فتاویٰ ہندیہ (عالمگیری)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

فتاویٰ ہندیہ: فتاویٰ عالمگیری کے نام سے مشہور ترین کتاب ہے جو مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حکم پر تالیف کی گئی۔

فتاویٰ عالمگیری کی ضرورت[ترمیم]

عالمگیر کے عہد حکومت سے قبل اسلامی دنیا میں فقہ کی کئی مستند کتابیں رائج تھیں، لیکن برصغیر پاک و ہند تو درکنار پوری اسلامی دنیا میں فقہ حنفی میں کوئی ایسی کتاب موجود نہ تھی جس سے ایک عام مسلمان آسانی کے ساتھ کسی مسئلہ کو اخذ کرسکے اوراحکام شرعیہ سے بخوبی واقف ہو سکے، خود اورنگ زیب کو اس کا خاص خیال تھا کہ تمام مسلمان ان دینی مسائل پر عمل کیسے کریں جنہیں فقہ حنفی کے علما و اکابر واجب العمل سمجھتے ہیں، لیکن مشکل یہ تھی کہ علما فقہا کے اختلاف رائے کے سبب یہ مسائل فقہی کتابوں اورفتاویٰ کے مجموعوں میں کچھ اس طرح مل گئے تھے کہ جب تک کسی شخص کو فقہ میں مہارت تامہ حاصل نہ ہو اور بہت سی مبسوط کتابیں اسے میسر نہ ہو۔ صریح مسائل، نیز حکم صحیح کا معلوم کرنااس کے لیے ناممکن تھا۔ اس خیال کے پیش نظر اورنگزیب عالمگیرنے علمائے دہلی کے علاوہ سلطنت کے اطراف سے ایسے علما جمع کیے جنہیں علم فقہ میں کافی دستگاہ تھی اورانہیں حکم دیا کہ مختلف کتابوں کی مدد سے ایک ایسی جامع اور مستند کتاب تیار کریں جس میں نہایت تحقیق و تدقیق کے ساتھ یہ تمام مسائل جمع کیے جائیں تاکہ قاضی اور مفتی نیز دیگر تمام مسلمان علم فقہ کی بہت سی کتابیں جمع کرنے اور ان کی ورق گردانی سے بے نیاز ہوجائیں۔

فتاویٰ کے مدونین[ترمیم]

جب اورنگ زیب عالمگیرنے اس امر کا عزم کر لیا اور فقہ حنفی کی ایک جامع کتاب کی شدید ضرورت محسوس کی تو پہلے انہوں نے ملک کے کہنہ مشق علما فقہا کو فرمان کے ذریعے شاہی دربار میں طلب کیا۔ گفتگو کے بعد اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی، اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا، اس علمی و تحقیقی کمٹی کے صدر شیخ نظام برہان پوری (1092ھ/ 1681ء) ملا نظام صدر منتخب ہوئے اور بنفس نفیس بادشاہ نے کمیٹی کی سرپرستی قبول کی۔ جن چار افراد کو یہ کام ذمہ کیا گیا تھا ان کے ساتھ ساتھ دس دس افراد کو اور متعین کیا گیا تھا تاکہ یہ کام انتہائی دلجمعی اور حسن خوبی سے اختتام پذیرہو۔

مدت تالیف[ترمیم]

اس کی تالیف میں آٹھ سال کا عرصہ لگا جو 1074ھ سے لیکر 1082ھ تک ہے تقریباً 40 سے 50 علما نے اس میں خدمات سر انجام دیں کیونکہ شیخ وجیہ الدین گوپاموی کی مدد کے لیے 10 علما مامور تھے، اصل کتاب عربی میں تھی اس کے ترجمہ کے لیے چلبی عبد اللہ رومی کی خدمات لی گئیں۔

فتاویٰ کے مراجع[ترمیم]

جن کتابوں سے اس میں مدد لی گئی ہے ان کی فہرست کافی طویل ہے یہاں چند اہم اور خاص کتابوں کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ’’ہدایہ، قدوری، عنایہ، مبسوط، محیط برہانی، الجامع الكبير، محیط سرخسی، مختصر المعانی، فتح القدیر، بدائع الصنائع، البحر الرائق، غایۃ البیان، السراج الوہاج، الدر المختار، الکافی، قتیۃ المنیہ، برجندی، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ تاتارخانیہ، التجنیس والمزید۔‘‘[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 15 صفحہ 145 دانش گاہ پنجاب لاہور
  2. قاموس الفقہ ،جلد اول صفحہ 383،خالدسیف اللہ رحمانی،زمزم پبلشر کراچی