بھارت کے اسپیشل ایکنامک زونز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


کنڈلا بندرگاہ

اسپیشل ایکنامک زونز یا ایس ای زیڈ (خصوصی اقتصادی خطے) کسی بھی ملک کے ان علاقوں کو کہا جاتا ہے جہاں کے معاشی اصول و ضوابط اس ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔ ان ضوابط میں ایسے اقدامات شامل ہوتے ہیں جو راست بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہوتے ہیں۔ ایس ای زیڈ میں کاروبار کرنے والی کمپنیاں محصول کی رعایتیں اور کم شرحوں پر سرکاری سہولتیں حاصل کرتی ہیں۔[1]

آغاز[ترمیم]

موجودہ دور کے بھارت کے اسپیشل ایکنامک زونز کو سابقہ دور میں قائم ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (برآمدات کے مراکز) یا ای پی زیڈ کے ہی تسلسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بھارت کا پہلا ای پی زیڈ کنڈلا میں 1965ء میں قائم ہوا تھا۔ تاہم ایس ای زیڈ کو تقویت 2000ء سے ملی ملی جبکہ چین، سنگاپور، ملائشیا اور برازیل کے اسپیشل ایکنامک زونز کافی کامیاب ثابت ہوئے۔[2]

دستیاب سہولتیں[ترمیم]

  • ڈیوٹی سے مستثنٰی درآمدات / خانگی کمپنیوں کی جانب سے مرکب اشیا مصنوعات کی تیاری کے سامان کے حصول کی سہولت اور ایس ای زیڈ کی اکائیوں کی سرگرمیاں اور رکھ رکھاؤ۔
  • ایس ای زیڈ کی برآمدات کی آمدنی انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 10 اے اے کی رو سے انکم ٹیکس سے پانچ سال تک 100 فی صد مستثنٰی، اس کے بعد اگلے پانچ سالوں تک 50 فی صد اور اگلے پانچ سالوں تک مکرر منافع (ploughed back profit) پر 50 فی صد ٹیکس۔
  • انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 115 جے بی کے تحت اقل ترین متبادل محصول سے استثنٰی۔
  • ایس ای زیڈ کی جانب سے 500 ملین ریاستہائے متحدہ امریکا کے ڈالر کی مالیت کے خارجی تجارتی قرض کے مسلمہ بینکنگ اداروں کی جانب سے بغیر باہمی بندش حصول کی سہولت۔
  • مرکزی سیلز ٹیکس سے استثنٰی۔
  • سرویس ٹیکس سے استثنٰی۔
  • ایک ہی دریچے سے مرکزی اور ریاستی سطح کی منظوری۔
  • متعلقہ ریاستوں کی جانب سے ریاستی سیلز ٹیکس اور دیگر عائد مالی ادائیگیوں سے استثنٰی۔[2]

بازتشکیل[ترمیم]

یکم اپریل 2006ء میں متعارف اسپیشل ایکنامک زونز عوامی، نجی اور مشترکہ شعبوں میں یا ریاستی حکومتوں کی جانب سے بنائے جا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کئی ایس ای پی زیڈ اسپیشل ایکنامک زونز میں تبدیل کیے گئے۔ ان کی فہرست اس طرح ہے:

موجودہ طور پر بھارت میں 811 اکائیاں 8 برسرعمل بازتشکیل شدہ ایس ای زیڈ میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک 200 ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔ یہ سارے ایس ای زیڈ ملک کے مختلف حصوں میں نجی/ مشترکہ یا ریاستی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں۔ مگر ان کی منصوبہ بندی کی وجہ سے زرعی شعبے سے وابستہ افراد نالاں ہیں، کیونکہ ان سے زرخیز زمین کافی کم قیمت پر چھینی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بجاج گروپ اور کچھ اور کمپنیاں اس پالیسی کی مخالفت میں آگے آئے ہیں اور سجھاؤ دیے ہیں کہ بنجر اور غیر آباد زمینوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔[2]

ایس ای زیڈ کی وجہ سے سال در سال برآمدات کی شرحوں میں اضافہ[ترمیم]

سال (ء) قدر (کروڑ روپیوں میں) اضافے کی شرح (پچھلے سال کے مقابلے)
2003-04 13,854 39%
2004-05 18,314 32%
2005-06 22,840 25%
2006-07 34,615 52%
2007-08 66,638 92%

