ویلنٹائن ڈے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سینٹ ویلنٹائن ڈے
Saint Valentine's Day
Antique Valentine 1909 01.jpg
قدیم ویلنٹائن کارڈ
عرفیت ویلنٹائن ڈے
(Valentine's Day)
سینٹ ویلنٹائن کی دعوت
(Feast of Saint Valentine)
منانے والے بہت سے ممالک میں لوگ;
آنگلیکان کمیونین (دیکھیے فہرست آنگلیکان چرچ کیلنڈر), مشرقی آرتھوڈوکس چرچ (دیکھہے مشرقی آرتھوڈوکس عبادات کیلنڈرلوتھری چرچ (دیکھیے سینٹ کیلنڈر (لوتھران))
قسم ثقافتی، عیسائی، تجارتی
اہمیت سینٹ ویلنٹائن کی دعوت کا دن; محبت اور پیار کی تقریبات
رسومات تہنیتی کارڈ اور تحائف بھیجنا, ڈیٹنگ، چرچ کی خدمات
تاریخ فروری 14 (کیتھولک چرچ کی طرف سے مقرر); جولائی 7 (آرتھوڈوکس چرچ کی طرف سے مقرر)
دورانیہ 1 دن
تکرار سالانہ
Shrine of St. Valentine in Whitefriar Street Carmelite Church in Dublin, Ireland
Saint Valentine of Terni and his disciples
سینٹ ویلنٹائن سینٹ لوسیلا کو بپتسمہ دیتے ہوِئے

سینٹ ویلنٹائن ڈے (Saint Valentine's Day) جسے ویلنٹائین ڈے (Valentine's Day) اور سینٹ ویلنٹائن کی دعوت (Feast of Saint Valentine) [1] بھی کہا جاتا ہے محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے اسے ہر سال 14 فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔اس دن نوجوان شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس کے علاوہ لوگ بہن، بھائیوں، ماں، باپ، رشتے داروں اور دوستوں کو پھول دے بھی اس دن کی مبارکباد دیتے ہیں۔

ابتدا

ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کی ابتدا کس طرح ہوئی ؟ اس کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں تاہم ان میں یہ بات مشترک ہے :

  • ”ویلنٹائن ڈے (جو ۱۴/ فروری کو منایا جاتا ہے)، محبت کرنے والوں کے لئے خاص دن ہے۔“ [2]
  • ”اسے محبت کرنے والوں کے تہوار(Lover's Fesitival) کے طور پر منایا جاتا ہے۔“[3]

سینٹ ویلنٹائن

سینٹ ویلنٹائن ایک عیسائی راہب تھا۔اس سے بھی ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کچھ باتیں جڑی ہیں۔ اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے؟ اور سینٹ ویلنٹائن سے اس کی کیا نسبت بنتی ہے ، اس کے بارے میں بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس لائق توجہ ہے :

”ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا (Luper Calia) کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کردیا۔“ [4]۔

14 فروری کا یہ ’یومِ محبت‘ سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے بارے میں محمد عطاء اللہ صدیقی رقم طراز ہیں :

”اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لئے ایک دن ویلن ٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ ۱۴ فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کردیا۔ چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی عیسائی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئے۔ بینکاک میں تو ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کردیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔“

ویلنٹائن کا جرم قبولیت مسیح

قدیم رومی اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے تھے ، اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومیوں نے پوپ ویلنٹآئن کو بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنےکے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو یوم شہید محبت کہہ کر اپنی عید بنالی  [حوالہ درکار]

ویلنٹائن کا جرم شادی کرانا

اس کی تاریخ عیسائی راہب ولنٹینس یا ویلنٹائن سے یوں جڑی ہے کہ جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی ، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی [5][6]۔

یونانی دیو مالا

یہ دن یعنی 14 فروری کا دن رومی دیوی یونو (جو یونانی دیوی دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن مانا جاتا ہے جب کہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا لیسیوس کا مقدس دن ہے ( ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا جو آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے) ۔ [حوالہ درکار]

ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں دلائل

ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں جو دلائل دئیے جاتے ہیں، اُن کےمطابق ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن۔ ویلنٹائن ڈے منانے والوں کی رائے یہ ہے کہ :

  • ”اس روز اگر خاوند اپنی بیوی کو از راہِ محبت پھول پیش کرے یا بیوی اپنے سرتاج کے سامنے چند محبت آمیز کلمات کہہ لے تو اس میں آخر حرج کیا ہے؟“

معاشرتی حوالے سےمخالفت میں دلائل

اسلامی نقطہ نظر

اسلام میں غیرمردوں اور غیر عورتوں کا ایک دوسروں سے ملنا اور اظہارمحبت کرنا منع ہے۔

