عمر رزاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمر رزاز
(عربی میں: عمر الرزاز‎ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جلسة النواب بخصوص حادثة البحر الميت (12).jpg 

مناصب
وزیر تعلیم (اردن)   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
4 جنوری 2017  – 4 جون 2018 
وزیر اعظم اردن (42 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
4 جون 2018 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہانی ملقی 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1960 (59 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سلط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Jordan.svg اردن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت آزاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی
ہارورڈ لا اسکول
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

عمر رزاز (عربی: عمر الرزاز؛ پیدائش: 1 جنوری 1961ء) ایک اردنی سیاست دان جو ملک کے موجودہ اور 42ویں وزیر اعظم ہیں۔ آئی ایم ایف کے حمایت یافتہ پیمائش حساسیت کے خلاف ملک گیر مظاہروں کی وجہ سے اپنے پیشرو ہانی ملقی کے استعفی کے بعد انہیں پانچ جون 2018ء کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

عمر رزاز پہلے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ وہ ہانی ملقی کی حکومت میں 4 جنوری 2017ء سے وزیر تعلیم تھے۔ وزیر اعظم بننے تک وہ وزیر تعلیم ہی کے عہدے پر فائز تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عمر رزاز سنہ 1961ء میں اردن کے شہر سلط میں منیف رزاز اور لمعہ صالح بسیسو کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔[1]

تعلیم[ترمیم]

عمر رزاز نے سنہ 1979ء سے 1981ء تک جامعہ امریکی بیروت کے شعبہ انجینئری سے تعلیم حاصل کی[2] اور ان کے پاس میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (یم آئی ٹی) سے سٹی پلانگ میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔[3][4] اس کے علاوہ عمر رزاز نے پلانگ مع کچھ اقتصادیات میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنا پوسٹ ڈاکٹریٹ ہاروڈ لا اسکول سے مکمل ہے۔

نجی زندگی[ترمیم]

عمر کے والد منیف رزاز اردنی حزب البعث العربی الاشتراکی کے رکن تھے۔ سنہ 1950ء کی دہائی میں اردن کے بعثی بادشاہ حسین کے شدید مخالف تھے۔ بادشاہت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے سنہ 1950ء کی دہائی میں متعدد بار منیف رزاز کو جیل ہوئی۔[5] سنہ 1977ء میں منیف عراق چلے گئے اور وہ عراقی بعثی کے مرکزی رکن بنے۔ منیف پر اس وقت کے نئے عراقی صدر صدام حسین کے خلاف سنہ 1979ء میں درجنوں سازشیں کرنے کا الزام تھا۔ منیف رزاز نے سنہ 1984ء میں وفات پائی۔ عمر کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد کو بغداد میں ان کے گھر میں بعثیوں نے زہر دیا گیا تھا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Mo'nes Razzaz"۔ رزاز ڈوٹ کوم۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2018۔
  2. "Another AUB figure wins the confidence to lead"۔ جامعہ امریکی بیروت (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-29۔
  3. "DUSP alum appointed prime minister of Jordan | MIT Department of Urban Studies and Planning"۔ dusp.mit.edu (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-29۔
  4. "Omar Razzaz | MIT – Solve"۔ SOLVE MIT (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-04۔
  5. Moubayed 2006، صفحہ۔ 316.
  6. "In the 30th anniversary of the departure of the Arab Jordanian intellectual Munif Razzaz"۔ الغد (عربی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2018۔