[2]

قیام سے مسائل[ترمیم]

بھارت میں موجودہ اور مجوزہ ایس ای زیڈ کا کئی گوشوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔ اس کی اہم وجہ دیہی اور زرعی عوام کا ان منصوبوں سے بری طرح متاثر ہونا ہے:

  • کاکیناڑا میں عوام کو سخت تعجب ہوا جب 1000 پولیس ایک گاؤں میں سروے کنندوں، محکمہ مال کے عہدیداروں کے ساتھ داخل ہو کر دیہاتیوں کو اپنی زمینیں سپرد کرنے کے لیے مجبور کرنے لگے۔ بحث و تکرار کے دوران کچھ معمر افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقامی اخبارات اس واقعے کو تصاویر کے ساتھ صفحہ اول پر چھاپ چکے ہیں۔ تاہم ریاست کے انگریزی اخبارات اس واقعے کو بالکل نظر انداز کر چکے ہیں۔ بعد میں آندھرا پردیش انسانی حقوق کمیشن نے ضلع کے متاثرہ گاؤں کا دورہ کر کے اس واقعے کی روداد ریاستی ہائی کورٹ کو پیش کر چکا ہے۔ تب سے دیہاتیوں کو دھمکیاں دی جانے لگی ہیں کہ وہاں سے تمام ترقیاتی پروگرام مسدود ہو جائیں گے۔ اس مخصوص گاؤں سے نریگا اسکیم ہٹا دی گئی ہے، بنیادی صحت کے مراکز بند کر دیے گئے ہیں، معمرین کے وظائف پر روک لگی ہے اور اسی طرح کے کئی منفی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
  • رائے گڑ ضلع، مہاراشٹر کی پین تحصیل کے بائیس گاؤں ایک ایس ای زیڈ کے قیام کے اعلامیے میں درج ہوئے تھے۔ اعلامیے کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز کی قیادت میں ان گاؤں سے حاصل کردہ 10,000 ہیکٹیر رقبے پر یہ منصوبہ روبہ عمل ہونا تھا۔ 22 ستمبر 2008ء کو اس زمین کے لیے جانے کے موضوع پر ضلع کے چھ ہزار زمین کے مالکین کی رائے لی گئی تھی۔ تاہم اس رائے شماری کی روداد کو ریاستی حکومت نے کبھی منظر عام پر پیش نہیں کیا۔
  • زرعی زمین کو غیر زمین مقاصد کے لیے استعمال کرنا: پچھلے چالیس سالوں میں بھارت کی کافی زمین کو زرعی سے غیر زرعی قرار دیا گیا ہے۔ جہاں 1965ء میں 7000 مربع کیلومیٹر زمین کو زرعی بنایا گیا تھا، وہیں یہ تبدیلی 2006ء تک 14069 مربع کیلومیٹر دیکھی گئی تھی۔ جہاں ایس ای زیڈ، شہری آبادی اور صنعتوں اور کو مزید زمین دی جا رہی ہے، وہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ملک کے رقبے کا محض 46 فی صد سے کچھ اوپر حصہ زراعت کے کاموں میں لگایا گیا ہے۔ وزارت زراعت کے مطابق 1999ء سے 2003ء کے بیچ فصل اگانے کی زمین 1.5 فیصد گھٹ چکی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ 21 لاکھ ہیکٹیر زمین جو غیر زرعی مقاصد کے لیے مستعمل تھی، اب بڑھ کر 34 لاکھ ہیکٹیر ہو چکی ہے۔
  • ترقیاتی پروگراموں کا سیدھا اثر زرعی زمین کے گھٹنے سے جڑ رہا ہے۔ ایس ای زیڈ کے قیام کے بغیر بھی جنوبی ہند کی ریاست کیرلا میں زرعی زمین 1980ء کے 10 لاکھ ہیکٹیر سے گھٹکر موجودہ طور پر 3.5 لاکھ ہیکٹیر ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے چاول کی مانگ یہاں ریاست کی پیداوار سے پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔ اسی طرح معدنی ذخائر سے مالامال ریاست اڑیسہ کان کنی اور بجلی منصوبوں کی وجہ سے زرعی زمین کھو دے رہی ہے۔ چھوٹی ریاست ہماچل پردیش میں زرعی زمین 1991ء سے 2001ء کے بیچ 33,000 ہیکٹیر زرعی زمین کھو چکی ہے۔ ایسے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ ایس ای زیڈ کے پھیلاؤ کی وجہ زراعت پر اور بھی برا اثر پڑے گا۔