مسیحی نقطہ نظر

چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2016ء بھی عیسائی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئے۔ اسی کی کڑی کے طور پر بینکاک میں ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کردیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔

دنیا بھر میں تقریبات

  • حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپ میں اس دن کو جوش و خروش سے منانے والوں میں ہم جنس پرستی میں مبتلا نوجوان لڑکے (Gay)اورلڑکیاں پیش پیش تھیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سان فرانسسکو میں ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر ہم جنس پرست خواتین و حضرات کے برہنہ جلوس دیکھے۔ جلوس کے شرکاء نے اپنے سینوں اوراعضائے مخصوصہ پر اپنے محبوبوں کے نام چپکا رکھے تھے۔ وہاں یہ ایسا دن سمجھا جاتا ہے جب ’محبت‘ کے نام پر آوارہ مرد اور عورتیں جنسی ہوسناکی کی تسکین کے شغل میں غرق رہتی ہیں۔

پاکستان

  • پاکستان میں گذشتہ دو تین سالوں سے اس دن کے جشن منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے، حالانکہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا معتدبہ حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے۔یہاں پر ویلنٹائن ڈے کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے مقبول ہوا۔ شہری علاقوں میں اسے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔پھولوں کی فروخت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔یہی حال کارڈز کی فروخت کا ہوتا ہے۔.[7]

2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی۔[8]

بھارت

بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل نے ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو سنگین نتایج کی دھمکیاں دیتے ہوئے انھیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔[9]

ایک اور انتہاء پسند تنظیم ہندو مہاسبھا نے اعلان کیا ہے کہ وہ کُھلے عام آئی لو یو کہنے والے جوڑوں کی زبردستی شادی کروائے گی۔ [10]

اسلامی ممالک اور سیاسی جماعتوں سے متصادم

کچھ اسلامی ممالک میں اس دن اس رسم کیخلاف مہم بھی چلائی جاتی ہے۔[11]

سعودی عرب

2002اور2008 میں سعودی پولیس نے ویلنٹائن کے حوالے سے کسی بھی چیز کی فروخت پر پابندی لگا دی[12][13] ۔اس پابندی نے وہاں ایک کالا بازار (بلیک مارکیٹ) بنا دی جہاں ویلنٹائن کے پھول اور دیگر چیزیں ملتی تھی[13][14]۔ 2012 میں مذہبی پولیس نے 140 مسلمانوں کو یہ تہوار مناتے ہوئے پکڑا اور دوکانوں پر فروخت ہوتے تمام پھول قبضے میں لے لیے۔[15] سعودی عرب میں مسلمان یہ تہور نہیں منا سکتے جبکہ غیر مسلم گھروں میں اسے منا سکتےہیں۔[16]

حوالہ جات

  1. Chambers 21st Century Dictionary, Revised ed., Allied Publishers, 2005 ISBN 978-0-550-14210-8
  2. انسائیکلو پیڈیا بک آف نالج
  3. انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا
  4. اقتباس از:ویلنٹائن ڈے‘ از محمد عطاء اللہ صدیقی، ص۳
  5. ویلنٹائن کون تھا؟
  6. سینٹ ویلنٹائن۔ بی بی سی
  7. Flower sellers await Valentine's Day. The Nation. 2010-02-08. http://www.nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Regional/Islamabad/08-Feb-2010/Flower-sellers-await-Valentines-Day 
  8. Islamabad High Court bans Valentine's day celebrations in public places
  9. بھارت: ویلنٹائن ڈے منانے والوں کی پٹائی لگانے کی تیاریاں
  10. http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/World/260496
  11. "ویلنٹائن ڈے: ذرا بچ کے بچ کے بچ کے"، http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/02/110213_valentine_malaysia_rza.shtml. 
  12. "Cooling the ardour of Valentine's Day". BBC News. 3 February 2002. http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/1818642.stm. 
  13. ^ 13.0 13.1 "Saudis clamp down on valentines". BBC News. 11 February 2008. http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7239005.stm. 
  14. Meris Lutz (13 February 2010). "Saudi officials put the squeeze on Valentine's Day. Saudi Arabia's religious police have banned anything related to the lovers holiday and warned store owners not to sell such merchandise. But many know how to circumvent the ban". LA Times 
  15. BBC (15 February 2012). "Religious police swoop on Valentine's Day lovers". ABC News 
  16. Fatima Muhammad and Mariam Nihal (14 February 2013). "Police, Hai'a deny special Valentine's Day crackdowns". Saudi Gazette 

بیرونی روابط