کارلوس فوینتیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کارلوس فوینتیس
(ہسپانوی میں: Carlos Fuentes ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Carlos Fuentes, Paris - Mar 2009 (11).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 نومبر 1928[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاناما شہر[8]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 مئی 2012 (84 سال)[4][1][3][5][6][7][9]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میکسیکو شہر[10]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات مرض نظام قلب و عروقی  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن پیرس[11]  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Mexico.svg میکسیکو
Flag of Panama.svg پاناما  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف[12]، منظر نویس، سفارت کار، ناول نگار، وکیل، صحافی، نثر نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہسپانوی[3]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت براؤن یونیورسٹی، جامعہ پرنسٹن، ہارورڈ یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، جامعہ پنسلوانیا  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ESP Isabella Catholic Order GC.svg گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف اسابیلا دی کیتھولک (2009)
سروانتیس ادبی انعام (1987)  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Firma de Carlos Fuentes.jpg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

کارلوس فوینتیس اس آڈیو کے متعلق تلفظ سنیں (پیدائش : 11 نومبر 1928ء - وفات: 15 مئی 2012ء) لاطینی امریکہ کے ملک میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی زبان کے ناول نگار، مضمون نگار اور سفارت کار تھے۔ اخبار دی گارجین کے مطابق میکسیکو کے مشہور ترین ناول نگار ہیں۔ آرتیمیوز کی موت 1962ء، تیرانوسترا 1975ء، بوڑھا گرینگو 1985ء جیسے لازوال ناولوں کے مصنف، ہسپانوی زبان کا سب سے بڑا ادبی انعام سروانتیس ادبی انعام یافتہ مصنف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

کارلوس فوینتیس 11 نومبر 1928ء کو لاطینی امریکہ میں واقع پاناما شہر، پاناما میں پیدا ہوئے۔[13] جہاں ان کے والد سفارت کار تھے۔ اس کا بچپن سانتیاگو، بیونس آئرس اور واشنگٹن میں گزرا۔ واشنگٹن میں اسے اپنے ملک کی تقدیر اور اس وابستگی کا احساس جس طریقے سے ہوا، اس کا پُرلطف حال اس نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سنیما میں ایک فلم دیکھتے ہوئے جب نو عمر کارلوس نے میکسکو کے قومی ہیرو کو پردۂ سیمیں پر امریکیوں کے ہاتھ زچ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنی نشست سے کھڑا ہوکر نعرے لگانے لگا۔ دنیا قوم پرستی کے ایسے عالی شان مظاہرے پسند نہیں کرتی۔ اسے فوراً سنیما ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ فوینتیس نے جنیوا سے قانون میں ڈگری حاصل کی[14]

ملازمت[ترمیم]

50ء کی دہائی میں اپنے ملک واپس آ گیا۔ اور محکمہ خارجہ میں ملازمت کرلی۔ وزارت خارجہ میں ثقافتی امور کے شعبے کا سربراہ بھی رہا اور کچھ عرصے فرانس میں میکسیکو کے سفیر کے طور پر خدمات بھی انجام دیں۔ فوینتیس کی ادبی شہرت نے اسے ایک عالم گیر شخصیت بنا دیا۔ وہ کئی ایک بین الاقوامی فلمی میلوں میں منصف رہا۔ اس نے لاطینی امریکہ کی ثقافت پر تعلیمی ٹیلی وژن کے پروگراموں میں شرکت کی اور مختلف اخبارات و رسائل کے لیے لکھتا رہا۔ فوینتیس نے مختلف امریکی یونیورسٹیوں میں تاریخ اور ادبیات پر لیکچرز بھی دیے ہیں۔ آخری برسوں میں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں "لاطینی امریکی دراسات" کا رابرٹ ایف کینیڈی پروفیسر رہے[14]۔

ادبی خدمات[ترمیم]

فوینتیس نے ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری اور صحافت سے کیا۔ 1954ء میں اس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ نقاب پوش ایام کے نام سے شائع ہوا۔ کافکا سے گہرا اثر قبول کرنے والی ان کہانیوں میں میکسیکو کی شناخت کے اس مسئلے کو افسانوی واردات کے اندر تلاش اور دریافت کے مرحلوں سے گزارا گیا ہے، جن کی نشان دہی اوکٹاویو پاز نے اپنے طویل مضمون تنہائی کی بھول بھلیاں میں کی تھی۔ فوینتیس کا پہلا ناول جہاں ہوا صاف شفاف ہے 1958ء میں شائع ہوا۔ جدید اسالیب اور سنیما کی تکنیک سے کام لئتے ہوئے مصنف نے میکسیکو کے اس ماضی قدیم تک رسائی حاصل ی ہے جو جدید انقلاب، کولبس کی دریافت او نو آبادیاتی زمانوں سے پہلے موجود تھا۔ وقت کا یہ سفر، شدید پیکار اور بے پناہ تشدد میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس ناول کو ایسا مکاشفاتی فریسکو قرار دیا گیا ہے جس میں جینس دیوتا کی طرح میکسیکو شہر کے بھی دو چہرے ہیں، ایک چہرہ معاصر جدید شہر کا ہے جس کی چمک دمک میں تباہی کے آثار ہیں اور دوسرا چہرہ اس خطرناک ماضی کا ہے کہ جسے پوری طرح سمجھا گیا ہے نہ جس کی تکالیف کا ازالہ ہوا ہے۔ 1962ء میں فوینتیس کا ایک اہم ناول آرتیمیو کروز کی موت شائع ہوا۔ قریب المرگ فاتح کے منتشر شعور سے میکسیکو کے انقلاب کا احوال اور دوسرے پوشیدہ 'خزانے' یوں حاصل ہوتے ہیں جیسے زیر زمین کان کی کھدائی کے دوران نکل کر سامنے آ رہے ہوں۔ ناول کا تند و تلخ سیاسی مواد، انتہائی ہنر مندانہ فنی تکنیک کے ساتھ اس طرح وابستہ و پیوستہ ہے کہ ان دونوں عناصر کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 1962ء میں ہی فیونتیس کا مختصر ناول Aura اورا شائع ہوا جسے ہنری جیمز کو خراجِ تحسین سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کے افسانوی تانے بانے میں ہنری جیمز کے "دی ایسپن پیپرز" اور بعض دوسری طویل کہانیوں کے اتباع میں ایسا مرصع افسانہ تخلیق کیا گیا ہے جس کے باطن میں محکم جنسیت کا نا آسودہ آسیب گھوم رہا ہے، فوینتیس کے طلسم کدے کا یہ آسیب میکسیکو کی تاریخ سے نکل کر آیا ہے۔ اس مختصر ناول کو سراہتے ہوئے ایک ناقد نے اسے زہر میں ڈوبا ہوا جواہرپارہ قرار دیا۔ لاطینی امریکہ کے نقادوں اس کتاب کو "مغربی نصف کرے میں لکھی جانے والی حسین ترین اور توانا کہانیوں میں سے ایک" قرار دیا۔ انگریزی میں پہلی بار اس کتاب کا ترجمہ ہوا تو ایک مبصر نے لکھا کہ اس کو ختم کرلینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک مکمل تجربے سے گزرے ہیں، ایک خوب صورت ڈراؤنی کہانی، حسن کی ڈراؤنی کہانی، جو ایڈگرایلن پو، بودیلیئر اور ایزاک ڈینیس کا امتزاج ہے۔[14]

فوینتیس کے افسانوں کا ایک مجموعہ نابیناؤں کے گیت 1964ء میں شائع ہوا اور ایک طویل افسانہ سالگرہ 1969ء میں، جو بعض معنوں میں ہالہ سے ایک گونہ قربت رکھتا ہے کہ اس میں وقت اور انفرادی شناخت کے جاں گداز مرحلے سامنے آتے ہیں۔ اس سے پہلے 1967ء میں دو ناول کھال کی تبدیلی اور مقامِ مقدس شائع ہوئے جن پر بعض نقادوں نے اعتراض کیا کہ ابتدائی دور کی کتابوں میں جدید اسالیب کے استعمال کی بجائے واقعیت پسندی ناولوں کی بنیاد تھی لیکن ان کتابوں میں ایک خود مکتفی رویائی اسلوب حاوی ہو گیا ہے۔ فوینتیس کی ادبی زندگی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت اس کے طویل ترین ناول تیرا نوسترا (Terra Nostra) کو حاصل ہے جو 1975ء میں شائع ہوا۔ رزمیے کے سے شکوہ اور حجم والا یہ ناول لاطینی امریکہ کی تقدیر کے بارے میں مصنف کی فکر کا مفصل افسانوی اظہار بھی ہے۔ زندگی کے حجم سے بڑا نظر آنے والا، تہ دار، آئینہ بکف اور آتش بداماں، کرداروں کی وہ ریل پیل کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے اور کردار صفحے پر سے چھلکے پڑتے ہیں، بھول بھلیاں کی طرح چکر دار اور بحرِزخار کی طرح مواج یہ ناول، جس کی جڑیں تاریخ اور دیومالا تک اُتری ہوئی ہیں، لاطینی امریکی ادب کا نمائندہ سمجھا جا سکتا ہے۔ جس طرح دوستوفسکی اور ٹالسٹائی کے ناول انیسویں صدی کے افسانوی ادب کی پیش رفت کی مثال تھے اور مغربی تہذیب کی سرحد سے اُبھر کر اس طرح شامنے آئے تھے کہ مرکزی دھارے کا رخ پلٹ دیا تھا۔ ایسے ضخیم اور حجیم ناول کے بعد فوینتیس نے تین برس کے بعد ایک جاسوسی ناول لکھ کراپنے نقادوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ 1981ء میں افسانوں کا مجموعہ آبِ سوختہ سامنے آیا جس میں بیش تر افسانوں کا موضوع میکسیکو کی پُر تشدد سیاست کے پیش منظر مین خاندانی تعلقات اور میراث ہے۔ اس مجموعے کے مختصر دیباچے میں فوینتیس نے لکھا ہے:

میکسیکو سٹی کے وسط میں، ایک خیالی اپارٹمنٹ کا مالک ہوں۔ اس کی چھت (پینٹ ہاؤس)پر ایک پرانے انقلابی کا قبضہ ہے جو اب منافع خور بن گیا ہے۔ جس کا نام آرتیمیوکروز ہے۔ اس کے تہ خانے میں ایک آسیبی ساحرہ ہالہ رہتی ہے۔ درمیان کی گیارہ منزلوں پر آپ کو ان کہانیوں کے کردار ملیں گے۔ درست ہے کہ ان میں سے بعض بھاگ کر دیہات چلے گئے ہیں اور بعض پردیس سدھارے، کچھ کو بے دخل کر دیا گیا ہے اور اب اندرونی جلاوطنی کے عالم میں "غم کی اس پٹی" میں بھٹکتے پھرتے ہیں جو اس عظیم سرطان زدہ، کہر اور دھوئیں کے مارے، ٹریفک کے اژدھام میں پھنسے ایک کروڑ سات لاکھ افراد کے مہانگر کے چو طرف ہے۔ اس صدی کے خاتمےتک قسمت کی مار سے یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر بھی بن جائے گا: غیر ترقی یافتہ عالم کا دارالحکومت۔

میری یہ خیالی عمارت اس کیچڑ میں دھنستی جارہی ہے جہاں غم آلود دیوتا چاک مول رہتا ہے۔ وہاں امریکہ کے براعظم کے قدیم ترین شہر کا جنم یاد کیا جاتا ہے، جسے 1325ء میں آوارہ منش آرٹیک قوم نے اونچی جھیل کے ساتھ قائم کیا جس کے آس پاس آتش فشاں چمکتے تھے اور 1521ء میں ہسپانویوں نے فتح کیا جنہوں نے میکسیکو کے وائس ریگل شہر کو قدیم انڈین جھیل کے جلے ہوئے پانیوں پر ایستادہ کیا۔ آبِ سوختہ: تخلیق کا تضاد، تخریب کا تضاد بھی ہے۔ میکسیکو کا کردار زندگی کو موت سے علیٰحدہ نہیں کر سکتا اور یہ بھی اس آبِ سوختہ کی نشانی ہے جو جنم اور مرن میں اس شہر کی تقدیر پر حکمراں رہی ہے[14]۔

1985ء میں ناول بوڑھا گرینگوشائع ہوا جس میں امریکی ادیب ایمبروس پیئرس کو میکسیکو کے انقلاب سے برد آزما ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ دراصل ان دو ممالک کے تعلقات کی تمثیل بھی ہے۔ فوینتیس کی فنی زندگی کا دوسرا بڑا سنگِ میل اس کا ضخیم ناول نازائیدہ کرسٹوفر ہے جو زبان پر اس کی حیرت انگیز قات، تاریخی شعور، تخیل کی وسعتِ پرواز اور قوتِ ایجاد کا شاہکار ہے۔ 1990ء میں طویل افسانوں کا مجموعہ کونستینسیا اور کنواریوں کے لیے دوسری کہانیاں شائع ہوا۔ مختلف شہروں کے پس منظر میں لکھی جانے والی ان کہانیوں کے کرداروں کو ایسی عجیب و غریب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی زندگیوں کے روزمرہ طریقے کو تلپٹ کرکے رکھ دیتی ہے۔

