جنگ حطین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنگ حطین
بسلسلۂ:صلیبی جنگیں
سلسلہ 1149ء اور 1189ء کے درمیان میں صلیبی لڑائیاں  ویکی ڈیٹا پر (P361) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Battle of Cresson.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Kingdom of Jerusalem.svg لاطینی مملکت یروشلم  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام طبریہ  ویکی ڈیٹا پر (P276) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
32°48′13″N 35°26′40″E / 32.803611111111°N 35.444444444444°E / 32.803611111111; 35.444444444444  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متحارب گروہ
ایوبی سلطنت لاطینی مملکت یروشلم
قائد
صلاح الدین ایوبی گائے لوزینانی
ریمنڈ ثالث طرابلسی
بیلین آف ابیلین
قوت
30,000 آدمی
12,000 گھڑسوار فوج
18,000 پیادہ فوج
20,000 آدمی
15,000 پیادہ فوج
1,200 شہہ سوار
3,000 سپاہی
500 صلیبی جنگجو
نقصانات
کم نقصانات بہت زیادہ نقصانات

جنگ حطین 4 جولائی 1187ء کو مسیحی سلطنت یروشلم اور ایوبی سلطان صلاح الدین کی افواج کی درمیان لڑی گئی۔ جس میں فتح کے بعد مسلمانوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے بیت المقدس کو مسیحی قبضے سے چھڑالیا۔

پس منظر[ترمیم]

مصر میں فاطمی حکومت کے خاتمے کے بعد صلاح الدین نے 1182ء تک شام، موصل، حلب وغیرہ فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔ اس دوران صلیبی سردار رینالڈ کے ساتھ چار سالہ معاہدہ صلح طے پایا جس کی رو سے دونوں کے دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن یہ معاہدہ محض کاغذی اور رسمی ثابت ہوا۔ اور صلیبی بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رہے تھے۔

صلیبی جارحیت[ترمیم]

1186ء میں مسیحیوں کے ایک ایسے ہی حملے میں رینالڈ نے یہ جسارت کی کہ بہت سے دیگر مسیحی امرا کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے اور فوراً رینالڈ کا تعاقب کرتے ہوئے حطین میں اسے جالیا۔

جنگ[ترمیم]

سلطان نے یہیں دشمن کے لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ ڈلوایا جس سے زمین پر آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ اس آتشیں ماحول میں 11 جولائی 1187ء کو حطین کے مقام پر تاریخ کی خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا۔ اس جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار مسیحی ہلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ رینالڈ گرفتار ہوا اور سلطان نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کیا۔ اس جنگ کے بعد اسلامی افواج مسیحی علاقوں پر چھا گئیں اور انہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا اور 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس فتح کر لیا۔ حطین کے معرکے میں شکست مسیحیوں پر اس قدر کاری ضرب ثابت ہوئی کہ اس کی خبر سنتے ہی پوپ اربن سوم صدمے سے ہلاک ہو گیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

صلاح الدین ایوبی

صلیبی جنگیں

تیسری صلیبی جنگ