  • زراعت کے لیے شہرت رکھنے والی ریاستیں گجرات، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش ایس ای زیڈ کی امکانی منظوری والے 70 فی صد رقبے کو گھیرتی ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستیں پہلے ہی سے زرعی زمینوں پر ایس ای زیڈ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت تجارت نے 3 دسمبر 2007ء کو یہ اعلان کیا کہ ہمہ مصنوعات ایس ای زیڈ کے قیام کے لیے 5000 ہیکٹیر کی حد بندی ممکن ہے کہ برخاست کر دی جائے گی۔ اس سے مزید ایس ای زیڈوں کے قیام کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ زرعی زمین کو مزید دھکا لگ سکتا ہے۔
  • ایس ای زیڈ سے آندھرا پردیش کے آبی وسائل کو دھکا: آندھرا پردیش میں وائٹ فیلڈ پیپر ملز ایس ای زیڈ دریائے گوداوری سے پانچ کیلومیٹر کے دائرے میں واقع ہے۔ ریاستی حکومت اس ایس ای زیڈ کو یومیہ سوملین لیٹر پانی لینے کی اجازت دے چکی ہے۔ حالانکہ دریا میں موجودہ طور پر وافر مقدار میں پانی موجود ہے، یہ قابل ذکر ہے کہ دریائے گوداوری کا طاس قابل زراعت زمین قرار دیا گیا ہے اور وسیع پیمانے پر صنعتوں کا یہاں وجود میں آنا آبرسانی کے لیے درکار پانی کی مقدار کو بری طرح سے گھٹا سکتا ہے۔
  • ایس ای زیڈ سے اُڑیسہ کے آبی وسائل کو دھکا: اُڑیسہ میں ہِیراکُڈ آبی ذخیرے سے صنعتوں کو پانی کی فراہمی 1997ء سے تین گنا بڑھ چکی ہے۔ کسانوں کے احتجاج کے باوجود ریاستی حکومت صنعتوں کو مزید پانی جاری کر رہی ہے۔ ان میں زیادہ تر صنعتیں ایس ای زیڈ کا درجہ رکھتی ہیں جیسے کہ سنبھلپور کی ہِنڈالکو انڈسٹریز جھارسوگوڑہ کی ویدانتا انڈسٹریز۔ جگت سنگھ پور ضلع میں پوسکو کے مجوزہ ایس ای زیڈ کو دریائے مہاندی سے سیدھے پانی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جہاں آسانی سے صنعتوں کو پانی کی اجازت دی گئی ہے، باڑگڑھ ضلع کی پدم پور تقسیم 1960ء سے قحط سالی اور زراعتی ناکامی کا شکا رہے۔ یہ علاقہ دنیا کا غریب ترین علاقہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کے آبی وسائل کوئی (تجارتی ادارے) اور چھین رہے ہیں۔
  • مُندرا بندرگاہ کا ایس ای جی آدانی گروپ کی جانب سے خلیج کچھ، گجرات میں بنایا گیا ہے۔ اس ایس ای زیڈ کو یومیہ چھ ملین لیٹر دریائے نرمدا کا پانی حاصل ہوا ہے اور یہ گروپ مزید پانی کی دستیابی کی توقع رکھتا ہے۔
  • تمل ناڈو کے سری پیرومبدور میں سِیپ کاٹ ایس ای زیڈ (SIPCOT SEZ) کے لیے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی سِیپ کاٹ آبرسانی اسکیم شروع کر چکی ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Special Economic Zone (SEZ)
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 2.5 Pradeep Shukla & Priya Agarwal, "Special Economic Zones and Its Impact on Agriculture (With Special Reference to India)", International Journal of Marketing Management,New Delhi, India, Vol. 6, No.1, Jan-June 2016, Pp 01-19

خارجی روابط[ترمیم]