باب:کورونا وائرس مرض 2019ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

باب کورونا وائرس
مرکزی صفحہ   اشاریہ   منصوبے

کورونا وائرس مرض 2019ء کا تعارف

کورونا وائرس کا ویراون ہیئت

کورونا وائرس مرض 2019ء (COVID-19) ایک متعدی بیماری ہے جو انتہائی مہلک تنفسی سینڈروم کورونا وائرس 2 (SARS-CoV-2) سے ہوتی ہے۔ یہ مرض دنیا بھر میں 2019ء سے پھیلا اور جلد ہی عالمگیر وبا کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی عمومی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس میں گھٹن شامل ہیں۔ پٹھوں کا درد، تھوک کا آنا اور گلے کی سوزش ذرا نادر علامتیں ہیں۔ اکثر کیسوں میں کم علامتیں دیکھی گئیں، کچھ معاملات میں مریض نمونیا اور متعدد اعضا کے ناکارہ پن کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ تشخیص شدہ معاملات میں اموات کا تناسب 1 فیصد اور 5 فیصد کے درمیان میں ہے لیکن عمر اور صحت کی دوسری نوعیتوں کے لحاظ سے تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔

کورونا وائرس کا مرض 2019ء کے متعلق مزید پڑھیں۔۔۔

منتخب مضمون

چین میں کورونا وائرس کے اثرات
چینی حکومتی دستاویزات کے مطابق، نومبر 2019ء کو سب سے پہلا تصدیق شدہ مریض ووہان، ہوبئی، چین کا ایک 55 سالہ شخص تھا۔ اگلے مہینے میں، ہوبی میں کورونا وائرس کے واقعات کی تعداد آہستہ آہستہ دو سو ہوگئی، اس کے بعد جنوری 2020ء مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 31 دسمبر 2019ء کو، وائرس کی وجہ سے صوبہ ہوبئی کے دارالحکومت ووہان میں، محکمہ صحت کے حکام کو نامعلوم نمونیا کے واقعات کی اطلاع ملی تھی، اور اس بیماری کی تحقیقات اگلے مہینے کے اوائل میں شروع ہوگئیں۔ ان متاثرہ افراد کی زیادہ تعداد کا تعلق، سمندری جانوروں کے ایک بازار سے تھا، جہاں زندہ جانوروں کا کاروبار ہوتا ہے، اس ہی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وائرس کی وجہ حیوان آزار (zoonotic) ہے۔ ابتدائی مراحل کے دوران میں، ہر سات دونوں میں متاثرہ افراد کی تعداد دگنی ہوتی رہی۔ 2020ء کے اوائل اور وسط جنوری میں، چینی کے دوسرے صوبوں میں بھی یہ وائرس پھیل گیا، اور اس میں نئے چینی سال کی آمد نے اہم کردار ادا کیا، ووہان چین میں نقل و حمل کا مرکز اور ریلوے کا ایک اہم مقام ہے، جس وجہ سے متاثرہ افراد تیزی سے پورے ملک میں پھیل گئے۔ جنوری کو، چین نے ایک ہی دن میں، 140 نئے متاثرہ افراد کی تصدیق کی، جن میں سے ایک بیجنگ کا اور دوسرا شینزین کا تھا۔ بعد کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 20 جنوری 2020ء تک 6،174 افراد میں پہلے ہی علامات ظاہر ہو چکیں تھیں۔

احتیاطی تدابیر

منتخب سوانح

سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر تھے۔ وہ اگست 1944 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ تعلق تقسیم برصغیر سے پہلے کے شرفاءے دہلی سے ہے۔ آزادی کے بعد ان کے خاندان نے پاکستان کو اپنے مسکن کے طور پر چنا اور کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے 1963 ء میں جامعہ کراچی سے سوشیالوجی میں ایم اے کیا۔ پھر1966 ء میں یہیں سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی منور حسن اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہو گئے۔ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔ علاوہ ازیں بیڈ منٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے۔ مکمل مضمون پڑھیں۔۔۔

منتخب تصویر

سماجی فاصلہ گیری کے اثرات کا بیان
تصویر ساز: صارف:Yethrosh

کورونا کے مریضوں کی تعداد گھٹائیں


موضوعات