باب:ہنزہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Welcome
«خوش آمدید»
A view of Shadandur Valley Khot Torkhow Chitral Pakistan Photo by Rahmat Aziz Chitrali.JPG Building in Karimabad.jpg Village in Passu.JPG
Nuvola apps kedit.png باب ہنزہ
ایگل پواینٹ سے ہنزہ کا منظر
ہنزہ شمالی پاکستان کا ایک علاقہ ہے۔ اسے وادی ہنزہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی بستیوں کا مجموعہ ہے۔ سب سے بڑی بستی کریم آباد ہے۔ سیاحوں کا یہ بڑا مرکز ہے۔ راکاپوشی کا نظارہ بہت دلفریب ہے۔پاک فوج میں ملازمت اور سیاحوں کی خدمت سب سے بڑا زریعہ روز گار ہے۔ دریائے ہنزہ اسکے ساتھ سے گزرتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی زبان وخی اور بروشسکی ہے۔ لیکن یہاں کے لوگ شینا زبان بھی بولتے ہیں۔ تین جغرافیائی حصوں، یعنی مرکزی ہنزہ، وادی گوجال اور شیناکی پر مشتمل وادی ہنزہ منفرد ثقافتوں اور سیاحتی مقامات کا مرکز ہے. مشہور سیاحتی مقامات میں قلعہ بلتت، قلعہ التت، بوریت جھیل، دریائے ہنزہ کی حادثاتی بندش سے وجود میں آنے والی ٢٢ کلومیٹر گوجال جھیل، پھسو گلیشر، درہ خنجراب، درہ منتکا، گلمت، التر کی پہاڑی اور وادی شمشال شامل ہیں.

Nuvola apps kedit.png منتخب مقالہ
شاہراہ ریشم کی مختلف تجارتی گذر گاہیں

عہدِ قدیم (Ancient Ages) کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر شاہراہ ریشم (انگریزی:Silk Road یا Silk route) کہا جاتا ہے جو چین کو ایشیائے کوچک اور بحیرہ روم کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گذر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاہراہ ریشم کی تجارت چین، مصر، بین النہرین، فارس، بر صغیر اور روم کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔

شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ء میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گذر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

مغرب سے شمالی چین کے تجارتی مراکز تک پھیلی یہ تجارتی گذر گاہیں سطح مرتفع تبت کے دونوں جانب شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہیں۔ شمالی راستہ بلغار قپپچاق علاقے سے گذرتا ہے اور چین کے شمال مغربی صوبے گانسو سے گذرنے کے بعد مزید تین حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں سے دو صحرائے ٹکلا مکان کے شمال اور جنوب سے گذرتے ہیں اور دوبارہ کاشغر پر آ کر ملتے ہیں جبکہ تیسرا راستہ تین شان کے پہاڑوں کے شمال سے طرفان اور الماتی سے گذرتا ہے۔

یہ تمام راستے وادی فرغانہ میں خوقند کے مقام پر ملتے ہیں اور مغرب میں صحرائے قراقرم سے مرو کی جانب جاری رہتے ہیں اور جہاں جلد ہی جنوبی راستہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔

Nuvola apps kedit.png منتخب تصویر
Rakaposhi 3.jpg

راکا پوشی کا حسین منظر

تصویر: کرپ

Nuvola apps kedit.png زمرہ جات
Nuvola apps kedit.png کیا آپ جانتے ہیں۔۔۔
دریائے ہنزہ
دریائے ہنزہ پر ایک پل
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

دریائے ہنزہ پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ اور نگر کا اہم دریا ہے۔ بہت زیادہ مٹی اور چٹانی ذروں کی آمیزش کی وجہ سے یہ بہت گدلا ہے۔ مختلف گلیشیر اور خنجراب اور کلک نالے اسکی بنیاد ہیں۔ پھر اسی میں نلتر نالہ اور دریائے گلگت ملتے ہیں۔ بلآخر یہ دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔ شاہراہ ریشم اس دریا کے ساتھ چلتی ہے۔

Nuvola apps kedit.png ہنزہ کی تصاویر
Nuvola apps kedit.png ویکیپیڈیا پاکستانی زبانوں میں

كشميري (Kashmiri) ۔ پښتو (Pashto) ۔ فارسی (Persian) ۔ پنجابی (Punjabi) ۔ سنڌي (Sindhi) ۔

اردو (Urdu)
Nuvola apps kedit.png متعلقہ ابواب

مذہب: ہندومت ۔ بدھ مت ۔ جین مت ۔ سکھ مت ۔ اسلام ۔ عیسائیت ۔ یہودیت
جغرافیہ: ایشیاء ۔ چین ۔ پاکستان ۔ بھوٹان ۔ بنگال ۔ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا

سیاسیات: سارک ۔ پاکستانی حکومت ۔ کھیل: کرکٹ
واقعات: تحریک آزادی ہند

Faisalabad ClockTower.jpg
FaisalMasjid.jpg
A view of Shadandur Valley Khot Torkhow Chitral Pakistan Photo by Rahmat Aziz Chitrali.JPG
Tomb Jinnah.jpg
70px-Shahi Mosque 12.jpg
فیصل آباد اسلام آباد چترال کراچی لاہور
Nuvola apps kedit.png ویکیمیڈیا ساتھی منصوبے
ہنزہ ہنزہ ہنزہ ہنزہ ہنزہ ہنزہ ہنزہ
ویکی اخبار
آزاد متن خبریں
ویکی اقتباسات
مجموعہ اقتباسات متنوع
ویکی کتب
آزاد نصابی ودستی کتب
ویکی منبع
آزاد دارالکتب
وکشنری
لغت ومخزن
ویکیورسٹی
آزاد تعلیمی مواد ومصروفیات
العام
انبار مشترکہ ذرائع
Wikinews-logo.svg
Wikiquote-logo.svg
Wikibooks-logo.svg
Wikisource-logo.svg
Wiktionary-logo-en.svg
Wikiversity-logo.svg
Commons-logo.svg