المصور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
المصور

المصور اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ مخلوق کی ایسی تصویری علامات بنانے والا کہ ان میں باہم امتیاز ہو جائے۔ صورت بنانے والا۔ تصویر بنانے والا۔

معانی[ترمیم]

المصورکسی مادی چیز کے ظاہر ی نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیزوں سے اس کا امتیاز ہو سکے۔[1]
صورت گری کرنے والا۔ وہی ہے جو اپنے مخلوق کی صورت گری کرتا ہے اور اس نے انسان کو ایک خاص صورت بخشی ہے۔

قرآن میں ذکر[ترمیم]

  • Ra bracket.png هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاء لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ Aya-6.png La bracket.png

وہی ہے جو رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے صورت گری کرتا ہے۔

  • Ra bracket.png وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ Aya-11.png La bracket.png

ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی۔

نیز فرمایا :

  • Ra bracket.png اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاء بِنَاء وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ Aya-64.png La bracket.png

اور تمہاری صورت گری کی تو اچھی صورتیں بنائیں۔

مفہوم[ترمیم]

شروع میں اللہ نے اندازہ کیا ‘ پھر وجود کا جامہ پہنایا ‘ پھر صورت گری کی۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔

  • ایک یہ کہ وہ رحم مادر میں نطفہ اور مضغہ پر نقش و نگار بناتا ہے کسی کے نقوش تیکھے، کسی کے بھدے، کسی کی آنکھیں موٹی، کسی کی چھوٹی، کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا۔
  • دوسرا پہلو یہ کہ ہر جاندار کی شکل و صورت الگ الگ ہے۔ انسان کی صورت الگ ہے، گھوڑے کی الگ، شیر کی الگ، بکری کی الگ، وغیرہ وغیرہ،
  • تیسرا پہلو نباتات اور مختلف قسم کے پھولوں کی شکل و صورت ہے۔ غرض کہ ہر چیز کو اللہ نے ایک صورت عطا فرمائی اور وہ بڑی اچھی صورت بنانے والا ہے۔[2]

صحاح میں ہے کہ تصویر ‘ اشیاء کے ان نقوش کو کہتے ہیں جن کی وجہ سے ہر چیز دوسری سے ممتاز ہوجاتی ہے ‘ اس کی دو قسمیں ہیں ‘ محسوس اور محض عقلی۔ غیر محسوس ‘

محسوس اور محض عقلی[ترمیم]

محسوس کو تو تمام لوگ خواہ خاص ہوں یا عوام بلکہ ہر انسان اور بہت سے حیوانات جان لیتے ہیں ‘ سمجھ لیتے ہیں جیسے انسان کی ‘ گھوڑے کی اور جمادات کی محسوس صورتیں معاینہ کے بعد ہر شخص جان لیتا ہے میں کہتا ہوں انہی محسوس صورتوں کے ذریعہ سے ہی زید ‘ عمرو سے ممتاز ہوتا ہے۔

غیر محسوس[ترمیم]

غیر محسوس تصویر کو صرف خاص خاص لوگ جانتے ہیں۔ عوام کے ادراک کی رسائی عقل وہاں تک نہیں ہوتی۔ جیسے انسان کے امتیازی افعال اور مختلف اشیاء کی وہ اندرونی خصوصیات جن کی وجہ سے ایک چیز دوسری چیز سے ممتاز ہوجاتی ہے۔[3]

اس کی صورت گری کا کمال یہ ہے کہ اربوں انسانوں کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وہ روزانہ پیدا ہونے والے کثیر التّعداد بچوں کو نئی نئی شکلیں ( Design) دیتا رہتا ہے اس کے پاس ڈیزائن (Shapes) کی کوئی کمی نہیں۔ وہ ایک ڈیزائن کو اسی طرح دہراتا نہیں بلکہ اس میں فرق کرتا ہے تاکہ افراد ایک دوسرے کو شناخت کرسکیں اور اس کی کمال تخلیق کی نشانی قرار پائے۔

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  2. تفسیر تیسیر القرآن عبد الرحمن کیلانی
  3. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے