الباسط
الباسط اللہ تعالیٰ کے اچھے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کا مطلب ہے کشادگی دینے والا۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق اپنے بندوں کے رزق، رحمت اور دلوں کو کشادہ کرتا ہے اور اپنے فضل و کرم کو عام فرماتا ہے۔[1][2]
لغوی اور اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]لغوی معنی
[ترمیم]عربی میں الباسط کا لفظ فعل بَسَطَ سے بنا ہے اور یہ اسمِ فاعل ہے۔ بسط کا مطلب پھیلانا، کشادہ کرنا اور فراخی دینا ہے اور یہ قبض (سمیٹنے اور تنگ کرنے) کی ضد ہے۔[3][2] عربی میں ہر وسیع اور پھیلی ہوئی چیز کو بسیط یا مبسوط کہا جاتا ہے اور زمین کو بھی البسیطہ کہتے ہیں۔[3][4]
لغت میں الباسط عموماً اپنے مقابل نام القابض کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ عربی محاورے فلان قبض أمري وبسطه کا مطلب ہے کہ فلاں شخص کے ہاتھ میں میرے سارے معاملات کا سمٹنا اور کھلنا ہے۔ جب یہ دونوں لفظ ساتھ بولے جائیں تو مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام امور کی تدبیر اسی ایک ذات کے پاس ہے۔[5]
اصطلاحی معنی
[ترمیم]عقیدے کی اصطلاح میں الباسط وہ ذات ہے جو اپنی مخلوق پر اپنی رحمت، رزق اور عطا کو کشادہ کرتی ہے اور اپنی حکمت کے مطابق بندوں کے لیے رزق اور احسان کے دروازے کھولتی ہے۔[1][6]
ابن جریر طبری کے مطابق اس سے مراد وہ ذات ہے جو اپنی مشیت سے بندوں پر رزق وسیع کرتی ہے۔ خطابی کے نزدیک وہ اپنی رحمت سے رزق میں وسعت دیتی ہے اور بندوں کی مصلحت کے مطابق حکمت سے کام لیتی ہے۔ حلیمی کے نزدیک وہ بندوں پر اپنا فضل پھیلا دیتی ہے اور ان کی ضرورت سے بڑھ کر عطا کرتی ہے۔[1] ابن الاثیر اور عبد الرحمن بن ناصر السعدی کے مطابق وہ اپنی رحمت اور رزق سے بندوں کے دل اور روزی کو کشادہ کرتا ہے۔[6][7]
قرآن و حدیث میں ذکر
[ترمیم]قرآن مجید میں
[ترمیم]قرآن مجید میں الباسط اکیلے نام کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ اس کی صفت کثرت سے افعال کی شکل میں آئی ہے۔[8][4] چند مثالیں یہ ہیں:
- ﴿وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ (سورۃ البقرہ)[1]
- ﴿بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ﴾ (سورۃ المائدہ)[9]
- ﴿اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ﴾، جو سورۃ الرعد، سورۃ الاسراء، سورۃ العنکبوت، سورۃ الزمر اور سورۃ الشوریٰ میں آیا ہے۔[9][10][11]
احادیث میں
[ترمیم]احادیثِ نبوی میں یہ نام صراحت کے ساتھ آیا ہے۔[12] انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں، آپ ہمارے لیے نرخ مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق، وإني لأرجو أن ألقى الله وليس أحد منكم يطلبني بمظلمة في دم ولا مال، یعنی نرخ مقرر کرنے والا، تنگی و کشادگی دینے والا اور رزق دینے والا اللہ ہی ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال کے کسی ظلم کا مطالبہ نہ کرے۔[12][4] یہ روایت سنن ابی داود وغیرہ میں آئی ہے۔[13][14]
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے: إن الله عز وجل يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار، ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل، یعنی اللہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کر لے اور دن کو پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ گار توبہ کر لے۔[10]
ابن قیم الجوزیہ اور محمد بن صالح العثیمین نے اس نام کو سنتِ نبوی سے ثابت اسماء میں شمار کیا ہے۔[4]
القابض الباسط: جوڑے والے نام
[ترمیم]اسماء الحسنیٰ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنے مقابل نام کے ساتھ جوڑے کی صورت میں بولے جاتے ہیں۔ انھیں الاسماء المزدوجہ یا الاسماء المتقابلہ کہا جاتا ہے اور الباسط انہی میں سے ہے، جس کا جوڑ القابض ہے۔ ایسے دوسرے جوڑے المانع المعطی اور الضار النافع ہیں۔[15][16]
ابن قیم، خطابی، ابن الوزیر، زجاج اور سعدی کے مطابق ان دونوں ناموں کو ملا کر القابض الباسط کہنے ہی سے پوری تعریف ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ اللہ کی کامل قدرت اور ربوبیت دونوں صفات کے مل کر آنے سے واضح ہوتی ہے۔[17][18][5][6] القابض کو اکیلا بولنے سے صرف محرومی یا تنگی کا وہم ہو سکتا ہے، جبکہ الباسط کے ساتھ ملانے سے قدرت، حکمت، عطا و منع اور عدل و فضل سب کا اظہار ہو جاتا ہے۔[6][19] ابن قیم نے اپنے اشعار میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔[20][7]
اللہ اپنے عدل، حکمت اور فضل کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے رزق روک لیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ کر دیتا ہے۔[2]
صفتِ بسط کے مظاہر
[ترمیم]علما نے اللہ کی صفتِ بسط کے کئی مظاہر بیان کیے ہیں۔ یہ صفت اللہ کی ان صفات میں سے ہے جو اس کے ارادے اور مشیت سے متعلق ہیں۔[9][21]
رزق میں کشادگی
[ترمیم]اللہ اپنی حکمت اور علم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق میں فراخی دیتا ہے۔ یہ کشادگی صرف مال و دولت تک محدود نہیں، بلکہ صحت، عافیت، اولاد اور دوسری نعمتیں بھی اس میں شامل ہیں۔[9][22]
ہدایت اور دل کی کشادگی
[ترمیم]معنوی اعتبار سے اس صفت کا بڑا مظہر یہ ہے کہ اللہ بندے کے دل کو اسلام، ایمان اور معرفت کے لیے کھول دیتا ہے۔ قرآن میں ہے: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلَامِ﴾۔[23][2]
رحمت اور توبہ کی کشادگی
[ترمیم]اللہ اپنی رحمت کو ہر چیز پر وسیع رکھتا ہے اور گناہ گار بندوں کے لیے مغفرت اور توبہ کا دروازہ دن رات کھلا رکھتا ہے۔[10][2]
دستِ کرم کی وسعت
[ترمیم]آیت ﴿بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ﴾ کا مطلب ہے کہ اللہ کی عطا اور سخاوت وسیع ہے اور وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ علما کے مطابق مخلوق کا ہاتھ پھیلانا محتاجی کی علامت ہے، جبکہ اللہ کا ہاتھ پھیلانا اس کی عظمت اور بے نیازی کے شایانِ شان ہے۔[24][25]
ایمانی اور عملی اثرات
[ترمیم]اس نام پر ایمان رکھنے سے بندے کی سوچ اور عمل پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:[7]
- توحید اور مخلوق سے بے نیازی: بندہ یقین رکھتا ہے کہ رزق، رحمت اور ہدایت کی کشادگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ مخلوق کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ جو کھول دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو روک لے اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔[26]
- قناعت اور رضا: مال کی وسعت یا تنگی اللہ کی محبت یا ناراضی کا پیمانہ نہیں بلکہ اس کی حکمت اور آزمائش کا حصہ ہے۔[27] کبھی اللہ رزق اس لیے تنگ رکھتا ہے کہ بندہ سرکشی میں نہ پڑ جائے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأَرْضِ﴾۔[28][29]
- شکر اور صبر: کشادگی کے وقت بندہ سرکشی سے بچ کر شکر کرتا ہے اور تنگی کے وقت صبر اختیار کرتا ہے۔[30][22]
- توکل اور دعا: بندہ اللہ پر بھروسا کرتا ہے اور دعا میں اس نام کے واسطے سے مانگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں ہے: اللهم لا قابض لما بسطت، ولا باسط لما قبضت، یعنی اے اللہ! جسے تو کھول دے اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے تو بند کر دے اسے کوئی کھولنے والا نہیں۔[9][29][14]
مزید دیکھیے
[ترمیم]== حوالہ جات ==
- 1 2 3 4 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 461
- 1 2 3 4 5 عبد الرحمن بن ناصر السعدي (2000)۔ تفسير أسماء الله الحسنى۔ المدينة المنورة: الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة۔ ج 1۔ ص 171
- 1 2 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 459
- 1 2 3 4 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 460
- 1 2 إبراهيم بن السري الزجاج (1974)۔ تفسير أسماء الله الحسنى۔ دمشق: دار الثقافة العربية۔ ج 1۔ ص 40
- 1 2 3 4 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 462
