یوآن خاندان کے دور حکومت میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سونگ خاندان چین پر 960ء سے 1279ء تک بر سر اقتدار رہا۔ عہدِ زوال جب قریب بڑھتا گیا تو یوآن خاندان تخت و تاج کی طرف بڑھا اور سونگ خاندان کی حکومت 1279ء میں ختم ہو گئی۔ یوآن خاندان اصلاً مغل تھا۔ یوآن خاندان نے 1279ء سے 1368ء تک چین پر حکومت کی۔

یوآن خاندان میں اسلام کے پھیلاؤ کی تفصیلات[ترمیم]

یوآن خاندان چونکہ مغل تھا اور ابتدائی ایام میں یہ تاتار کہلاتے تھے۔ اِن کے چین پر قابض ہوتے ہی مسلم آبادیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور تبلیغ اسلام میں نمایاں اور واضح فرق دیکھا گیا۔ چنگیز خان کے داخلہ ٔ چین میں اُس وقت اُس کے ماتحت جو فوج تھی، اُن میں اکثر مسلمان قبیلہ تونگان (دونغان) سے تھے۔ اُس کے جانشین اوغدائی خان کی فوج کے تقریباً سبھی لشکر مسلمان تھے۔ یہ لوگ مشرقی چینی ترکستان میں آباد ہوئے اور تیانشان کے شمالی علاقے میں جن مسلمانوں نے سکونت اختیار کی وہ چغتائی خانیت سے تعلق رکھتے تھے جن کی اصل مغل تھی۔ یوآن خاندان کے امرا میں مسلمانوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ تاریخ یوآن میں درج ہے کہ شہنشاہ شین چونگ (عہد حکومت: 1312ء) نے ایک شخص حسن نامی کو اپنا وزیر مقرر کیا مگر اُس نے پہلے عہدہ قبول نہ کیا کیونکہ حسن مغل دستور سے واقف تھا کہ دربار میں عموماً دو وزیر ہوتے تھے، ایک وزیر ایمن اور دوسرا ایسر۔ وزیر ایمن کا مرتبہ وزیر ایسر سے بلند ہوتا تھا اور چونکہ شہنشاہ کو اصرار تھا کہ حسن کو وزیر بنایا جائے، اِسی لیے حسن نے صرف وزیر ایسر کا عہدہ قبول کر لیا۔ وزیر ایمن کے لیے شہنشاہ نے ایک دوسرے شخص بطاش نامی ترک کو منتخب کیا تھا۔ یوآن خاندان کے عہد میں مجلسِ شوریٰ جو صوبہ جاتی حکومتوں سے متعلق ہوتی تھی، شہنشاہ عموماً اُس میں مغل مسلمانوں کو مقرر کیا کرتا تھا۔ اگر اُن میں کوئی قابل اور لائق آدمی نہ مل سکتا تو ترک مسلمان منتخب کر لیا جاتا۔ اور اگر ترک مسلمان بھی اِس عہدے کے لائق نہ ملتے تو تب ہان مسلمانوں کا انتخاب ہوتا تھا۔ عام طور پر ہانیوں کو چینی مسلمان کہتے ہیں۔ 1258ء میں سقوط بغداد میں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا اور بغداد ہلاکو خان کے ہاتھوں تباہ ہوا۔ دولت اسلامیہ کے مرکز میں چونکہ علمی زِندگی بالکل فنا ہوچکی تھی اور سوائے کھنڈر شہر کے بغداد کی حیثیت کچھ بھی باقی نہ رہ گئی تھی۔ ایسی حالت میں چین میں تبلیغ اسلام وسیع پیمانے پر جاری رہی۔ اِس زمانے میں عربی علوم و فنون کو چین میں مروج ہوئے اور علم طب، علم نجوم اور فنِ سپہ گری کے شعبہ جات پر مسلمان فائز ہوتے رہے۔[1]

محکمہ ٔ تاریخ پر مسلمانوں کا مقام[ترمیم]

یوآن خاندان کے میں محکمہ ٔ تاریخ نویسی پر جو 1227ء میں قائم کیا گیا تھا، میں جب کام بڑھتا گیا تو شہنشاہ نے چینیوں اور مسلمانوں سے پانچ افسران منتخب کرکے اِس ادارے میں مقرر کیے کہ تاریخ مرتب کرنے میں وہ مدد کریں۔ 1314ء میں مسلمانوں کے لیے دارالاستفتاء کی بنیاد رکھی گئی جن میں بڑے بڑے مسلمان علما مقرر ہوئے۔ محکمہ ٔ فوج میں بھی ہزاروں مسلمان کام کرتے تھے جو فن سپہ گری سے واقف تھے۔ 1346ء میں توپچی کا عہدہ بھی مسلمانوں کے سپرد کر دیا گیا اور 1353ء میں محکمہ الفوج والبحر بھی قائم ہوا جس میں مسلمان فوجوں کے لیے درجہ ٔ اول کے دستے موجود تھے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بدر الدین چینی: چینی مسلمان، صفحہ 25/26۔ مطبوعہ 1935ء
  2. بدر الدین چینی: چینی مسلمان، صفحہ 26۔ مطبوعہ 1935ء