خواتین کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواتین کی تاریخ، عورتوں کی تاریخ یا تاریخ کا نسوانی مطالعہ دراصل تاریخ کے مطالعے کا وہ پہلو اور وہ شاخ ہے جو خواتین کے بارے، ان کے صفحات تاریخ کے ظاہری پس پردہ کرداروں، ان کے سماج حاصل مقام اور حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوکوں کا مطالعہ ہے۔ اسی تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں کئی خواتین قائدانہ کردار نبھا چکی ہیں۔ ان میں کچھ خواتین کی مثالیں رضیہ سلطان، چاند بی بی، رانی لکشمی بائی، ملکہ وکٹوریہ، ملکہ ایلیزبیتھ اول اور ملکہ ایلیزبیتھ دوم رہے۔ کچھ خواتین اگر چیکہ خود فیصلہ سازی نہیں کرتی تھیں، مگر اپنے شوہر یا کسی رشتے دار سے اپنے کام کرواتی تھی۔ کچھ ملکاؤں کا ظاہری یا باطنی کردار نامعلوم ہوتا مگر ایک بادشاہ کے پاس ان کی کیا حیثیٹ رہی ہو گی، یہ کچھ حالات سے ظاہر ہوتا ہے۔ مثلًا مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کے گزر جانے کے بعد تاریخی تاج محل بنوایا جو آج بھی اپنی خوبصورتی اور شان و شوکت کے لیے مشہور ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے سماجی رجحانوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کچھ سماجوں میں، جیسے کہ عرب سماج میں اکثر ازواج ایک عام بات رہی ہے۔ یہ اسلام سے پہلے بھی تھا اور اس کے بعد بھی۔ ہندوستان میں ابتدائی ویدی دور میں صرف ایک شادی سماج میں قابل قبول تھی۔ مگر بعد کے ویدی دور سے تعدد ازواج کی گنجائش دیکھی گئی۔ مسیحی دنیا میں گرجا کے ارباب مجاز نے تعدد ازواج کو کافی پہلے سے ممنوع قرار دیا ہے۔ تاہم دنیا میں تقریبًا ہر دور میں حکمرانوں کی کئی بیویاں رہی ہیں۔ ان میں جو سب سے خاص ہوا کرتی تھی، اسے محل خاص کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بادشاہوں کے حرم ہوا کرتے تھے جن میں کثرت سے باندیاں رہتی تھیں۔ باندیوں کا درجہ کبھی بھی ملکہ کے مساوی نہیں ہوا کرتا تھا۔ نہ ہی باندی سے پیدا ہونے والی اولاد کو پوری طرح سے شاہی خون تسلیم کیا جاتا تھا۔ قدیم یونانیوں کے دور سے جنگوں میں ہارنے والے مفتوحہ لوگوں کی عورتوں کے سلوک ایک موضوع بحث رہا ہے۔ کچھ جگہوں پر ان کے ساتھ ریادتیاں کی جاتی تھی اور کچھ جگہوں پر انہیں باندیاں بھی بنایا جاتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے کئی فوجیوں نے کوریائی خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس بات کے لیے ہر جاپانی وزیر اعظم آج کے دور میں بھی جنوبی کوریا سے معذرت چاہتے رہتا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ کی اوراق پر عورتوں نے کئی نمایاں کام بھی کیے تھے جن کے لیے انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی مشہور ریاضی دان خاتون لیلاوتی کو اپنی ریاضیاتی اور سائنسی مہارت کے لیے یاد کیا جاتا ہے اور اسی طرح سے کئی دنیا کی اور خواتین کو یاد کیا جاتا ہے۔ حقوق نسواں بھی ایک اہم تاریخی موضوع ہے اور اس کا مطالعہ بھی تاریخی کتب کا اہم حصہ ہے۔

نسائیت کی تاریخ[ترمیم]

مزید دیکھیے: نسائیت

مغربی دنیا میں حقوق نسواں کی تحریک انیسویں صدی میں فرانسیسی سرزمین سے شروع ہوئی، جسے Feminism یا ’نسائیت‘ کا نام دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد خواتین کو سماجی حقوق کے ساتھ ساتھ خواتین کے حق رائے دہی استعمال کرنے یعنی ووٹ ڈالنے کا حق دلوانا تھا۔ نسائیت کی تحریک کے مقاصد میں عورتوں کے لیے حقِ رائے دہی، مساوات، عورتوں کی ضروریات، حق وراثت، آزادیٴ رائے، خود کفالت اور آزاد خیالی کے ساتھ ساتھ خانگی ایذا یا گھریلو تشدد اور آبروریزی سے تحفظ وغیرہ بھی شامل ہیں۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]