- 1 2 3 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 463
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 160
- 1 2 3 4 5 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 464
- 1 2 3 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 468
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (2019)۔ المسائل العقدية المتعلقة باسم الله عز وجل۔ المدينة المنورة: دار منار التوحيد للنشر۔ ج 1۔ ص 141
- 1 2 محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 143
- ↑ محمد بن صالح العثيمين (2001)۔ القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنى۔ المدينة المنورة: الجامعة الإسلامية۔ ج 1۔ ص 16
- 1 2 كاملة الكواري (2002)۔ المجلى في شرح القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنى۔ بيروت: دار ابن حزم۔ ج 1۔ ص 160
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 213
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 325
- ↑ ابن قيم الجوزية (2003)۔ فائدة جليلة في قواعد الأسماء الحسنى۔ الكويت: غراس۔ ج 1۔ ص 22
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 326
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (2019)۔ المسائل العقدية المتعلقة باسم الله عز وجل۔ المدينة المنورة: دار منار التوحيد للنشر۔ ج 1۔ ص 80
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (1999)۔ معتقد أهل السنة والجماعة في أسماء الله الحسنى۔ الرياض: أضواء السلف۔ ج 1۔ ص 329
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (2019)۔ شرح القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنى۔ المدينة المنورة: دار منار التوحيد للنشر۔ ج 1۔ ص 149
- 1 2 محمد الحسن الددو الشنقيطي (2010)۔ سلسلة الأسماء والصفات۔ الدوحة: الشبكة الإسلامية۔ ج 6۔ ص 14
- ↑ نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 469
- ↑ محمد بن خليفة التميمي (2019)۔ شرح القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنى۔ المدينة المنورة: دار منار التوحيد للنشر۔ ج 1۔ ص 202
- ↑ محمد الحسن الددو الشنقيطي (2010)۔ سلسلة الأسماء والصفات۔ الدوحة: الشبكة الإسلامية۔ ج 5۔ ص 13
- ↑ نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 466
- ↑ نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 474
- ↑ نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 465
- 1 2 نوال عبد العزيز العيد (2020)۔ موسوعة شرح أسماء الله الحسنى۔ الرياض: دار الحضارة۔ ج 3۔ ص 472
- ↑ عبد الرحمن بن ناصر السعدي (2000)۔ تفسير أسماء الله الحسنى۔ المدينة المنورة: الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة۔ ج 1۔ ص 213
اسماء الحسنیٰ |
|---|
| اللہ • الرحمٰن • الرحیم • الملک • القدوس • السلام • المؤمن • المہیمن • العزیز • الجبار • المتکبر • الخالق • الباری • المصور • الغفار • القہار • الوہاب • الرزاق • الفتاح • العلیم • القابض • الباسط • الخافض • الرافع • المعز • المذل • السمیع • البصیر • الحکم • العدل • اللطیف • الخبیر • الحلیم • العظیم • الغفور • الشکور • العلی • الکبیر • الحفیظ • المقیت • الحسیب • الجلیل • الکریم • الرقیب • المجیب • الواسع • الحکیم • الودود • المجید • الباعث • الشہید • الحق • الوکیل • القوی • المتین • الولی • الحمید • المحصی • المبدی • المعید • المحیی • الممیت • الحی • القیوم • الواجد • الماجد • الواحد • الاحد • الصمد • القادر • المقتدر • المقدم • المؤخر • الاول • الآخر • الظاہر • الباطن • الوالی • المتعال • البر • التواب • المنتقم • العفو • الرؤف • المقسط • الجامع • الغنی • المغنی • المانع • الضار • النافع • النور • الہادی • البدیع • الباقی • الوارث • الرشید • الصبور • مالک الملک • ذو الجلال و الاکرام |
| یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے |