بنگلہ دیشی لوک ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
বাংলা লোক/পল্লী সাহিত্য
بنگالی لوک ادب
بنگالی ادب
(By category)
بنگالی زبان
Bengali literary history
بنگالی ادب
Bengali language authors
بنگالی زبان کے مصنفین کی فہرستAlphabetic List
Major Folk Literature
Mymensingh Gitika
مضامین
بنگالی
Renaldis muslin woman.jpg

بنگلہ دیشی لوک ادب (بنگلہ: বাংলা লোক/পল্লী সাহিত্য) بنگالی ادب کا ایک حصہ ہے۔ ادب کا یہ حصہ پڑھے لکھے قبائلی لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو تقریری شکل میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہا اور بنگالی ادب کی بنیاد بنتا رہا۔ ابتدا میں انفرادی ادب سے اس کا آغاز ہوا مگر جلد ہی اجتماعیت نے اس کی جگہ لے لی اور یہ ثقافت۔ جذبات، خیال سے ہم آہنگ ہوگیا۔ جیسے جیسے لوک ادب سے ترقی کی، ویسے ویسے یہ قبیلے اور سماج کی ترجمان بنتا گیا۔

تاریخ[ترمیم]

تیسری صدی عیسوی سے یکے بعد دیگرے موریہ، گپتا، پال، سینا اور مسلمانوں نے اس سرزمین پر حکومت کی اور ہر ایک نے علاقہ کے قبائلی لوگوں پر اپنی ثقافتی چھاپ چھوڑی۔ نئے زمانہ میں پرتگالی، فرانسیسی اور انگریزی جہاز خلیج بنگال میں لنگر انداز ہوئے۔ انہوں نے گوکہ تجارتی مقصد سے ادھر کا رخ کیا مگر اپنی اشیاء کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور زبان کا بھی لین دین کیا۔ بنگال میں آنے والے تمام لوگوں نے بنگال کو اپنی ثقافت اور زبان سے متاثر کیا۔

زبانی ادب اور اس کا اثر[ترمیم]

لوک ادب عموما زبانی روثہ ہوتا ہے اور اسی لئے اس کا دارو مدار لوگوں کی یادداشت پر منحصر ہے۔ اس کی زبان اور طریقہ بہت مخصوص ہوتا ہے۔ بنگالی لوک ادب میں متعدد طرح لی اساطیری شاعری، شاعری، ڈراما، لوک کہانی اور کہاوتیں موجود ہیں۔ بنگلہ دیشی لوک ادب میں بالخصوص کئی مختلف طرح کی روایتوں اور تہذیبوں کا اثر ملتا ہے کیونکہ زمانہ ماضی سے حال قریب تک وہاں کئی نسل کے لوگ آباد رہے ہیں۔ موجودہ دور میں بنگلہ دیش کا لوک ادب بہت پیچیدہ اور متعدد عناصر کا مجموعہ ہے جسے ماہر مورخین ہی تفصیل سے بیان کر سکتے ہیں۔

لوک ادب کے عناصر[ترمیم]

لوک ادب میں کہانیاں، نغمے، موسیقی، بلاڈ، کہاوتیں، کہ مکرنیاں، پہلیاں، رموز، اساطیری کہانیاں اور توہم پرستی شامل ہیں۔

لوک موسیقی اور نغمے[ترمیم]

بنگالی لوک موسیقی کی بنیاد شاعری پر ہے جس میں آلہ موسیقی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ کلاسیکی لوک نغموں کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: محبت، روایتی، فلسفیانہ وعقیدہ، کام کاج، پیشہ وقبضہ، طنز و مزاح اور ملا ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Dinesh Chandra Sen، Maimansingha-Gitika، Calcutta, 1923
  • Purbabanga-Gitika، 1926; Maria Edward Leach ed
  • Ashutosh Bhattacharya, Banglar Lokasahitya، vol. 1, Calcutta, 1963;

بیرونی روابط[ترمیم]