یہوداہ اسکریوتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یہوداہ اسکر یوتی کی خودکشی کا منظر

یہوداہ اسکریوتی یا اسخریوطی، عبرانی میں یہ نام "ایش قریتی" تھا جو بگڑ کر اسکریوتی ہو گيا۔ حضرت عیسی المسیح کا ایک حواری[1]،یہ شمعون اسکر یوتی کا بیٹا تھا۔ اس کے بارے عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے ہی کچھ رقم کے عوض مسیح کی مخبری کی تھی جس پر بعد میں شرمساری کی وجہ سے خودکشی کر لی۔[2]


یہوداہ بطور حواری[ترمیم]

بارہ حواریوں میں یہ واحد شخص تھا جو گلیلی نہ تھا۔[3]یہ ایک تیز دماغ شخص تھا، اس کو حواریوں میں سے خزانچی بنایا گيا۔[4]اس نے قریب ایک سال مسیح کے ساتھ بسر کیا، اس کی غداری کی بنیاد ظاہر ہے کہ لالچ تھی اس لئے یہ جھوٹا ایمان لایا تھا یہ سمجھتے ہوئے کہ مسیح کوئی دنیاوی سلطنت قائم کریں گئے، مگر جب یہ سب نہ ہوتا ہوا نظر آیا تو اس نے مسیح سے غداری کر کے مال کمانے کی کوشش کی۔

مسیح کی مخبری[ترمیم]

چاروں ہی اناجیل میں مسیح کو دھوکے کے ساتھ پکڑوانے کا ذکر ہوا ہے۔ [5][6][7][8]اناجیل کے مطابق گتسمنیکے باغ میں حواری اور مسیح چھپے ہوئے تھے، کہ ایک دم ہی کچھ لوگ آگئے، جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور تلواریں تھیں۔اس وقت یہوداہ اسکر یوتی آگئے آیا اور جس طرح اس نے ان لوگوں کو بتا رکھا تھا کہ میں جس کا بوسہ لوں وہ مسیح ہو گا ، وہ آگئے آیا اور مسیح کا بوسہ لیا پھر مسلسل بوسے لئے۔ اس دوران ہی وہ لوگ مسیح کو پکڑ کر لے گئے۔ اس غداری کے عوض اس نے ان لوگوں سے 30 چاندی کے سکے لئے تھے۔اس کام پر وہ نادم ہوا اور جا کر ایک باغ میں خودکشی کر لی۔[9]

یہوداہ اسکر یوتی کی انجیل کا پہلا صفحہ

یہوداہ سے منسوب کتب[ترمیم]

  • یہودا کی انجیل، یہ عہد نامہ جدید میں شامل نہیں،[10] کیونکہ یہودا اسکر یوتی مسیحیوں کے نزدیک ایک غدار شخص ہے، جس نے اناجیل کے مطابق مسیح کو پکڑوایا تھا۔[11]اس انجیل کے اوراق مصر میں 1970ء میں ملے تھے۔اس انجیل میں واقعہ صلیب کا رد کیا گیا ہے، اسی طرح اس میں مسیح کے خدا ہونے کے مسیحی عقیدے کی نفی کی گئ ہے۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ قاموس الکتاب، صفحہ 1186
  2. ^ متی کی انجیل، باب27، ورس 3 تا 5
  3. ^ قاموس الکتاب، صفحہ 1186
  4. ^ یوحنا کی انجیل، 4:12
  5. ^ متی کی انجیل، باب 26
  6. ^ مرقس کی انجیل، باب 14
  7. ^ لوقا کی انجیل، باب 22
  8. ^ یوحنا کی انجیل، باب 18
  9. ^ متی کی انجیل، 3:27
  10. ^ http://www.livescience.com/28506-gospel-judas-ink-authenticity.html
  11. ^ متی کی انجیل، 16:32
  12. ^ جریدہ نیشنل جیو گرافک، مئی 2006