نور النساء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نور عنایت خان
نورالنساء

دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے زیرِ قبضہ فرانس میں کئی سطحوں پر تحریکِ مزاحمت جاری تھی۔ برطانیہ کی خفیہ سروس نے پیرس میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا تھا جسکے ذریعے پل پل کی خبر اتحادی کمان کو پہنچتی تھی۔ نورالنساء (Noor-u-Nissa) جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی پہلی خاتون ریڈیو آپریٹر تھیں

نورالنساء کا باپ صُوفی منش انسان تھا، عدم تشدد کا قائل اور عارفانہ موسیقی کا شیدائی جبکہ اُس کی ماں ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے وقت بلومز بری میں پیدا ہونے والی یہ لڑکی دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنوں کی قید میں انتہائی اذیت ناک حالات میں دم توڑ گئی۔

1943ء میں نازیوں نے اِن جاسوسوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نورالنساء کے تمام ساتھی گرفتار ہوگئے اور پیرس میں اتحادیوں کے لِیے پیغام رسانی کی تمام تر ذمہ داری اس نوجوان خاتون پر آن پڑی لیکن آخر کار جرمن خفیہ سروس گستاپو نے نور کو بھی آن لیا۔

نازی پنجے کی گرفت میں آنے کے بعد نور کا حوصلہ مزید مضبوط ہوگیا اور راز اُگلوانے کے سارے نازی ہتھکنڈے ناکام ہوگئے۔ نور کی زبان کُھلوانے کے لئے اُسے جو جو اذیتیں دی گئیں اُن کا اندازہ اس امر سے ہوجاتا ہے کہ جنگ کے بعد نازیوں پر چلنے والے جنگی جرائم کے مقدّمے میں گستاپو کے متعلقہ افسر، ہانس جوزف کیفر سے نورالنساء کی موت کے بارے میں پوچھا گیا تو سنگدِل افسر کی آنکھوں میں آنسو اگئے۔

نورالنساء کا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔ وہ اپنے خیالات میں گُم رہنے والی اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ء میں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا اور والدہ اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔

چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساء کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔

1940ء میں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساء کا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پہ یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں۔

نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھی چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں اُس نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چُنا۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نور عنایت خان جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھی۔ اس نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کے لئے وقف کر دیا تھا اور اُنتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے ہم کنار ہوئی۔

نرم و نازک خدوخال، گہری سیاہ آنکھوں اور دھیمے لہجے والی حسین و جمیل خاتون کی خطر پسند زندگی نے کئی قلم کاروں کو اپنی جانب راغب کیا اور اب تک اس کی زندگی پر عالمی شہرت کے دو ناول تحریر کئے جا چکے ہیں۔

نور عنایت خان کو اپنے جدِ امجد سلطان ٹیپو سے والہانہ عقیدت تھی اور اُسی روایت پہ چلتے ہوئے انھوں نے ہندوستان کو انگریزی عمل داری سے پاک کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب خفیہ سروس میں بھرتی کے لئے انٹرویو ہوا تو نور عنایت نے انگریز افسر سے صاف صاف کہہ دیا کہ فی الحال ہمارے سامنے ایک مشترکہ دشمن نازی جرمنی کی شکل میں موجود ہے لیکن نازی ازم کا خاتمہ ہوتے ہی میں آزادیء ہند کے لئے انگریزوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہوجاؤں گی۔

ایک ایسی خوبرو، صاف گو، شیردِل لیکن فنکارانہ مزاج کی عورت کے اصل حالاتِ زندگی بہت پہلے دنیا کے سامنے آجانے چاہیئں تھے۔ بہر حال مصنفہ شربانی باسُو داد کی مستحق ہیں کہ انھوں نے اس دیرینہ ضرورت کو پورا کیا ہے اور نور عنایت خان کی ہشت پہلو زندگی ہم پہ بے نقاب کی ہے۔

نورالنساء (Noor-u-Nissa) کی داستانِ حیات پر اب تک اسرار کا دبیز پردہ پڑا رہا ہے جس نے بے شمار افواہوں کو بھی جنم دیا لیکن اب شربانی باسُو کی نئی کتاب ’جاسوس شہزادی‘ (Spy Princess) نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