خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ
(ہسپانوی میں: خليفة بن سلمان آل خليفة ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Khalifa ibn Salman Al Khalifa.jpg 

مناصب
وزیر اعظم بحرین (1 )   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
10 جنوری 1970 
معلومات شخصیت
پیدائش 24 نومبر 1935 (84 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جسرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Bahrain.svg بحرین  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 4   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد سلمان بن حمد آل‌ خلیفہ  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان آل خلیفہ  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Legion Honneur GO ribbon.svg گرینڈ آفیسر آف دی لیجن آف آنر
ESP Isabella Catholic Order GC.svg گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف اسابیلا دی کیتھولک  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیخ خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ اور مرحوم اٹل بہاری واجپائی، 13 جنوری 2004ء۔

خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ (عربی: خليفة بن سلمان آل خليفة) ایک بحرینی سیاست دان جو سنہ 1970ء سے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آزادیِ بحرین سے تقریباً دو سال پہلے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے سے موجودہ وزیر اعظم ہیں۔ وہ اب تک اپنے عہدے پر فائز ہیں، لیکن 2002ء کے آئین کے بعد سے وہ اپنی کچھ طاقتیں کھو چکے ہیں، اب بادشاہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزرا (پوری بحرینی پارلیمان کو بھی) کو مقرر اور برخاست کر سکتا ہے۔ وہ بحرین کے موجودہ بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے چچا ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

شہزادہ خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کی پیدائش 24 نومبر 1935ء کو جسرہ، بحرین میں ہوئی۔ ان کے والد سلمان بن حمد آل خلیفہ اور والدہ موزہ بنت حمد آل خلیفہ تھیں۔[1] انہوں نے ابتدائی تعلیم بحریں میں منامہ ہائی اسکول اور رفاع پیلس اسکول سے حاصل کی۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

شہزادہ خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ ایجوکیشن کونسل کے سنہ 1956ء سے سنہ 1957ء تک رکن اور سنہ 1957ء سے سنہ 1960ء تک چیئرمین رہے۔ بعد میں وہ شعبہ خزانہ کے ڈائریکٹر (1960ء–1966ء)، بجلی بورڈ کے صدر (1961ء)، بلدیہ منامہ کے چیئرمین (1962ء–1967ء)، بحرین مالیاتی کونسل (1965ء)، مشترکہ کمیٹی برائے مطالعہ اقتصادیات و مالیات، کمیٹی فار دی رجسٹر آف کامرس، انتظامی کونسل کے چیئرمین (1967ء–1970ء)، بحرین مالیاتی ایجنسی، ریاستی کونسل کے صدر (1970ء–1973ء)، ریاستی کونسل کے سربراہ (1970ء)، مجلس دفاع اعلیٰ کے سربراہ (1978ء) رہے۔

شہزادہ خلیفہ کو ان کے بھائی امیر عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ نے سنہ 1971ء میں وزیر اعظم بحرین مقرر کیا۔ اسی لیے انہیں حکومت اور معیشت کا کنٹرول سونپا گیا، لیکن ان کے بھائی امیر عیسیٰ سفارتی اور تقریباتی امور میں شامل ہوتے تھے۔[2]

نظریات[ترمیم]

سنہ 2011ء میں نامہ نگار بِل لا نے بتایا کہ شہزادہ خلیفہ بہت سخت ہیں، جبکہ ولی عہد شہزادہ سلمان اصلاح پسند اور بادشاہ کہیں نہ کہیں ان دونوں کے بیچ میں ہیں۔[3]

نجی زندگی[ترمیم]

شہزادہ خلیفہ نے اپنی کزن شیخہ حصہ بنت علی آل خلیفہ، علی بن حمد آل خلیفہ کی چوتھی بیٹی سے[4] محرق میں شادی کی تھی۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kingdom of Bahrain Ministry of Foreign Affairs۔ "H.R.H. the Prime Minister"۔ www.mofa.gov.bh (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مارچ 2017۔
  2. رائٹ، اسٹیون (2008). "Fixing the Kingdom: Political Evolution and Socio-Economic Challenges in Bahrain". سی آئی آر ایس. http://qspace.qu.edu.qa/bitstream/handle/10576/10759/No_3_Fixing_the_Kingdom.pdf?sequence=1۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 اپریل 2013. 
  3. بل لا (16 مارچ 2011)۔ "Splits inside Bahrain's ruling al-Khalifah family"۔ بی بی سی۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2013۔
  4. "bahrain9"۔ www.royalark.net (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مارچ 2017۔