جمعیت علمائے پاکستان، نیازی
جمعیت علمائے پاکستان نیازی پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے پاکستان (JUP) کے دو بڑے دھڑوں میں سے ایک ہے، جو تنظیمی اختلافات کے نتیجے میں 2000ء کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آیا۔ اس دھڑے کی قیادت ممتاز مذہبی و سیاسی رہنما مولانا عبدالستار خان نیازیکے ہاتھ میں رہی، جن کے نام سے اس گروہ کو ’’نیازی دھڑا‘‘ کہا جاتا ہے۔[1]
پس منظر
جمیعت علمائے پاکستان کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی تھی اور اس کا شمار اہلِ سنت بریلوی مکتب فکر کی نمائندہ سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔ جماعت نے قیامِ پاکستان کے بعد مذہبی شناخت، عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ، ناموسِ رسالتؐ اور اسلامی تشخص کے حوالے سے کئی سیاسی و سماجی تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جماعت کے اندر تنظیمی معاملات، قیادت اور سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق اختلافات بڑھتے گئے۔ یہ اختلافات بالآخر جماعت کی تقسیم پر منتج ہوئے اور دو بڑے دھڑے سامنے آئے: جمعیت علمائے پاکستان نورانی اور جمعیت علمائے پاکستان نیازی۔[2]
قیادت
نیازی دھڑے کے سرکردہ رہنما مولانا عبد الستار خان نیازی (1919ء–2001ء) تھے، جو پاکستان کی دینی و سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ تحریکِ ختمِ نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفیٰ اور متعدد سیاسی جدوجہدوں میں سرگرم رہے۔ مولانا نیازی نے جماعت کے اندر تنظیمی اصلاحات، فعال سیاسی کردار اور عوامی سطح پر رابطہ بڑھانے کی کوشش کی، تاہم اختلافات کی گہرائی کے باعث وہ اپنے پیروکار علما کے ساتھ الگ دھڑے کی صورت میں سامنے آئے۔[3]
نظریات و پالیسی
جمعیت علمائے پاکستان نیازی بنیادی طور پر اہلِ سنت بریلوی مکتب فکر کی مذہبی و سیاسی ترجمانی کرتی ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی ریاست و معاشرت کو اسلامی جمہوری اصولوں اور نظامِ مصطفیٰؐ کے مطابق ڈھالا جائے۔ نیازی دھڑا مذہبی ہم آہنگی، قانونِ ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ، عوامی فلاح اور آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات کے اطلاق پر زور دیتا رہا ہے۔ اس دھڑے نے مختلف انتخابی ادوار میں مذہبی جماعتوں کے اتحادوں—خصوصاً ‘‘متحدہ مجلسِ عمل’’—کے ساتھ تعاون پر بھی غور کیا، تاہم اس کی انتخابی حیثیت محدود رہی۔[4]
موجودہ حیثیت
مولانا نیازی کے انتقال کے بعد جماعت کی تنظیمی سرگرمیاں کمزور ہوئیں، تاہم مختلف شہروں میں اس کے وابستگان اور کارکن اب بھی مذہبی اجتماعات، میلاد کانفرنسوں اور اہلِ سنت پلیٹ فارمز پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی طور پر جماعت محدود کردار ادا کر رہی ہے، مگر تاریخی طور پر اہلِ سنت سیاست کے ایک اہم دھڑے کے طور پر اس کی شناخت برقرار ہے۔
حوالہ جات
- ↑ "Religious parties in Pakistan: A historical overview"۔ The Express Tribune۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-23
- ↑ "Sunni politics in Pakistan"۔ Dawn۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-23
- ↑ "Profile of Abdul Sattar Khan Niazi"۔ PakPedia۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-23
- ↑ "Religious parties and electoral politics"۔ The News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-23