قائد اعظم اکیڈمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قائد اعظم اکیڈمی
Quaid-i-Azam Academy
تشکیل نومبر 9، 1976؛ خطا: پہلا پیرامیٹر وقت یا تاریخ کے طور پر پارس نہیں ہو سکا۔ (1976-ایرر: غلط وقت۔-09)
قسم علمی و تحقیقی ادارہ
مقصد قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و افکار پر کیے جانے والے تحقیقی کاموں کی نشر و اشاعت
صدر دفتر 279، ایم اے جناح روڈ، کراچی
مقام کراچی
علاقہ خدمت
پاکستان
سرکاری زبان
اردو، انگریزی
ڈائریکٹر
خواجہ رضی حیدر
اہم عضو
بورڈ آف گورنرز
بنیادی تنظیم
قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات

قائد اعظم اکیڈمی پاکستان کا ایک علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی و افکار پر تحقیقی مواد کی اشاعت ہے۔

قیام / اغراض و مقاصد[ترمیم]

6 نومبر، 1975ء کو قائد اعظم کے صد سالہ جشنِ پیدائش کے موقع پر تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے ایک ایسا خود مختار ادارہ بنائے جانے کی تجویز پیش کی تھی جو قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، ان کے کارناموں اور ان کے افکار و خیالات پر کیے جانے والے تحقیقی کاموں کی نشر و اشاعت کی ذمہ دار ہو۔ اس تجویز کی روشنی میں 25 دسمبر، 1975ء کو وزیر تعلیم عبد الحفیظ پیرزادہ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں قائد اعظم اکیڈمی کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اکیڈمی کا انتظام ایک بورڈ آف گورنرز سنبھالے گا اور وزیرِ تعلیم اس کے سربراہ ہوں گے۔[1]

9 جنوری، 1976ء کو قائد اعظم اکیڈمی کا قیام باقاعدہ طور پر عمل میں آگیا اور جامعہ کراچی کے شعبۂ صحافت کے سربراہ پروفیسر شریف المجاہد کو اس اکیڈمی کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا۔ 28 جنوری، 1976ء کو اس اکیڈمی کو خود مختار ادارے کا درجہ دے دیا گیا۔ ابتدا میں ا س اکیڈمی کو پاکستان سیکریٹریٹ کے ایک بلاک میں قائم کیا گیا مگر نومبر 1979ء میں اسے قائد اعظم کے مزار کے سامنے والے بنگلے میں منتقل کر دیا گیا۔[1]

لائبریری[ترمیم]

قائد اعظم اکیڈمی نے دس ہزار سے زیادہ کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری قائم کی ہے جس سے قائد اعظم کی زندگی کے مخلف پہلوؤں پر ریسرچ کرنے والے افراد استفادہ کرتے ہیں۔[1]

اشاعت[ترمیم]

قائد اعظم اکیڈمی قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور ان کے افکار پر انگریزی، اردو، سندھی زبانوں میں سو سے زیادہ کتابیں شائع کر چکا ہے، جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:[1]

  • میرا بھائی
  • ملت کا پاسبان
  • قائدعظم کے آخری ایام
  • قائد اعظم: حیات و خدمات
  • تشکیل پاکستان
  • قراردادِ پاکستان
  • شاہراہِ آزادی انڈیا ایکٹ 1935ء پس منظر، عوامل اور تجزیہ
  • قائد اعظم مسلم پریس کی نظر
  • علامہ اقبال
  • راجا صاحب محمود آباد حیات و خدمات
  • آل انڈیا مسلم لیگ: نتظیم نو اور سیاسی ارتقا
  • تحریک خلافت
  • قائد اعظم محمد علی جناح: روز و شب کا تاریخ وار اشاریہ
  • قائد اعظم: اردو ادیبوں کی نظر میں
  • ارشادات قائد اعظم
  • تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار
  • تحریک پاکستان میں طلبہ کا کردار
  • قائد اعظم محمد علی جناح: توضیحی کتابیات
  • تحریک پاکستان: پس منظر و تجزیہ
  • With the Quaid-i-Azam during his Last Days
  • My Brother
  • Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah studies in Interpretation
  • Quaid-i-Azam: A Chronology
  • Quaid-i-Azam: Speeches
  • M. A. Jinnah Leadrship Pattern
  • Quaid-e-Azam and his times: A Compendium
  • Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah: An Annotated Bibliography
  • Allama iqbal , poet-philosopher of the east
  • The Nation's Voice

سربراہان[ترمیم]

اس ادارے میں پروفیسر شریف المجاہد، ڈاکٹر یعقوب مغل اور ڈاکٹر شہلا کاظمی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت خواجہ رضی حیدر اس ادارے کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 419، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء