حسین علم فقہ و علم دینیات کے ماہر تھے۔ ابوالحسن اصفہانی اور بروجردی بھی آپ کے علم کے قائل تھے۔ نجف اشرف میں پانچ چھ سو علما اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ناصر حسین کے کسی مقالے پر صدر المحقیقین کا خطاب لکھ کر بھیجا تھا۔ خطیب آل محمد جب نوجوانی میں اٹھارہ سال کی عمر میں ایران گئے تو آیت اللہ مرعشی نجفی سے ملنے گئے، کچھ باتیں کرنے کے بعد آیت اللہ مرعشی نے خطیب آل محمد کے لیے مسند بچھوا دی۔ ایک کمرے میں چند علمائے کرام بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر کتابوں کے ڈھیر رکھے ہوئے تھے، خطیب آل محمد نے آیت اللہ مرعشی نجفی سے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں جو ناصر حسین نامی شخص کے کچھ مضامین پر ریسرچ ہو رہی ہے۔

سرکار ناصر الملت چوبیس گھنٹے میں صرف ایک گھنٹہ کے لیے ملاقات کرتے تھے، تیئس گھنٹے مصروف رہتے تھے۔ کسی نے ناصر الملت سے پوچھا عقد ام کلثوم کیا ہے۔

سرکار ناصر الملت نے فرمایا :-

خدانخواستہ کفر و اسلام کا کبھی رشتہ نہیں ہوتا، نور و ظلمت میں کبھی تعلق نہیں ہو سکتا۔

سرکار ناصر الملت سولہ سال کے تھے، جب سے اپنے کتب خانے میں جاتے تھے، چھ گھنٹے کتب خانہ میں رہتے تھے، ایک دن ناغہ نہیں کیا، شیعہ، سنی اور ہندو سب آپ کو چلتی پھرتی لائبریری کہا کرتے تھے۔ 76 برس کے تھے جب سرکار ناصر الملت فوت ہوئے۔ جب ﻋﻼﻣﮧ ﺭﺷﯿﺪ ﺗﺮﺍﺑﯽ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ، ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻇﮩﺮ ﺣﺴﻦ ﺯﯾﺪﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﻏﺎ شورش کاشمیری ﺻﺎﺣﺐ نے خطیب آل محمد ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﻭ، ﺁﺝ ﮨﯿﮟ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻡ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ۔

خطیب آل محمد امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے جونئیر نائب صدر بھی تھے۔ سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی نظریاتی کونسل میں خطیب آل محمد کو اہل تشیع کی طرف سے نامزد کیا تھا جبکہ اس سے پہلے مفتی جعفر حسین رکن تھے۔


علامہ  اظہر حسن زیدی  پاکستان بھر کے شیعیان علی میں انتہائی عزت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔10 فروری 1984 کو اسد آباد دینہ جہلم میں منعقد ہونے والے  پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے شیعہ اجتماع ' آل پاکستان شیعہ کنونشن' کی صدارت علامہ اظہر حسن زیدی نے فرمائی تھی ۔ جس میں پاکستان بھر سے  علمائے کرام ، ذاکرین ، واعظین ، ماتمی عزادار، دانشور اور سرکردہ شخصیات شریک ہوئیں ۔ اس کنونش میں آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو قائد ملت جعفریہ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا سربراہ منتخب کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی 10 دسمبر 1986 کو لاہور میں وفات پا گئے۔ آپ کو کربلا گامے شاہ لاہور میں دفن کیا گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب مجالس زیدی