علم تشریح الاعضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، تشریح (ضدابہام)
علم تشریح الاعضا ؛ ایک ایسا شعبہ علم ہے کہ جس میں جانداروں کے جسم کی ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس مقصد کے لیے ان کا جسم قطع (چیرنے) کرنے کا عمل بھی رو بہ عمل آتا ہے۔ شکل میں جلد ہٹا دینے کے بعد زیرجلدی عضلات اور ان کو ہڈیوں سے جوڑنے والے رباط (سفید رنگ میں) دیکھے جاسکتے ہیں۔

علم تشریح الاعضا، حیاتیات اور طب سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا علم ہے کہ جس میں جاندار (حیوان اور نبات دونوں) کے جسم کی ساخت اور اس میں موجود مختلف اعضاء کی بناوٹ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے زیر مطالعہ جسم کو قطع بھی کیا جاتا ہے یعنی اس کی بیرونی بناوٹ کے بعد اس کی اندرونی بناوٹ کے مطالعہ کی خاطر اس کو کاٹ کر اندرونی ساخت دیکھی جاتی ہے۔ جب زیر مطالعہ جاندار کوئی حیوان ہو تو اس کو حیوانی تشریح (zootomy) کہتے ہیں اور جب کسی پودے کا مطالعہ کیا جائے تو اس کو نباتی تشریح (phytotomy) کہتے ہیں۔

اسلوب[ترمیم]

عام طور پر کسی بھی جاندار کی تشریح کے مطالعے میں (اور خاص) طور پر طبی جامعات میں طالب علموں کی سہولت کی خاطر علم تشریح کو دو انداز میں زیرمطالعہ کیا جاتا ہے۔

  1. تشریح الناحیہ (regional anatomy) : مطالعہ کے اس اسلوب میں جسم کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اس کی تشریح کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
    1. گردن اور سر کی تشریح (تشریح راس و گردن anatomy of head and neck)
    2. سینے کی تشریح (تشریح صدر / thoracic anatomy)
    3. پیٹ کے حصے کی تشریح (تشریح شکم / abdominal anatomy)
    4. ہاتھوں کی تشریح (تشریح طرف بالا / upper limb anatomy)
    5. پیروں کی تشریح (تشریح طرف زیریں / lower limb anatomy)
  2. تشریح النظامی (systemic anatomy) : مطالعے کے اس اسلوب میں جسم کو مختلف نظاموں میں تقسیم کرکے اس کی تشریح کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
    1. خون اور اس کی نالیوں کی تشریح (تشریح دورانی نظام / anatomy of circulatory system)
    2. گردوں اور تناسلی نظام کی تشریح (تشریح بولی تناسلی نظام / anatomy of genitourinary system)
    3. ہڈیوں اور ڈھانچے کی تشریح (تشریح استخوان / anatomy of skeleton)
    4. آنت، معدہ، جگر اور دیگر غذائی اعضاء کی تشریح (تشریح نظام انہضام / anatomy of digestive system)
    5. سانس اور پھیپڑوں کے نظام کی تشریح (تشریح نظام تنفس / anatomy of respiratory system)

تاریخ[ترمیم]

ابن سینا کی کتاب قانون فی الطب کا علم تشریح سے متعلق ایک باب؛ حاشیہ پر تحریر، ابن النفیس کا کیا ہوا تذکرہ ہے۔[http://www.nlm.nih.gov/nlmhome.html

]

  • 275 قبل مسیح : ہیروفیلس (Herophilus) شائد دستاویزی ثبوت کے ساتھ قدیم ترین شخص جس نے تشریح کا ذکر کیا یا تشریح کی۔
  • 150 عیسوی : جالینوس مختلف جانوروں اور انسانی تشریح کا ذکر کرتا ہے۔
  • 776 تا 868 عیسوی : الجاحظ (ابو عثمان عمرو بن بحر) - اس نے فلسفہ اور حیوانیات پر کئی کتب تحریر کیں۔
  • 800 تا 873 عیسوی : الکندی کی تحریر کردہ طب سے متعلق کتابوں میں تشریح کے ابواب یا بند، اس نے طب کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی تحقیق و تحریر کی۔
  • 864 تا 930 عیسوی : الرازی، دیگر مضامین کے ساتھ طب اور بطور خاص طب العین (Ophthalmology) پر بھی کتب تحریر کرتا ہے۔
  • 936 تا 1013 عیسوی : الزاہراوی، طب و جراحت پر تحقیق اور کتب تحریر کرتا ہے۔
  • 980 تا 1037 عیسوی : ابن سینا، موجود طب کا خالق کہلایا جانے والا طبیب۔ اس کی تحریر کردہ طب کی کتب (بشمول القانون) میں علم تشریح کے ابواب ملتے ہیں۔
  • 1091 تا 1161 عیسوی : ابن زہر (Zohar)، اس کی تحریر کردہ طب کی کتب اور مقالات میں تشریح کے ذکر کے ابواب۔
  • 1213 تا 1288 عیسوی : ابن النفیس، دیگر اعضاء کی تشریح کے ساتھ ساتھ، ریوی دوران میں خون (Pulmonary circulation) کی کی دریافت کا سہرا اسی طبیب کے سر ہے نا کہ 16ویں صدی کے ولیم ہاروے کے۔ اس نے ابن سینا کی کتاب قانون فی الطب کی تفسیر بھی تحریر کی (دیکھیے عکس)
  • 1100 تا 1500 عیسوی : وہ زمانہ کہ جب عربی کی کتب کا لاطینی میں ترجمہ شروع ہوا اور یوں طب سمیت تمام تر سائنسی شعبہ جات کا علم 600 تا 1500 عیسوی عربی میں پھلنے پھولنے کے بعد لاطینی کے راستے یورپ کو منتقل ہوا اور اس تمام عرصہ میں علم کی شمع کو روشن رکھنے والے ہاتھ پیر جھاڑ کر سو گئے۔
  • 1490 عیسوی : اٹلی کے طبی مدارس میں انسانی جسم پر تشریح کی گئی اور پاڈوا (Padua) میں تشریح کے لیے تھیٹر کھولا گیا۔
  • 1491 عیسوی : وینس میں یورپ کی پہلی باتصویر طبی کتب کی اشاعت ہوئی۔
  • 1510 عیسوی : لیونارڈو ڈاونچی، انسانی جسم کی تشریح یا چیر پھاڑ کرتا ہے اور تصاویر بناتا ہے۔