ملحدانہ نسوانیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملحدانہ نسوانیت (انگریزی: Atheist feminism) نسوانیت کی وہ شاخ ہے جو متصلًا الحاد کی بھی وکالت کرتی ہے۔ ملحدانہ نسوانیت پسند یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مذہب خواتین پر ظلم و ستم اور عدم مساوات کا اہم ماخذ ہے۔ یہ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بیش تر مذاہب جنسی امتیاز کے حامی اور عورتوں کے لیے ظالمانہ رخ رکھتے ہیں۔[1]

اس کے ساتھ ساتھ ملحدانہ نسوانیت ملحدانہ آبادی میں ہی رائج جنسی امتیاز کی مخالفت کرتی ہے۔ مثلًا وکٹوریہ بیکیئیمپیس (Victoria Bekiempis) نے دی گارڈین میں لکھا ہے:

مگر دیگر ملحدانہ نسوانیت پسند اپنے خود کے اس تجزیے سے متعلق بے پروا ہیں کہ الحاد اپنے پیرو کاروں کے جنسی خیالات کا آئینہ دار نہیں ہے۔ این لوری گیلور (Annie Laurie Gaylor)، جس نے اپنی ماں این نیکول گیلور کے ساتھ مل کر 1978ء میں فریڈم فرام ریلیجن فاؤنڈیشن قائم کیا تھا، اس بات کو مجوعی طور پر "ایک لفظی جنسی امتیاز" مختصرًا بیان کرتی ہے۔ گیلور کے شوہر ڈین بارکر (Dan Barker) جو اس تنظیم کو ان کے ساتھ چلاتے ہیں، ہی وہ شخص ہیں جنہیں تقریری مواقع پر بلایا جاتا ہے، حالاں کہ اہلیہ زیادہ عرصے تک تنظیمی قائد رہ چکی ہیں اور وہ الحاد پر متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی رہ چکی ہیں۔[2]

ملحد سیکیوو ہچینسن نے ڈیوڈ سیلورمین کے ایتھیئیسٹ الائنس انٹرنیشنل کی جانب سے خدمات پر مامور کرنے کے بارے میں کہا ہے:

ایتھیئیسٹ الائنس انٹرنیشنل کی جانب سے امریکی ملحدوں کے سابق قائد ڈیوڈ سیلورمین کو خدمات پر مامور کرنا ایک اور اشارہ ہے کہ یہ ایک حسب معمول باز آباد کاری کی حکمت عملی ہے جو الحاد کی تحریک پر بھی چسپاں ہو سکتی ہے، جو کارپوریٹ امریکا کی طرح رشوت پر مبنی، کفش برداری سے متاثر اور حد سے زیادہ خواتین کے مخالف ہے۔[3]


مذاہب عالم کے نقطہ نظر[ترمیم]

اسلام[ترمیم]

مسلمان علما کے مطابق اسلام آرائش کا حکم دیتا ہے، نما ئش کا نہیں۔ جبکہ مو جودہ معا شرے میں اظہار حسن و جما ل کی خوا ہش نے آج کی عورت کے ذہنوں پر تسلط جما کر اسے بے حیائی میں مبتلا کر دیا ہے کہیں فن کے نام پر، کہیں ترقی کے نام پر، کہیں آرٹ کے نام پر، اور عورت کی نہ صرف شرف نسوانیت پامال کی ہے بلکہ مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں گھسیٹ کرمسلم خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ کسی بھی معا شرے یا ریاست کی تعمیر میں خاندان ریڑھ کی ہڈی ہے مظبوط و مستحکم خاندان قوی معا شرے کی بنیادی اکائی ہے آزادی نسواں کی آڑ میں بے حجابی کے فروغ نے موجودہ ملحدانہ اور لا دینی نظام پر مبنی معا شر ہ قا ئم کر کے عورت کی تحقیر و تذلیل کی ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک زوال پذیر نہیں ہو تی جب تک اس کی عورتیں زیور حیاء سے مزین اور مرد شمشیر غیرت سے مسلح ہوں۔ ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے، حجاب حکم الہی ہے اور بد کاری و بد نظری سے بچاتا ہے۔

ہندومت[ترمیم]

مسیحیت[ترمیم]

یہودیت[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Does God Hate Women?". New Statesman. doi:ڈی او ئي. http://www.newstatesman.com/books/2009/07/women-god-stangroom-benson۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-07-26. 
  2. [Why the New Atheism is a boys' club] by Victoria Bekiempis, دی گارڈین, Mon 26 Sep 2011 09.30 EDT, First published on Mon 26 Sep 2011 09.30 EDT
  3. Hiring of Accused Atheist Leader Is Reminder That #MeToo Is Still Needed in Organized Atheism آرکائیو شدہ 2019-12-08 بذریعہ وے بیک مشین by Sikivu Hutchinson, Rewire.News