میر محمد سومرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میر محمد سومرو
معلومات شخصیت
پیدائش 3 جون 1946 (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہنگورجا،  سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  مؤرخ،  مفسر قرآن،  سوانح نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی،  اردو،  فارسی،  عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تفسیر قرآن،  فقہ،  سوانح،  سندھ کی تاریخ  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

میر محمد سومرو (پیدائش 3 جون 1946ء) سندھ سے تعلق رکھنے والے بقید حیات پاکستانی شاعر، مورخ، مفسرِ قرآن، عالم دین، محقق، معلم اور سوانح نگار ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

میر محمد سومرو 3 جون 1946ء کو ہنگورجہ ضلع خیرپور ، صوبہ سندھ میں مولانا اللہ بخش سومرو کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مذاہب عالم اور اسلامی ثقافت میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں مولوی فاضل (عربی) اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ماتحت ادارے دعوۃ اکیڈمی سے خطیب کا مراسلاتی کورس پاس کیا۔ ملازمت کی ابتدا 1966ء کو پرائمری اسکول ٹیچر کی حیثیت سے کی۔ 1985ء میں این اے بلوچ ماڈل اسکول، سندھ یونیورسٹی حیدرآباد، سندھ میں لیکچرر مقرر ہوئے، جہاں 2006ء تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

میر محمد سومرو کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی تفسیر تفسیرِ ریاض القرآن ہے جو آپ نے سندھی زبان میں تحریر کی ہے۔ دیگر تصانیف میں ھالۃ البدر فی تحقیق احکام السفر (عربی)، دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف (اُردو) اور تاریخ ہنگورجا (سندھی) قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کی عربی، فارسی، سندھی اور اُردو زبان میں تصنیف، تالیف و مضامین کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب انسائیکلوپیڈیا سندھیانا (سندھی) جلد ہشتم، سندھی لینگویج اتھارٹی حیدرآباد، سندھ، ص 218