اسرائیل میانمار تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرائیل میانمار تعلقات

اسرائیل

میانمار

اسرائیل میانمار تعلقات سے مراد دو طرفہ تعلقات ہیں جو اسرائیل اور میانمار کے بیچ ہیں۔ ان دونوں ممالک نے 1953ء میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ [1] اسرائیل کا سفارت خانہ یانگون میں ہے جب کہ میانمار کا سفارت خانہ تل ابیب میں ہے۔ یہودی ریاست کی میانمار سے دوستی کافی لمبے عرصے سے چلی آ رہی ہے جو ایشیا کے اولین ممالک میں سے ایک تھا جس نے اسرائیل کی آزادی کو تسلیم کیا اور ایک نو خیز ملک سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ ان دو ممالک کے بیچ کافی تعاون جاری ہے، کو زراعت، تعلیم اور دفاعی شعبوں پر مشتمل ہے۔[2]

مملکتی دورے[ترمیم]

میانمار کے وزیر اعظم |او نو پہلے وزیر خارجہ تھے جنہوں نے 1955ء میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم داوید بن گوریون نے 1961ء میں یانگون کا دورہ کیا تھا۔[3]

جنرل مین آنگ ہلانگ نے 2015ء میں اسرائیل کا دورہ کیا تا کہ ان دونوں ممالک کے بیچ تعلقات کو مضبوط کیا جا سکے۔[4]

تاریخ[ترمیم]

اسرائیل نے میانمار کے ساتھ سابقہ فوجی حکومت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھے تھے۔ تاہم فوجی حکومت سے نزدیکی کے باوجود اسرائیل نے جمہوریت حامی فعالیت پسند خاتون قائد آنگ سان سو چی کے لیے کئی مواقع پر تائید کا اظہار کر چکا ہے۔ [5][6]

2016ء میں نو مامور شدہ میانمار کے سفیر ریووین ریولین نے اپنے متعلق دستاویزات کو اگست 2016ء میں پیش کیا تھا۔ سفیر کی دختر انٹر ڈسپلینری سنٹر ہرزلیا کی طالبہ بتائی گئی ہے اور وہ وہاں پہلی برمی متعلمہ ہے۔[7]

ڈانیئیل زون شائن جو میانمار میں اسرائیل کے سفیر بنائے گئے، 2016ء میں ایک مقامی میانماری اخبار کے انٹرویو میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو "اچھے اور دوستانہ، جن میں مزید بہتری اور دوستی کی گنجائش ہے" بتایا۔ [8]

اسرائیل میانمار کی مسلح افواج کے لیے سب سے زیادہ ہتھیاروں کا فراہم کنندہ رہا ہے۔ ستمبر 2017ء میں روہینگیا مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیل کے سپریم کورٹ میں ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت کا فیصلہ عوامی عدم افشائے راز کے تحت رکھا گیا ہے۔ [9][10]

2018ء میں ایک تحریر شدہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی تاریخی کتب کا جائزہ لے سکتے ہیں تاکہ حقائق کی تصدیق کی جا سکے۔[11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Israel's ties with Burma"۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Bilateral relations"۔ Embassy of the state of Israel in Myanmar۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "History of the Israeli-Burmese friendship"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Burmese general visits Israel"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "Israel disappointed by Aung San Su Kyi verdict"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Israel celebrates Aung San Suu Kyi's release"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "President Rivlin receives credentials from new ambassadors"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "An interview with Israeli ambassador to Myanmar"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. Israel's top court just ruled about arms sales to Myanmar. But we're not allowed to tell you the verdict - Israel News - Haaretz.com
  10. Bethan McKernan. Israel continues to arm Burma military amid ongoing violence against Rohingya Muslims, Independent
  11. "Israel And Myanmar Agree to Edit Each Other's History Books"۔ Time (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-01۔