ناولوں، افسانوں کے علاوہ فوینتیس نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ اس کے مضامین کے بھی کئی مجموعے شایع ہوچکے ہیں جو ادبی ناقد کے طور پر اس کی صلاحیت اور سیاسی سماجی مبصر کے طور پر اس کی بصیرت کے آئینہ دار ہیں۔ لاطینی امیریکی ناول کا ایک طویل جائزہ بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے۔ مضامین کے مجموعے My Self With Others میں ایک دلچسپ مضمون شامل ہے جس میں فوینتیس نے ہالہ کی تخلیق کا ذکر اپنے ادبی و فکری پس منظر کے حوالے سے کیا ہے۔ یہ مضمون روایتی معنی میں قاری کو ہالہ کی گتھی سلجھانے کا طریقہ تق نہیں فراہم کرتا لیکن فوینتیس کی ذہنی وارسات سے مس ہونے اور اس کے تخیل کی پراسرار اور دل کش دنیا میں داخل ہونے کے لیے چور دروازہ سا کھول دیتا ہے۔

فویتیس کی تصانیف کی خاصیت ان کی علمیت ہے جو کئی متنوع صورتوں میں اجاگر ہے۔ فوینتیس کے ناولوں کا دوسرا موضوع لاطینی امریکہ کا تاریخ ہے، کرسٹوفر کولبس کے زمانے سے بھی پہلے سے جاری تاریخ جو سرابِ خیال (Phantasmagoria) بن کر بار بار پلٹتی ہے۔ کھال کی تبدیلی، آرتیمیوز کی موت اور تیرانوسترا سے ناولوں میں ہر آنے والا عہد اور سماجی اعمال کی ہر نئی ترتیب آخر میں جاکر ٹیڑھے آئینوں کا عکس ثابت ہوتی ہے۔ جس میں مذہب، محبت اور اقتدار کے وہی جرائم دہرائے۔ جاتے ہیں جو اس سے پہلے کے زمانوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ فوینتیس نے اپنے ایک مضمون میں میں نے لکھنا کیسے شروع کیا میں بیان کیا ہے:

میں نے ہمیشہ اپنے نقادوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ میری درجہ بندی مت کرو، مجھے پڑھو، میں مصنف ہوں، ایک صنف نہیں۔۔۔۔۔۔ادب مختلف اصناف کے درمیان ایسا مکالمہ ہے جو اصناف کی تنسیخ کرتا جاتا ہے[14]۔

تصانیف[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • جہاں ہوا صاف شفاف ہے" 1958ء
  • Aura (اورا) 1962ء
  • آرتیمیوز کی موت 1962ء
  • کھال کی تبدیلی 1967ء
  • مقامِ مقدس 1967ء
  • سالگرہ 1969ء
  • تیرانوسترا 1975ء
  • بوڑھا گرینگو 1985ء
  • نازائیدہ کرسٹوفر 1987ء
  • ہالہ

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • نقاب پوش ایام 1954ء
  • آبِ سوختہ 1981ء
  • کونستینسیا اور کنواریوں کے لیے دوسری کہانیاں 1990ء
  • نابیناؤں کے گیت 1964ء

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

کارلوس فوینتیس 83 سال کی عمر میں 15 مئی 2012ء کو میکسیکو شہر، میکسیکو میں وفات پا گئے اور پیرس میں مدفون ہوئے۔[16]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0 نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "274565d7568c32a4ecb6b04d940e94ee9bcb90b8" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  2. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Фуэнтес Карлос — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. ^ ا ب پ http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119037146 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. ^ ا ب http://www.nytimes.com/2012/05/16/books/carlos-fuentes-mexican-novelist-dies-at-83.html
  5. ^ ا ب Carlos Fuentes
  6. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Carlos-Fuentes — بنام: Carlos Fuentes — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  7. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w60k546x — بنام: Carlos Fuentes — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. اجازت نامہ: CC0
  9. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=90171250 — بنام: Carlos Fuentes — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  10. اجازت نامہ: CC0
  11. https://latimesblogs.latimes.com/world_now/2012/05/mexico-carlos-fuentes-burial-paris-montparnasse.html
  12. http://www.nytimes.com/movies/movie/81461/Profile-of-a-Writer-Crossing-Borders-The-Journey-of-Carlos-Fuentes/overview
  13. کارلوس فوینتیس، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  14. ^ ا ب پ ت ٹ آبِ سوختہ کا قلم بردار:کارلوس فوینتیس از آصف فرخی، مجھے اپنی آنکھوں میں محفوظ کرلو، کارلوس فوینتیس، مترجم محمد عمر میمن، شہرزاد کراچی، 2009ء
  15. سروانتیس ادبی انعام، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  16. کارلوس فوینتیس کی 83 سال کی عمر میں وفات، نیویارک ٹائمز، 15 مئی 2012ء