سپینوزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سپینوزا
(عبرانی میں: ברוך שפינוזה)،(لاطینی میں: Benedictus de Spinozaخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Spinoza.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 نومبر 1632[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ایمسٹرڈیم[5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 فروری 1677 (45 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ہیگ[7][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Statenvlag.svg ڈچ جمہوریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی،مترجم،مترجم بائبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی_زبان لاطینی زبان[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر رینے دیکارت،بارامانیاس،موسیٰ بن میمون،نکولو مکیاویلی،ابن طفیل،گیوردانو برونو،فرانسس بیکن،ابن رشد،دی مقراطیس،ابن سینا،افلاطون،ارسطو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
تحریک عقلیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر

باروخ اسپینوزا (1632–1677) سترھویں صدی کا ایک ممتاز ولندیزی فلسفی تھا۔ اسکا پورا نام بارخ سپینوزا تھا۔ اسکے آباؤ اجداد یہودی تھے وہ اندلس سے ترک وطن کر کے ہالینڈ آئے تھے۔

سپینوزا عقلیت پسند تھا۔ اسکے نزدیک خدا اور فطرت کے قوانین ایک ہی چیز ہیں۔ اخلاقیات (Ethics) اس کی اہم تصنیف ہے۔

اسپینوزا کی تشکیل[ترمیم]

اندلس میں بنو امیہ کا دور علم دوستی اور رواداری کی روشن مثال تھا۔ ان کا دارالحکومت قرطبہ 10 ویں اور11 ویں صدی میں دنیا کا ایک بڑا ثقافتی اور تخلیقی مرکز تھا۔ قرطبہ نے جو بڑی شخصیات پیدا کیں ان میں فلسفے میں اہم ترین نام ابن رشد ہے۔ بد قسمتی سے ابن رشد کے عہد سے پہلے ہی علم دوست بنو امیہ کا اقتدار اندلس سے ختم ہو چکا تھا چنانچہ ابن رشد کو اپنے نظریات کی بنا پر بہت دکھ اٹھانے پڑے لیکن ابن رشد کے فلسفے کو قرطبہ میں موجود یہودیوں نے جذب کر لیا اور اسے محفوظ کیا۔ 1492 میں اندلس میں مسلم اقتدار کا سورج غروب ہوتے ہی ہسپانوی احتساب (Spanish Inquisition) نے یہودیوں کو اسپین سے جلا وطن کر دیا۔ ان میں سے کچھ یہودی نیدر لینڈ پہنچتے ہیں۔ (ہالینڈ نیدر لینڈ کے ایک صوبے کا نام ہے) سپینوزا کا تعلق انہیں یہودیوں سے تھا اور یہ ابن رشد کے تصوریات اپنے ساتھ لے کر آۓ تھے یوں بنو امیہ کی لگائی ہوئی علم کی شمع جسے قرطبہ میں گل کر دیا گیا تھا نیدرلینڈ میں دوبارہ روشنی دینے لگی اور پھر سپینوزا کی شکل میں اسنے پورے یورپی فلسفے کو متاثر کیا۔

اگر بائیں طرف والی سپینوزا کی تصویر کی طرف دیکھیں اسکا گہرا رنگ گھنگریالے بال اور ناک اسکے اندلس اور افریقی روابط کو ظاہر کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 Baruch de Spinoza
  3. ^ 3.0 3.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6v129sq — بنام: Baruch Spinoza — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ 4.0 4.1 NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/baruch-spinoza — بنام: Baruch Spinoza — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  6. ^ 6.0 6.1 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — شائع سوم — باب: Спиноза Бенедикт — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  7. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11925350v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